Main Icon

والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 343

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبیِ اُسَيْدٍ مَالِكِ بْنِ رَبِيعَةَ السَّاعِدِيِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ جُلُوْسٌ عِنْدَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ فَقَالَ : يَا رَسُوْلَ اللَّهِ هَلْ بَقِيَ مِنْ بِرِّ اَبَوَيَّ شَيْءٌ اَبَرُّهُمَا بِهِ بَعْدَ مَوْتِهِمَا؟ فَقَالَ : نَعَمْ ! الصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا وَالْاِسْتِغْفَارُ لَهُمَا وَاِنْفَاذُ عَهْدِهِمَا مِنْ بَعْدِهِمَا وَصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِي لَا تُوْصَلُ اِلَّا بِهِمَا وَاِكْرَامُ صَدِيْقِهِمَا. ( )

عن ابی اسيد مالك بن ربيعة الساعدي رضی اللہ عنہ قال : بينا نحن جلوس عند رسول الله صلى الله عليه وسلم اذ جاءه رجل من بني سلمة فقال : يا رسول الله هل بقي من بر ابوي شيء ابرهما به بعد موتهما؟ فقال : نعم ! الصلاة عليهما والاستغفار لهما وانفاذ عهدهما من بعدهما وصلة الرحم التي لا توصل الا بهما واكرام صديقهما. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سیدناابواُسیدمالک بن ربیعہ سَاعِدِیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ہم حضور نبی کریم

رؤف رحیم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ بنوسلمہ قبیلے کا ایک شخص آیا اور پوچھا : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیامیرے والدین کے مرنے کے بعدان سے بھلائی کرنے کی کوئی صورت ہے ؟ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ہاں ! ان کے لیے دعا کرنا ، ان کے لیے استغفار کرنا ، ان کے کیے ہوئے وعدے کو پوراکرنا ، اُن کے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرنا اور ان کے دوستوں کی عزت کرنا ۔ ‘‘

شرح حدیث

بدری صحابیوں میں آخری صحابی :حضرت سیدنا ابواُسیدمالک بن ربیعہ سَاعِدِیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاَنصاری صحابی ہیں آپ تمام غزوات میں حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ شریک رہے اور کثیرمحدثین نے آپ سے روایات نقل کی ہیں ، بصرہ جانے کے بعدساٹھ ۶۰ہجری میں اٹھتر 78سال کی عمر میں وصال فرماگئے ، آپ بدری صحابیوں میں سب سے آخرمیں وفات پانے والے صحابی ہیں ۔ خود قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں بدری صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی عزت وعظمت کوبیان فرمایا گیا ہے ۔
¥
والدین کی بے لوث خدمت کریں :عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : اولادکوچاہیے کہ اپنے ماں ، باپ کے مرنے کے بعدان کے لیے دعا کرتی ر ہے اورانہوں نے جووصیت کی ہے اسے پوراکرے اوراگرکسی سے کوئی وعدہ کیا ہے تو اسے بھی پورا کرے اوربندوں کو یہ حکم دیاگیاہے کہ وہاللہ عَزَّ وَجَلَّہی کی عبادت کریں اور والدین کی فرمابرداری سے غیر کاارادہ نہ کریں ۔ اسی طرح جوشخص والدین کاخدمت گزارہے اس کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ ان دونوں کی خدمت سے مرتبے کا خواہش مندہومگر یہ کہ اس میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا اوروالدین کی رضا ہواور نہ ہی ان کی خدمت کرنے سے ریاکاری کاشکارہوجائے کیونکہ اس حال میں ان کی خدمت کرناگناہ ہے ، اور ایسے شخص کی ریاکاری کوعنقریباللہ عَزَّ وَجَلَّظاہرفرمادے گااوریوں اس کا مرتبہ والدین کے دل سے گرجائے گا ۔ ‘‘ ( )

¥
بعد وِصال والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کاطریقہ :مُفَسِّرشہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث پاک تحت فرماتے ہیں : ’’ماں باپ کے انتقال کے بعدان سے بھلائی کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اولاد ہر نماز کے بعد اپنے والدین کے لیے دعا کرتی رہے ، ان کے نام پر صدقات و خیرات کرے ، ان کی طرف سے حج بدل کرے یا کسی اورسے کروائے ، ان کا تیجہ ، دسواں ، چالیسواں ، برسی کرے ۔ بعض لوگ اپنے والدین کی اچھی رسمیں باقی رکھتے ہیں ، اگر ماں باپ کسی تاریخ میں خیرات کرتے تھے یا میلاد شریف گیارھویں کرتے تھے تو وہ ہمیشہ کرتے ہیں ، جس مسجد میں نماز پڑھتے تھے اس مسجد کو آبادکرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ‘‘ صلہ رحمی سے متعلق فرماتے ہیں : ’’جن عزیزوں سے رشتہ صرف ماں یا باپ کی وجہ سے ہو دوسری وجہ سے نہ ہو ان سے اچھاسلوک کرنا کہ یہ میرے والدین کی خوشنودی کا ذریعہ ہے اس میں بھائی بہن ، چچا ماموں ، پھوپھی خالہ سب ہی داخل ہیں ۔ دوسرے یہ کہ ان کے ساتھ اس وجہ سے بھلائی کرے تاکہ والدین کی رضاحاصل ہو ، اپنا نام یاشہرت مقصودنہ ہوغرضیکہ ان عزیزوں کی اس وجہ سے خدمت کرے تاکہ والدین راضی ہوں جائیں اور والدین کی رضا میںاللہورسول کی رضا ہے ، نیز بیٹا باپ کے دوستوں اورماں کی سہیلیوں کی بھی عزت کرے ۔ ‘‘ ( )
¥
بعدوِصال والدین کے اولاد پر حقوق :اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت مجدِّدِ دِین وملت پروانہ ٔشمعِ رسالت ، مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنسے والدین کے انتقال کے بعد ان کے حقوق کے بارے میں سوال ہوا تو آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے بعد وِصالِ والدین کے اولاد پر درج ذیل 12حقوق کومدلل ومفصل بیان فرمایا :
(1) سب سے پہلاحق بعدِموت اُن کے جنازے کی تجہیز ، غسل وکفن ونماز ودفن ہے اور ان کاموں میں سنن ومستحبات کی رعایت جس سے اُن کے لئے ہرخوبی وبرکت ورَحمت ووُسعت کی اُمیدہو ۔

(2) اُن کے لئے دعاواِستغفار ہمیشہ کرتے رہنا اس سے کبھی غفلت نہ کرنا ۔
(3) صدقہ وخیرات واَعمالِ صالحہ کاثواب انہیں پہنچاتے رہنا ، حسب طاقت اس میں کمی نہ کرنا ، اپنی نماز کے ساتھ ان کے لئے بھی نمازپڑھنا ، اپنے روزوں کے ساتھ اُن کے واسطے بھی روزے رکھنابلکہ جو نیک کام کرے سب کاثواب انہیں اور سب مسلمانوں کوبخش دینا کہ ان سب کو ثواب پہنچ جائے گا اور اس کے ثواب میں کمی نہ ہوگی بلکہ بہت ترقیاں پائے گا ۔
(4) ان پرکوئی قرض کسی کاہو تو اس کے ادا میں حددرجہ کی جلدی وکوشش کرنا اور اپنے مال سے ان کاقرض اداہونے کو دونوں جہاں کی سعادت سمجھنا ، آپ قدرت نہ ہو تو اور عزیزوں قریبوں پھرباقی اہل خیر سے اُس کی ادامیں امداد لینا ۔
(5) ان پرکوئی فرض رہ گیا توبقدرِقدرت اس کے ادامیں سعی بجالانا ، حج نہ کیاہوتو اُن کی طرف سے حج کرنا یا حج بدل کرانا ، زکوٰۃ یاعشر کامطالبہ ان پر رہا تو اسے اداکرنا ، نمازیا روزہ باقی ہوتو اس کاکفارہ دینا وعلیٰ ہذاالقیاس ہرطرح ان کی براءت ذمہ میں جدوجہد کرنا ۔
(6) انہوں نے جو وصیت جائزہ شرعیہ کی ہو حتی الامکان اس کے نفاذ میں سعی کرنا اگرچہ شرعاً اپنے اوپر لازم نہ ہواگرچہ اپنے نفس پربارہومثلاً وہ نصف جائداد کی وصیت اپنے کسی عزیز غیر وارث یا اجنبی محض کے لئے کرگئے توشرعاً تہائی مال سے زیادہ میں بے اجازت وارثان نافذ نہیں مگر اولاد کومناسب ہے کہ ان کی وصیت مانیں اور ان کی خوشخبری پوری کرنے کو اپنی خواہش پر مقدم جانیں ۔
(7) ان کی قسم بعدمرگ بھی سچی ہی رکھنا مثلاً ماں باپ نے قسم کھائی تھی کہ میرابیٹا فلاں جگہ نہ جائے گا یافلاں سے نہ ملے گا یافلاں کام کرے گا تو ان کے بعد یہ خیال نہ کرنا کہ اب وہ تو نہیں ان کی قسم کاخیال نہیں بلکہ اس کاویسے ہی پابند رہنا جیساان کی حیات میں رہتا جب تک کوئی حرجِ شرعی مانع نہ ہو اور کچھ قسم ہی پرموقوف نہیں ہرطرح اُمورجائزہ میں بعد مرگ بھی ان کی مرضی کا پابند رہنا ۔
(8) ہرجمعہ کو ان کی زیارتِ قبر کے لئے جانا ، وہاں یٰس شریف پڑھنا ایسی آواز سے کہ وہ سنیں اور اس کا ثواب ان کی روح کوپہنچانا ، راہ میں جب کبھی ان کی قبرآئے بے سلام وفاتحہ نہ گزرنا ۔

(9) ان کے رشتہ داروں کے ساتھ عمربھر نیک سلوک کئے جانا ۔
(10) ان کے دوستوں سے دوستی نباہنا ، ہمیشہ ان کااعزاز واکرام رکھنا ۔
(11) کبھی کسی کے ماں باپ کوبراکہہ کرجواب میں انہیں برانہ کہلوانا ۔
(12) سب میں سخت تر وعام تر ومدام تریہ حق ہے کہ کبھی کوئی گناہ کرکے انہیں قبرمیں ایذا نہ پہنچانا ، اس کے سب اَعمال کی خبرماں باپ کوپہنچتی ہے ، نیکیاں دیکھتے ہیں توخوش ہوتے ہیں اور ان کاچہرہ فرحت سے چمکتا اوردمکتاہے ، اور گناہ دیکھتے ہیں تو رنجیدہ ہوتے ہیں اور ان کے قلب پرصدمہ ہوتاہے ، ماں باپ کایہ حق نہیں کہ انہیں قبرمیں بھی رنج پہنچائے ۔ ( )
مدنی گلدستہ
’’نیکی ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1)
اولادکوچاہیے کہ وہ صدقہ ، خیرات اور نیکیاں كركے ان كا ثواب والدين كو پہنچائے ۔
(2) ہرجمعہ والدین کی قبروں کی زیارت کے لیے جانا چاہیے ، نیز وہاں جاکر ان کے اِیصالِ ثواب کے لیے سورہ ملک ، سورہ یسین شریف وغیرہ تلاوت کرنی چاہیے ۔
(3) والدین کی وفات کے بعد ہروہ جائز کام کرنا چاہیے کہ جو ان کی حیات میں ان کی خوشی کا باعث تھا ۔
(4) ان كے رشتہ داروں اوران كے دوستوں كا ہميشہ ادب و احترام كرتارہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں اپنے والدین کی حیات میں بھی ان کا ادب واحترام کرنے اور بعد ِوفات بھی ان کے جملہ حقوق کو اچھی طرح ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 343