Main Icon

والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 345

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسِ بْنِِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْہُ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ جَرِيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْہُ فِي سَفَرٍ فَكَانَ يَخْدُمُنِيْ فَقُلْتُ لَهُ : لَا تَفْعَلْ فَقَالَ : اِنِّيْ قَدْرَاَيْتُ الْاَنْصَارَ تَصْنَعُ بِرَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا آلَيْتُ عَلَی نَفْسِی اَنْ لَا اَصْحَبَ اَحَدًا مِّنْهُمْ اِلَّا خَدَمْتُهُ. ( )

عن انس بن مالك رضي الله عنہ قال : خرجت مع جرير بن عبد الله البجلي رضي الله عنہ في سفر فكان يخدمني فقلت له : لا تفعل فقال : اني قدرايت الانصار تصنع برسول الله صلى الله عليه وسلم شيئا آليت علی نفسی ان لا اصحب احدا منهم الا خدمته. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سیدناانس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں حضرت جریربنعبداللہبَجَلِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے ساتھ سفرپرگیاوہ میری خدمت کیاکرتے تھے ، میں نے اُن سے کہا : آپ ایسا نہ کیا کریں ۔ اُنہوں نے کہا : میں نے انصارکودیکھا ہے وہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ اسی طرح پیش آتے تھے تومیں نے قسم کھائی ہے کہ انصارمیں سے جس کا بھی رفیق سفر بنوں گا اس کی خدمت کروں گا ۔ ‘‘

شرح حدیث

حدیث پاک کی باب سے مناسبت :انصاری صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانمدینہ منورہ کے رہائشی تھے اور انہوں نے مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے آنے والے مہاجر صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے ساتھ نہایت ہی خیر خواہی کی اور ہمیشہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تعظیم اور ادب واحترام کیا کرتے تھے ۔ انصاری صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا ذکر خیر خود قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں فرمایا گیا ہے ۔ انصاری صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانحضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جانثار دوست تھے ۔ اس حدیث پاک میں اس بات کا ذکر ہے کہ حضرت سیدنا جریر بنعبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسرکارِ دو عالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دوستوں یعنی انصاری صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی خدمت کیا کرتے تھے ، ان کے ساتھ حُسنِ سلوک کیا کرتے تھے ، ان کی خیر خواہی کیا کرتے تھے اور یہ باب معزز لوگوں کے دوستوں کے ساتھ حُسنِ سلوک کرنے کے بارے میں بھی ہے ، اسی لیے علامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے یہ حدیثِ پاک اِس باب میں بیان فرمائی ہے ۔
¥
دورانِ سفر مسلمانوں کی خیر خواہی :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! معلوم ہوا کہ دورانِ سفر اپنے رُفقاء اور مسلمان بھائیوں کی خیر خواہی کرنا صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سنت ہے ۔ اس ضمن میں دو حکایات ملاحظہ کیجیے :
( 1 ) حضرت سَیِّدُنا رِباح
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُجنہیں بارگاہِ مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سفینہ ( یعنی کشتی ) کا لقب اس وقت عطا ہوا جب دورانِ سفر ایک تھکے ہارے شخص نے اپنا سامان بھی اُن کے کندھوں پر

ڈال دیا حالانکہ یہ پہلے ہی بہت زیادہ سامان اٹھائے ہوئے تھے ۔ یہ دیکھ کر حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خوش طبعی اورمزاح کے طور پر ان سے فرمایا : ”اَنْتَ سَفِیْنَۃٌیعنی تم تو کشتی ہو ۔ “ اس دن سے آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا یہ لقب اتنا مشہور ہوگیا کہ لوگ آپ کا اصلی نام ہی بھول گئے ۔ ( )
( 2 ) حضرتِ سَیِّدُنا ابو علی رِباطی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سَیِّدُناعبدﷲرازیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکی صحبت اختیار کی ، وہ جنگل میں جا رہے تھے ۔ انہوں نے مجھ سے فرمایا : ’’میں اِس شرط پر تمہیں اپنے ساتھ رکھوں گا کہ ہم دونوں میں سے ایک امیر ہوگا اور دوسرا ماتحت ۔ ‘‘ میں نے عرض کی : ’’ آپ امیر ہوں گے ۔ ‘‘ انہوں نے فرمایا : ’’پھر تم پر میری اطاعت لازم ہوگی ۔ ‘‘ میں نے کہا : ’’جی ہاں ۔ ‘‘ چنانچہ انہوں نے ایک تھیلالیا اور میرا زادِ راہ اس میں ڈال کراپنی پیٹھ پر اٹھالیا ۔ جب میں نے یہ دیکھا تو کہا : ’’آپ یہ تھیلا مجھے دے دیجئے ۔ ‘‘ انہوں نے فرمایا : ’’کیا تم نے مجھے امیر نہیں بنایا؟ تم پر میری اطاعت لازم ہے ۔ ‘‘ ایک رات بارش نے ہمیں آلیا تو آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہصبح تک میرے سرہانے کھڑے ہوکر چادر کے ذریعے مجھے بارش سے بچاتے رہے حالانکہ میں بیٹھا ہوا تھا اور میں ندامت کے سبب اپنے نفس سے کہہ رہا تھا : ’’ کاش میں مرجاتا اور آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے یہ نہ کہتا کہ آپ امیر ہیں ۔ ‘‘ ( )تعظیم کا تعلق فقط عمر سے نہیں ہوتا :واضح رہے کہ حضرت سیدنا جریررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُحضرت سیدنا انس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے عمر میں بڑے تھے اس کے باوجود آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُان کے مقام ومرتبے کی وجہ سے خدمت اورتعظیم کیا کرتے تھے ۔ معلوم ہوا کہ تعظیم کا تعلق فقط عمر سے نہیں بلکہ مَقام ومَرتبے سے بھی ہوتاہے ، اگر چھوٹی عمر والا مَقام ومَرتبے میں زیادہ ہوتو بڑے کو چاہیے کہ اُس کی تعظیم بَجالائے ۔ اسی طرح چھوٹے کوبھی چاہیے کہ وہ اپنے سے بڑے کی خدمت وتعظیم کرے ۔ اِس ضمن میں دو فرامین مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمملاحظہ کیجیے : ( 1 ) ’’جو ہمارے چھوٹوں پرشفقت نہ کرے اورہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کرے تووہ ہم میں سے

