Main Icon

والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 342

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِِ دِيْنَارٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا اَنَّ رَجُلًا مِنَ الْاَعْرَابِ لَقِيَهُ بِطَرِيْقِ مَكَّةَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ وَحَمَلَهُ عَلَى حِمَارٍ كَانَ يَرْكَبُهُ وَاَعْطَاهُ عِمَامَةً كَانَتْ عَلَى رَاْسِهِ قَالَ ابْنُ دِيْنَارٍ : فَقُلْنَا لَهُ : اَصْلَحَكَ اللهُ اِنَّهُمُ الْاَعْرَابُ وَهُمْ يَرْضَوْنَ بِالْيَسِيْرِ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ : اِنَّ اَبَا هَذَا كَانَ وُدًّا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ وَاِنِّي سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ : اِنَّ اَبَـرَّ الْبِرِّ صِلَةُ الرَّجُلِ

اَهْلَ وُدَّ اَبِيْهِ.وَفیِ رِوَایَۃٍ عنِِ ا بْنِِ دِيْنَارٍ عَنِِ ابْنِِ عُمَرَ اَنَّهُ كَانَ اِذَا خَرَجَ اِلَى مَكَّةَ كَانَ لَهُ حِمَارٌ يَتَرَوَّحُ عَلَيْهِ اِذَا مَلَّ رُكُوْبَ الرَّاحِلَةِ وَعِمَامَةٌ يَشُدُّ بِهَا رَاْسَهُ فَبَيْنَا هُوَ يَوْمًا عَلَى ذٰلِكَ الْحِمَارِ اِذْ مَرَّ بِهِ اَعْرَابِيٌّ فَقَالَ : اَلَسْتَ ابْنَ فُلَانِ بْنِِ فُلَانٍ؟ قَالَ : بَلٰى فَاَعْطَاهُ الْحِمَارَ فَقَالَ : ارْكَبْ هٰذَا وَاَعْطَاہُ الْعِمَامَۃَ وَقَالَ : اشْدُدْ بِهَا رَاْسَكَ فَقَالَ لَهُ : بَعْضُ اَصْحَابِهِ : غَفَرَ اللهُ لَكَ اَعْطَيْتَ هٰذَا الْاَعْرَابِيَّ حِمَارًا كُنْتَ تَرَوَّحُ عَلَيْهِ وَعِمَامَةً كُنْتَ تَشُدُّ بِهَا رَاْسَكَ؟ فَقَالَ : اِنِّي سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : اِنَّ مِنْ اَبَرِّ الْبِرِّ اَنْ یَّصِلَ الرَّجُلُ اَهْلَ وُدَّ اَبِيْهِ بَعْدَ اَنْ يُّوَلِّيَ وَاِنَّ اَبَاهُ كَانَ صَدِيْقًا لِعُمَرَرَضِیَ اللہُ عَنْہُ. ( )

عن عبد الله بن دينار عن عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما ان رجلا من الاعراب لقيه بطريق مكة فسلم عليه عبد الله بن عمر وحمله على حمار كان يركبه واعطاه عمامة كانت على راسه قال ابن دينار : فقلنا له : اصلحك الله انهم الاعراب وهم يرضون باليسير فقال عبد الله بن عمر : ان ابا هذا كان ودا لعمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ واني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : ان ابـر البر صلة الرجل

