- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
فیضان ریاض الصالحین جلد 4
ترجمہ : حضرت سیدناابن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’نیکیوں میں سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے والد کے دوستوں کے ساتھ بھلائی کرے ۔ ‘‘
عَنِِ ابْنِِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِنَّ اَبَرَّ الْبِرِّ اَنْ يَّصِلَ الرَّجُلُ وُدَّ اَبِيْهِ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 341 ، والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
ترجمہ : حضرت سیدناعبداللہبن دیناررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُحضرت سیدناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت کرتے ہیں کہ انہیں ایک دیہاتی شخص مکہ مکرمہ کے راستے میں ملا تو سیدناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے اسے سلام کیا ، اپنی سواری کا گدھا اور اپنے سر سے عمامہ اتار کراسے عطاکردیا ۔ سیدناعبداللہبن دیناررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ہم نے ان سے کہا :اللہ عَزَّوَجَلَّآپ کا بھلا فرمائے ، یہ دیہاتی لوگ تھوڑے سی چیز پربھی راضی ہوجاتے ہیں ۔ سیدناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا : ’’اس کا باپ میرے والدحضرت سیدناعمربن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکادوست تھااورمیں نےرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکویہ فرماتے ہوئے سناہے کہ ’’سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے والدکے دوستوں کے ساتھ نیکی کرے ۔ ‘‘ ایک روایت میں ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا ابنِ دیناررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : جب حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَامکہ مکرمہ کی طرف جاتے توان کے ساتھ ایک گدھا ہوتا جب اونٹ کی سواری سے اکتا جاتے تواس پر سوارہوجاتے اورایک عمامہ تھا جسے سر پر باندھتے ، ایک دن آپ گدھے پرجارہے تھے کہ ایک دیہاتی شخص آپ کے پاس سے گزرا توآپ نے اس سے فرمایا : ’’کیاتم فلاں بن فلاں کے بیٹے نہیں ہو؟ ‘‘ اس نے کہا : جی ہاں ، میں وہی ہوں ۔ چنانچہ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اسے اپنا گدھا دیا اور فرمایا : ’’اس پرسوارہوجاؤ ۔ ‘‘ اور اپناعمامہ دے کر فرمایا : ’’اسے اپنے سرپرباندھ لو ۔ ‘‘ آپ
کے بعض ساتھیوں نے کہا :اللہ عَزَّ وَجَلَّآپ کی مغفرت فرمائے ، آپ نے اس دیہاتی کو وہ گدھا دے دیا جس پر آپ خود سوار ہوتے تھے اور وہ عمامہ دے دیاجسے آپ خود اپنے سرپر باندھتے تھے ۔ ‘‘ آپ نے فرمایا : ’’میں نے حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکویہ فرماتے ہوئے سناہے کہ ’’سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ باپ کے انتقال کے بعداس کے دوستوں سے نیکی کی جائے اور اس دیہاتی شخص کاباپ میرے والد حضرت سیدنا عمربن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکادوست تھا ۔ ‘‘
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِِ دِيْنَارٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا اَنَّ رَجُلًا مِنَ الْاَعْرَابِ لَقِيَهُ بِطَرِيْقِ مَكَّةَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ وَحَمَلَهُ عَلَى حِمَارٍ كَانَ يَرْكَبُهُ وَاَعْطَاهُ عِمَامَةً كَانَتْ عَلَى رَاْسِهِ قَالَ ابْنُ دِيْنَارٍ : فَقُلْنَا لَهُ : اَصْلَحَكَ اللهُ اِنَّهُمُ الْاَعْرَابُ وَهُمْ يَرْضَوْنَ بِالْيَسِيْرِ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ : اِنَّ اَبَا هَذَا كَانَ وُدًّا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ وَاِنِّي سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ : اِنَّ اَبَـرَّ الْبِرِّ صِلَةُ الرَّجُلِ