نہیں ۔ ‘‘ (
) (2 ) ” جو بھی جوان کسی بوڑھے کی اس کی عمر کی وجہ سے تعظیم کرے تواللہ عَزَّوَجَلَّاُس کے لیے اُسے مقرر فرمادیتا ہے جو بڑھاپے میں اُس کی عزت کرے گا ۔ “ ( )
¥
تعظیم رسول کرنے والا اِکرام کا مستحق :علامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’حضرت سیدنا جریررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے کہاکہ میں نے انصار کودیکھا کہ وہ سیدعالَمصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی خدمت کرتے ہیں اور آپ کی تعظیم میں ہمہ تَن مصروف رہتے ہیں اس لیے انصارمیں سے جوکوئی مجھے ملے میں اُس کااکرام کرتا ہوں ۔ معلوم ہواکہ سیدعالَمصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی تعظیم کرنے والااکرام کامستحق ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
اسلام اور تعظیم وتکریم کا درسِ عظیم :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اسلام وہ پیارا مذہب مہذب ہے جو مسلمانوں کو انبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان، اولیائے عظامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام، مزاراتِ مُقَدَّسَہ ودیگر تمام معزز لوگوں ومقامات کے ادب واِحترام کا درس دیتا ہے ، اِسلام میں کسی بھی معزز ہستی یا کسی بھی معزز مقام کی بے ادبی کا کوئی تصور نہیں ہے ، یقیناًجو نام نہادمسلمان انبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، یا صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان، اولیائے عظامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامیا دیگر معزز ہستیوں یا مقدس مقامات کی توہین کرتے ہیں ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ لہٰذا ہمیشہ معزز ہستیوں کا اِحترام کیجئے ، علمائے کرام ، مفتیانِ کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکا بھی ادب کیجئے ،اِنْ شَآءَاللہعَزَّ وَجَلَّدنیا وآخرت دونوں میں اِس کی برکتیں نصیب ہوں گی ۔ منقول ہے کہ خلیفہ ہارون رشید کے دربار میں جب کوئی عالِم تشریف لاتے ، تو بادشاہ اُن کی تعظیم کے لئے کھڑے ہوتا ۔ ایک بار درباریوں نے عرض کیا : ’’حضور ! اِس طرح کرنے سے تو آپ رُعبِ سلطنت چلا جاتا ہے ۔ ‘‘ بادشاہ نے

نہایت ہی اِیمان افروز جواب دیا کہ : ’’اگر علمائے دِین کی تعظیم سے رُعبِ سَلطنت جاتا ہے تو جانے ہی کے قابل ہے ۔ ‘‘ یہی وجہ تھی کہ ہارون رشید کا رُعب رُوئے زمین کے بادشاہوں پر بدرجہ ٔاتم ( یعنی بہت زیادہ ) تھا ۔ سلاطین نصاریٰ ( یعنی عیسائی بادشاہ ) اس کا نام لیتے تھرّاتے تھے ۔ ‘‘ ( )
مدنی گلدستہ
’’صحابہ ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1)
صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسفر میں اپنے رُفقاء کے ساتھ خیر خواہی فرمایا کرتے تھے ۔
(2) معزز لوگوں کے دوستوں کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے ۔
(3) جو شخص حضور نبی کریم رؤف رحیم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تعظیم وتکریم کرتا ہے وہ بھی تعظیم و تکریم کا مستحق ہے ۔
(4) اسلام وہ پیارا مذہب ہے جو تمام معزز لوگوں کی تعظیم وتکریم کا درس دیتا ہے ، اسلام میں بے ادبی کا کوئی تصور نہیں ہے ۔
(5) تعظیم کا تعلق فقط عمر سے نہیں ہوتا بلکہ مقام ومرتبے سے بھی ہوتا ہے ، اس لیے اگر کوئی کم عمر بڑے مقام ومرتبے والا ہو تو بڑے کو اس کی تعظیم کرنی چاہیے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں معزز لوگوں کے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے ، سفر میں اپنے دوستوں کے ساتھ خیر خواہی کرنے ، ہمیشہ با ادب لوگو ں کی صحبت میں بیٹھنے ، بڑوں کاادب کرنے اور چھوٹوں پرشفقت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 345