اهل ود ابيه.وفی روایۃ عن ا بن دينار عن ابن عمر انه كان اذا خرج الى مكة كان له حمار يتروح عليه اذا مل ركوب الراحلة وعمامة يشد بها راسه فبينا هو يوما على ذلك الحمار اذ مر به اعرابي فقال : الست ابن فلان بن فلان؟ قال : بلى فاعطاه الحمار فقال : اركب هذا واعطاہ العمامۃ وقال : اشدد بها راسك فقال له : بعض اصحابه : غفر الله لك اعطيت هذا الاعرابي حمارا كنت تروح عليه وعمامة كنت تشد بها راسك؟ فقال : اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : ان من ابر البر ان یصل الرجل اهل ود ابيه بعد ان يولي وان اباه كان صديقا لعمررضی اللہ عنہ. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سیدناعبداللہبن دیناررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُحضرت سیدناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت کرتے ہیں کہ انہیں ایک دیہاتی شخص مکہ مکرمہ کے راستے میں ملا تو سیدناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے اسے سلام کیا ، اپنی سواری کا گدھا اور اپنے سر سے عمامہ اتار کراسے عطاکردیا ۔ سیدناعبداللہبن دیناررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ہم نے ان سے کہا :اللہ عَزَّوَجَلَّآپ کا بھلا فرمائے ، یہ دیہاتی لوگ تھوڑے سی چیز پربھی راضی ہوجاتے ہیں ۔ سیدناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا : ’’اس کا باپ میرے والدحضرت سیدناعمربن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکادوست تھااورمیں نےرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکویہ فرماتے ہوئے سناہے کہ ’’سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے والدکے دوستوں کے ساتھ نیکی کرے ۔ ‘‘ ایک روایت میں ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا ابنِ دیناررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : جب حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَامکہ مکرمہ کی طرف جاتے توان کے ساتھ ایک گدھا ہوتا جب اونٹ کی سواری سے اکتا جاتے تواس پر سوارہوجاتے اورایک عمامہ تھا جسے سر پر باندھتے ، ایک دن آپ گدھے پرجارہے تھے کہ ایک دیہاتی شخص آپ کے پاس سے گزرا توآپ نے اس سے فرمایا : ’’کیاتم فلاں بن فلاں کے بیٹے نہیں ہو؟ ‘‘ اس نے کہا : جی ہاں ، میں وہی ہوں ۔ چنانچہ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اسے اپنا گدھا دیا اور فرمایا : ’’اس پرسوارہوجاؤ ۔ ‘‘ اور اپناعمامہ دے کر فرمایا : ’’اسے اپنے سرپرباندھ لو ۔ ‘‘ آپ

کے بعض ساتھیوں نے کہا :
اللہ عَزَّ وَجَلَّآپ کی مغفرت فرمائے ، آپ نے اس دیہاتی کو وہ گدھا دے دیا جس پر آپ خود سوار ہوتے تھے اور وہ عمامہ دے دیاجسے آپ خود اپنے سرپر باندھتے تھے ۔ ‘‘ آپ نے فرمایا : ’’میں نے حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکویہ فرماتے ہوئے سناہے کہ ’’سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ باپ کے انتقال کے بعداس کے دوستوں سے نیکی کی جائے اور اس دیہاتی شخص کاباپ میرے والد حضرت سیدنا عمربن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکادوست تھا ۔ ‘‘

شرح حدیث

والدین کے دوستوں سے حسن سلوک کی وجہ :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! یہ ایک فطری بات ہے کہ بندہ اپنے جن دوستوں سے ملتا جلتا ہے ان کے بارے میں یہی ذہن رکھتا ہے کہ میری اولاد بھی ان کے ساتھ ویسے ہی ملنا جلنا رکھے جیسا کہ میں رکھتا ہوں ، ان کے ساتھ ویسے ہی اچھی طریقے سے پیش آئے جیسے میں پیش آتا ہوں اور اگر اولاد اپنے والدین کے دوستوں کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آئے تو یہ ان کی قلبی راحت اور خوشی کا باعث ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ والدین کے وصال کے بعد ان کے حقوق میں سے ایک حق یہ بھی بیان فرمایا گیا کہ والدین کے دوستوں کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آنا چاہیے کیونکہ جیسے ان کی حیات میں ان کے دوستوں کے ساتھ حُسنِ سلوک کرنے سے انہیں خوشی اور راحت ملتی تھی ویسے ہی جب ان کی وفات کے بعد ان کے دوستوں کے ساتھ حُسنِ سلوک کریں تو بھی انہیں خوشی اورراحت نصیب ہوگی ۔
¥
حُسنِ سلوک کے اعلی درجے پر فائز :واضح رہے کہ حدیث پاک میں فقط یہ بیان فرمایا گیا کہ ’’سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ والد کے دوستوں کے ساتھ نیکی کی جائے ۔ ‘‘ یہاں والد کے دوستوں کے دوست یا دوست کی اولاد کا تذکرہ نہیں فرمایا گیا لیکن ہم نے دیکھا کہ صحابی رسول حضرت سیدناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنے والد گرامی امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے دوست کی اولاد کے ساتھ نیکی کی ۔ کیونکہ دوست کی اولاد کے ساتھ نیکی کرنا دوست کی خوشی کا باعث ہے اور اور والد کے دوست کی خوشی والد کی خوشی کا باعث ہے ۔