اَهْلَ وُدَّ اَبِيْهِ.وَفیِ رِوَایَۃٍ عنِِ ا بْنِِ دِيْنَارٍ عَنِِ ابْنِِ عُمَرَ اَنَّهُ كَانَ اِذَا خَرَجَ اِلَى مَكَّةَ كَانَ لَهُ حِمَارٌ يَتَرَوَّحُ عَلَيْهِ اِذَا مَلَّ رُكُوْبَ الرَّاحِلَةِ وَعِمَامَةٌ يَشُدُّ بِهَا رَاْسَهُ فَبَيْنَا هُوَ يَوْمًا عَلَى ذٰلِكَ الْحِمَارِ اِذْ مَرَّ بِهِ اَعْرَابِيٌّ فَقَالَ : اَلَسْتَ ابْنَ فُلَانِ بْنِِ فُلَانٍ؟ قَالَ : بَلٰى فَاَعْطَاهُ الْحِمَارَ فَقَالَ : ارْكَبْ هٰذَا وَاَعْطَاہُ الْعِمَامَۃَ وَقَالَ : اشْدُدْ بِهَا رَاْسَكَ فَقَالَ لَهُ : بَعْضُ اَصْحَابِهِ : غَفَرَ اللهُ لَكَ اَعْطَيْتَ هٰذَا الْاَعْرَابِيَّ حِمَارًا كُنْتَ تَرَوَّحُ عَلَيْهِ وَعِمَامَةً كُنْتَ تَشُدُّ بِهَا رَاْسَكَ؟ فَقَالَ : اِنِّي سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : اِنَّ مِنْ اَبَرِّ الْبِرِّ اَنْ یَّصِلَ الرَّجُلُ اَهْلَ وُدَّ اَبِيْهِ بَعْدَ اَنْ يُّوَلِّيَ وَاِنَّ اَبَاهُ كَانَ صَدِيْقًا لِعُمَرَرَضِیَ اللہُ عَنْہُ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 342 ، والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
ترجمہ : حضرت سیدناابواُسیدمالک بن ربیعہ سَاعِدِیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ہم حضور نبی کریم
رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ بنوسلمہ قبیلے کا ایک شخص آیا اور پوچھا : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیامیرے والدین کے مرنے کے بعدان سے بھلائی کرنے کی کوئی صورت ہے ؟ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ہاں ! ان کے لیے دعا کرنا ، ان کے لیے استغفار کرنا ، ان کے کیے ہوئے وعدے کو پوراکرنا ، اُن کے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرنا اور ان کے دوستوں کی عزت کرنا ۔ ‘‘
عَنْ اَبیِ اُسَيْدٍ مَالِكِ بْنِ رَبِيعَةَ السَّاعِدِيِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ جُلُوْسٌ عِنْدَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ فَقَالَ : يَا رَسُوْلَ اللَّهِ هَلْ بَقِيَ مِنْ بِرِّ اَبَوَيَّ شَيْءٌ اَبَرُّهُمَا بِهِ بَعْدَ مَوْتِهِمَا؟ فَقَالَ : نَعَمْ ! الصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا وَالْاِسْتِغْفَارُ لَهُمَا وَاِنْفَاذُ عَهْدِهِمَا مِنْ بَعْدِهِمَا وَصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِي لَا تُوْصَلُ اِلَّا بِهِمَا وَاِكْرَامُ صَدِيْقِهِمَا. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 343 ، والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
ترجمہ : اُمّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے فرماتی ہیں کہ مجھے حضور نبی کریم رؤف رحیمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی اَزواجِ مُطَہَّرات میں سے کسی پر اتنا رشک نہ آتا جتنا حضرت خدیجہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاپرآتا حالانکہ میں نے انہیں کبھی نہیں دیکھالیکن اکثر تاجدارِ رِسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان کا ذکر خیر فرماتے تھے ۔ بعض اوقات بکری ذبح کرتے اور اس کے اعضاء الگ الگ کرکے حضرت خدیجہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی سہیلیوں کے گھر بھیجتے ۔ بسا اوقات میں یوں عرض کرتی کہ دنیا میں حضرت خدیجہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے سواکوئی عورت نہیں ہے ۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان کی اوصاف بیان کرتے ہوئے فرماتے : ’’وہ ایسی تھیں وہ ایسی تھیں اور اُن سے میری اولاد ہوئی ہے ۔ ‘‘ اورایک روایت میں ہے کہ ’’اگرآپ بکری ذبح فرماتے تواتناگوشت ان کی سہیلیوں کے گھرہدیہ بھیجتے جوان کو کفایت کرجاتا ۔ ‘‘ ایک روایت میں یوں ہے : جب بکری ذبح کرتے توارشادفرماتے : ’’اس میں سے حضرت خدیجہ کی
