- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- حدیث نمبر 344
حدیث مبارکہ
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : مَا غِرْتُ عَلَى اَحَدٍ مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيْجَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَمَا رَاَيْتُهَاقَطٌّ وَلَكِنْ كَانَ يُكْثِرُ ذِكْرَهَا وَرُبَّمَا ذَبَحَ الشَّاةَ ثُمَّ يُقَطِّعُهَا اَعْضَاءً ثُمَّ يَبْعَثُهَا فِي صَدَائِقِ خَدِيجَةَفَرُبَّمَا قُلْتُ لَهُ : كَاَنْ لَّمْ يَكُنْ فِي الدُّنْيَا اِلَّا خَدِيْجَةُ ! فَيَقُوْلُ : اِنَّهَا كَانَتْ وَكَانَتْ وَكَانَ لِي مِنْهَا وَلَدٌ. ( ) وَفیِ رِوَایَۃٍ : وَاِنْ كَانَ لَيَذْبَحُ الشَّاةَ فَيُهْدِيْ فیِ خَلَائِلِهَامِنْہَامَایَسَعُہُنَّ. ( ) وَفیِ رِوَایَۃٍ : كَانَ اِذَا ذَبَحَ الشَّاةَ يَقُوْلُ : اَرْسِلُوْا بِهَا اِلَى اَصْدِقَاءِ خَدِيْجَةَ. ( ) وَفیِ رِوَایَۃٍ : قَالَتْ : اِسْتَاْذَنَتْ ہَالَۃُ بِنْتُ خُوَ یْلِدٍ اُخْتُ خَدِيْجَةَ عَلَی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَفَ اِسْتِئْذَانَ خَدِيْجَةَ فَاَرْتَاحَ لِذٰلِکَ فَقَالَ : اَللَّہُمَّ ہَالَۃُ بِنْتُ خُوَ یْلِدٍ. ( )
عن عائشة رضي الله عنها قالت : ما غرت على احد من نساء النبي صلى الله عليه وسلم ما غرت على خديجة رضي الله عنها وما رايتهاقط ولكن كان يكثر ذكرها وربما ذبح الشاة ثم يقطعها اعضاء ثم يبعثها في صدائق خديجةفربما قلت له : كان لم يكن في الدنيا الا خديجة ! فيقول : انها كانت وكانت وكان لي منها ولد. ( ) وفی روایۃ : وان كان ليذبح الشاة فيهدي فی خلائلهامنہامایسعہن. ( ) وفی روایۃ : كان اذا ذبح الشاة يقول : ارسلوا بها الى اصدقاء خديجة. ( ) وفی روایۃ : قالت : استاذنت ہالۃ بنت خو یلد اخت خديجة علی رسول اللہ صلى الله عليه وسلم فعرف استئذان خديجة فارتاح لذلک فقال : اللہم ہالۃ بنت خو یلد. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : اُمّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے فرماتی ہیں کہ مجھے حضور نبی کریم رؤف رحیمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی اَزواجِ مُطَہَّرات میں سے کسی پر اتنا رشک نہ آتا جتنا حضرت خدیجہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاپرآتا حالانکہ میں نے انہیں کبھی نہیں دیکھالیکن اکثر تاجدارِ رِسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان کا ذکر خیر فرماتے تھے ۔ بعض اوقات بکری ذبح کرتے اور اس کے اعضاء الگ الگ کرکے حضرت خدیجہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی سہیلیوں کے گھر بھیجتے ۔ بسا اوقات میں یوں عرض کرتی کہ دنیا میں حضرت خدیجہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے سواکوئی عورت نہیں ہے ۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان کی اوصاف بیان کرتے ہوئے فرماتے : ’’وہ ایسی تھیں وہ ایسی تھیں اور اُن سے میری اولاد ہوئی ہے ۔ ‘‘ اورایک روایت میں ہے کہ ’’اگرآپ بکری ذبح فرماتے تواتناگوشت ان کی سہیلیوں کے گھرہدیہ بھیجتے جوان کو کفایت کرجاتا ۔ ‘‘ ایک روایت میں یوں ہے : جب بکری ذبح کرتے توارشادفرماتے : ’’اس میں سے حضرت خدیجہ کی
سہیلیوں کے گھربھیجو ۔ ‘‘ ایک روایت میں ہے کہ اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہصدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ حضرت خدیجہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی بہن ہالہ بنت خُوَیلد نے سرکارِ دو عالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کی توآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوحضرت خدیجہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکااجازت مانگنا یادآگیا اور خوش ہوتے ہوئے فرمایا : ’’یااللہ! یہ توہالہ بنت خویلد ہیں ۔ ‘‘
شرح حدیث
اُمُّ المؤمنین کا اُمُّ المؤمنین کی محبوبیت پر رشک :مُفَسِّر شہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’غِرْتبنا ہے غیرت سے یہاں غیرت بمعنیٰ رَشک یا غبطہ ہے ، دینی اُمورمیں رشک جائز ہے ۔ حضرت عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے حضرت خدیجہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی محبوبیت دیکھ کر رشک فرمایا کہ کاش ! میں بھی ان کی طرح حضورِاَنورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی محبوبہ ہوتی کہ میری وفات کے بعدبھی حضورِ اَنورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیری اسی طرح تعریفیں فرماتے جس طرح اِن کی فرماتے ہیں ۔ خیال رہے کہ حضرت عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاحضورِ انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بڑی ہی محبوبہ زوجہ ہیں ، آپ کی محبوبیت بی بی خدیجہ کی محبوبیت سے کسی طرح کم نہیں ، رشک اس بات میں ہے جو ہم نے عرض کیاکہ بعدِ وفات محبتِ مصطفے ٰ کا جوش ۔ ‘‘ ( )
¥رشک کسے کہتے ہیں؟دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ417 صفحات پرمشتمل کتاب’’لباب الاحیاء ‘‘ ص254پر ہے : ’’حسد کی حقیقت یہ ہے کہ جب کسی ( مسلمان ) بھائی کواللہ عَزَّ وَجَلَّکی نعمت ملتی ہے تو حاسِد اِنسان اسے ناپسند کرتا ہے اور اس بھائی سے نعمت کا زوال چاہتا ہے ۔ اگر وہ اپنے بھائی کو ملنے والی نعمت کو ناپسند نہیں کرتا اور نہ اس کا زوال چاہتا ہے بلکہ وہ چاہتا ہے کہ اسے بھی ایسی ہی نعمت مل جائے تو اسے رشک کہتے ہیں ۔ سرکارِ والا تَبار ، شفیعِ روزِ شُمارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ عالیشان ہے : ’’مؤمن رشک کرتا اور
منافق حسد کرتا ہے ۔ ‘‘سیدہ خدیجہ کی وفات کے وقت سیدہ عائشہ کی عمر :عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکایہ فرمانا کہ : ” میں نے انہیں کبھی نہیں دیکھا ۔ “اس کامعنی یہ ہے کہ میں نے انہیں حضورنبی کریم رؤف الرحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس کبھی نہ دیکھااور نہ پایا ۔ ورنہ اُمُّ المؤمنین حضرت سیدتنا خدیجہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکو دیکھناممکن تھاکیونکہ حضرت سیدتنا خدیجہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی وفات کے وقت حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی عمرچھ سال تھی ۔ ‘‘ ( )
¥سیدہ خدیجہ کی طرف سے بکری ذبح کرنا :اکثرحضورِاَنورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماُمُّ المؤمنین حضرت سیدتنا خدیجہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی طرف سے بکری ذبح فرماتے ، انہیں ثواب پہنچانے کے لیے اس کا گوشت اُن کی سہیلیوں میں تقسیم فرماتے ۔ اس حدیث پاک سے چند مسئلے معلوم ہوئے : ایک یہ کہ میت کی طرف سے قربانی کرنا جائز ہے ۔ دوسرے یہ کہ میت کو صدقہ و خیرات کا ثواب بخشنا سنت ہے ۔ تیسرے یہ کہ میت کے نام کا کھانا اس کے پیاروں دوستوں کو دینا بہتر ہے ، اس سے میت کوبہت خوشی ہوتی ہے ، ایک ثواب پہنچنے کی دوسرے اس کے دوستوں پیاروں کی امداد ہونے کی ۔ بعض لوگ گیارہویں کا کھانا سیدوں کو ، مزارات کے چڑھاوے وہاں کے مجاوِرُوں کو دیتے ہیں اُن کی اصل یہ حدیث ہے کہ مجاوِرِین اور اولاد میت کو پیارے ہوتے ہیں ۔ چوتھے یہ کہ میت کو دنیا کے حالات کی خبر رہتی ہے تب ہی تو وہ اپنے پیاروں پر صدقہ کرنے سے خوش ہوتی ہے ۔ ( )
¥سب سے پہلے ایمان لانے والی خاتون :عَلَّامَہ شِھَابُ الدِّین اَحْمَد بِن مُحَمَّد قَسْطَلَّانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’حدیثِ پاک میں جو
کَانَتْ کَانَتْیعنی حضرت خدیجہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاایسی تھیں ، ایسی تھیں کی تکرار ہے ۔ اس تکرارسے حضرت سیدتنا خدیجہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے خصائل مرادہیں جو ا ُن کی فضیلت پردلالت کرتے ہیں کہ وہ فاضلہ ، عاقلہ اور پرہیزگارتھیں ۔ اُمُّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے مَروی ہے کہ سرکارِمدینہ راحتِ قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا ” حضرت خدیجہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَامجھ پر اس وقت ایمان لائیں جب لوگوں نے میراانکارکیا ، میری اس وقت تصدیق کی جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا اورمیری مال کے ذریعے اس وقت مددکی جب لوگوں نے مجھے اپنا مال نہ دیا ۔ “ ( )
¥قیامت تک کے سادات کی نانی جان :مُفَسِّرشہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانحدیث کے الفاظ ” وہ ایسی تھیں وہ ایسی تھیں“کے تحت فرماتے ہیں : ’’یہاں پرحضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے حضرت خدیجہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی بہت سی صفات کی طرف اشارہ فرمایاہے کہ وہ بہت روزہ دار ، تہجد گزار ، میری بڑی خدمت گزار ، میری تنہائی کی مُونِس ، میری غمگسار ، غار حراء کے چلّے میں میری مددگار تھیں ، حضرتِ سَیِّدَتُنا فاطمہ زہرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی ماں اورقیامت تک کے سیدوں کی نانی ہیں ۔ ‘‘ ( )
¥رسولُ اللہکی سیدہ خدیجہ سے اَولاد :عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیحضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے اِس فرمان ” ان سے میری اولاد ہے ۔ “کے تحت فرماتے ہیں : ’’اس کامطلب یہ ہے کہ تمام اولاداُن ہی سے ہوئی ہے یہاں تک کہ حضرت سیدتنا فاطمۃ الزہراءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَابھی ، سوائے حضرت سیدنا ابراہیمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے کہ وہ حضرت سیدتنا ماریہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے بطن سے پیدا ہوئے ۔ حضرت سیدتنا خدیجہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاقرشیہ ہیں ، پہلے یہ ابن ہالہ بن زرارہ کے نکاح میں تھیں ، پھر عتیق بن عابد کے نکاح میں رہیں ، پھر حضور تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نکاح میں آئیں ، اُس وقت اُن کی عمرچالیس سال تھی اورحضورنبی
کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکایہ پہلانکاح تھا ، اِس سے پہلے کسی بھی خاتون سے نہ توآپ نے نکاح فرمایااور نہ ہی سیدہ خدیجہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی موجودگی میں کسی اورسے نکاح کیاحتی کہ اُن کی وفات ہوگئی ۔ اُمُّ المؤمنین حضرت سیدتنا خدیجہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے مَردوں اورعورتوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا ، آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی عمر۶۵ پینسٹھ سال تھی اوروفات کے بارے میں تین قول ہیں : ہجرت سے پانچ ، چاریاتین سال پہلے مکہ مکرمہ میں وفات ہوئی ۔ اُس وقت سرکارِ دوعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نبوت کے دس سال گزرے تھے ، آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی تدفین مقامِ حجون میں ہوئی اور آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکو سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ پچیس سال شریک حیات رہنے کاشرف حاصل ہوا ۔ ‘‘ ( )
¥سیدہ ہالہ بنت خویلدکاحضورسے اجازت مانگنا :عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’حضرت سیدتنا ہالہ بنتِ خویلدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اجازت مانگی تو اس سے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو حضرت سیدتنا خدیجہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکا اجازت مانگنایادآگیا کیونکہ اِن کی آوازحضرت سیدتنا خدیجہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی آواز سے ملتی تھی ۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخوشی سے کھڑے ہوگئے اور فرمایا : ’’یا اللہ! یہ توہالہ ہیں ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
سیدہ’’خدیجہ ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1)اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا خدیجہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاحضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی محبوب ترین زوجہ تھیں کہ آپ اکثر دیگر اَزواج کے سامنے ان کے اوصاف بیان فرماتے ۔
(2) آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحضرت سیدتنا خدیجہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی طرف سے بکری ذبح فرماتے اور اُس کا گوشت اُن کی سہیلیوں کے گھروں میں بھیجا کرتے تھے ۔
(3) حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سب سے پہلے حضرت سیدتنا خدیجہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے نکاح فرمایا ، اِس سے پہلے کسی بھی عورت سے نہ توآپ نے نکاح فرمایااور نہ ہی اُن کی موجودگی میں کسی اورسے نکاح کیا ۔
(4) اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا خدیجہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی ذات بہت سے اَوصاف کی جامع تھی ، سیدنا ابراہیمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے علاوہ سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بقیہ اولاد آپ ہی کے بطن سے ہوئی ، اور آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاخاتونِ جنت سیدہ فاطمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی والدہ اور قیامت تک کے سادات کی نانی جان ہیں ۔
(5) اپنی زوجہ کی زندگی میں یااُس کے انتقال کے بعد بھی اُس کی سہیلیوں کے ساتھ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے حسن سلوک سے پیش آنا کارِ ثواب ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ تمام مسلمانوں کو اُن کی ازواج کے ساتھ حُسنِ سُلُوک سے پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے ، اُن کے جملہ حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 344