یقیناً حضرت سیدنا
عبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُحُسنِ سلوک کے اعلیٰ درجے پر فائز تھے اور کیوں نہ ہوتے کہ آپ نے یہ مدنی تربیت اپنے والد گرامی امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ہی حاصل کی تھی ۔ سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُوہ سچے پکے عاشقِ رسول تھے جو تمام صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبلکہ تمام مسلمانوں کے ساتھ نہایت ہی حسن سلوک کے ساتھ پیش آیا کرتے تھے ، تمام مسلمانوں کے جملہ حقوق کا خیال رکھا کرتے تھے ، آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے کبھی کسی کو کوئی تکلیف نہ دی ، کبھی کسی کا کوئی حق تلف نہ ہونے دیا ، نیز ہرشخص کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آنا آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی مبارک عادات میں شامل تھا ، اور عموماً والدین کے اوصاف ان کی اولاد میں بھی پائے جاتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے بیٹے اور جلیل القدر صحابی حضرت سیدناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبھی حُسنِ اَخلاق کے پیکر تھے ۔
¥
حُسنِ سلوک پر تین احادیث :حُسنِ سلوک کے متعلق تین فرامینِ مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم: ( 1 ) ” ہر حسن سلوک صدقہ ہے غنی کے ساتھ ہو یا فقیر کے ساتھ ۔ “ ( ) ( 2 ) ’’دعا ہی تقدیر کو ٹال سکتی ہے اور نیک سلوک ہی عمر میں اضافہ کرتاہے ۔ ‘‘ ( ) (3 ) ’’جسے یہ پسند ہوکہ اس کی عمر اور رزق میں اضا فہ کردیاجائے تواسے چاہیئے کہ اپنے والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے اور اپنے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کیا کرے ۔ ‘‘ ( ) (4 ) ’’جو اپنے والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتاہے اس کے لئے خوشخبری ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّاس کی عمر میں اضافہ کردیتاہے ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
جنت کے 8 دروازوں کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ
اور ان کی وضاحت سے ملنے والے 8مدنی پھول

(1) اپنے والد کے دوست کے ساتھ حسن سلوک کرنا بھی والد کے ساتھ ہی حسن سلوک ہے ۔
(2) اپنے والد کے دوست کی اولاد کے ساتھ حسن سلوک کرنا بھی والد کے ساتھ ہی حسن سلوک ہے ۔
(3) حسن سلوک کے لیے کسی وقت کی قید نہیں بلکہ جب بھی موقع ملے حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے ۔
(4) اپنی کوئی بھی ذاتی شے بھی کسی کو پیش کردینا حسن سلوک ہی کہلاتا ہے ۔
(5) حسن سلوک فقط یہی نہیں ہے کہ کوئی اچھی چیز پیش کی جائے بلکہ اچھی نیت کے ساتھ اگر معمولی چیز بھی پیش کردی جائے تو بھی حسن سلوک ہی کہلائے گا ۔
(6) کسی کو اپنا عمامہ یا سواری پیش کردینا بھی صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سنت مبارکہ ہے ۔
(7) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناپنے والدین اور ان کے دوستوں کے ساتھ نہایت ہی حسن سلوک سے پیش آیا کرتے تھے ، ہمیں بھی ان کی سیرتِ طیبہ پر عمل کرنا چاہیے ۔
(8) حضرت سیدنا
عبد اللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُحُسنِ سلوک کے اعلی مرتبے پر فائز تھے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے والدین اور ان کے دوستوں کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 342