سہیلیوں کے گھربھیجو ۔ ‘‘ ایک روایت میں ہے کہ اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہصدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ حضرت خدیجہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی بہن ہالہ بنت خُوَیلد نے سرکارِ دو عالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کی توآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوحضرت خدیجہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکااجازت مانگنا یادآگیا اور خوش ہوتے ہوئے فرمایا : ’’یااللہ! یہ توہالہ بنت خویلد ہیں ۔ ‘‘
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : مَا غِرْتُ عَلَى اَحَدٍ مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيْجَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَمَا رَاَيْتُهَاقَطٌّ وَلَكِنْ كَانَ يُكْثِرُ ذِكْرَهَا وَرُبَّمَا ذَبَحَ الشَّاةَ ثُمَّ يُقَطِّعُهَا اَعْضَاءً ثُمَّ يَبْعَثُهَا فِي صَدَائِقِ خَدِيجَةَفَرُبَّمَا قُلْتُ لَهُ : كَاَنْ لَّمْ يَكُنْ فِي الدُّنْيَا اِلَّا خَدِيْجَةُ ! فَيَقُوْلُ : اِنَّهَا كَانَتْ وَكَانَتْ وَكَانَ لِي مِنْهَا وَلَدٌ. ( ) وَفیِ رِوَایَۃٍ : وَاِنْ كَانَ لَيَذْبَحُ الشَّاةَ فَيُهْدِيْ فیِ خَلَائِلِهَامِنْہَامَایَسَعُہُنَّ. ( ) وَفیِ رِوَایَۃٍ : كَانَ اِذَا ذَبَحَ الشَّاةَ يَقُوْلُ : اَرْسِلُوْا بِهَا اِلَى اَصْدِقَاءِ خَدِيْجَةَ. ( ) وَفیِ رِوَایَۃٍ : قَالَتْ : اِسْتَاْذَنَتْ ہَالَۃُ بِنْتُ خُوَ یْلِدٍ اُخْتُ خَدِيْجَةَ عَلَی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَفَ اِسْتِئْذَانَ خَدِيْجَةَ فَاَرْتَاحَ لِذٰلِکَ فَقَالَ : اَللَّہُمَّ ہَالَۃُ بِنْتُ خُوَ یْلِدٍ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 344 ، والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
ترجمہ : حضرت سیدناانس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں حضرت جریربنعبداللہبَجَلِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے ساتھ سفرپرگیاوہ میری خدمت کیاکرتے تھے ، میں نے اُن سے کہا : آپ ایسا نہ کیا کریں ۔ اُنہوں نے کہا : میں نے انصارکودیکھا ہے وہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ اسی طرح پیش آتے تھے تومیں نے قسم کھائی ہے کہ انصارمیں سے جس کا بھی رفیق سفر بنوں گا اس کی خدمت کروں گا ۔ ‘‘
عَنْ اَنَسِ بْنِِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْہُ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ جَرِيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْہُ فِي سَفَرٍ فَكَانَ يَخْدُمُنِيْ فَقُلْتُ لَهُ : لَا تَفْعَلْ فَقَالَ : اِنِّيْ قَدْرَاَيْتُ الْاَنْصَارَ تَصْنَعُ بِرَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا آلَيْتُ عَلَی نَفْسِی اَنْ لَا اَصْحَبَ اَحَدًا مِّنْهُمْ اِلَّا خَدَمْتُهُ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 345 ، والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک