Main Icon

حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 340

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ عِیْسٰی اَلْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قَالَ : ” اِنَّ اللہَ تَعَالٰی حَرَّمَ عَلَیْکُمْ عُقُوْقَ الْاُمَّھَاتِ وَ مَنْعًا وَھَاتِ وَ وَاْدَ الْبَنَاتِ وَکَرِہَ لَکُمْ قِیْلَ وَ قَالَ وَکَثْرَۃَ السُّوَالِ وَ اِضَاعَۃَ الْمَالِ.“ ( ) وَفِی الْبَابِ اَحَادِیْثٌ سَبَقَتْ فِی الْبَابِ قَبْلَہُ کَحَدِیْثِ ” وَاَقْطَعُ مَنْ قَطَعَکِ“ وَ حَدِیْثِ ” مَنْ قَطَعَنِیْ قَطَعَہُ اللہُ. ‘‘

عن ابی عیسی المغیرۃ بن شعبۃ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم قال : ” ان اللہ تعالی حرم علیکم عقوق الامھات و منعا وھات و واد البنات وکرہ لکم قیل و قال وکثرۃ السوال و اضاعۃ المال.“ ( ) وفی الباب احادیث سبقت فی الباب قبلہ کحدیث ” واقطع من قطعک“ و حدیث ” من قطعنی قطعہ اللہ. ‘‘

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو عیسیٰ مغیرہ بن شعبہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّنے تم پر ماؤں کی نافرمانی ، حق کی عدم ادائیگی ، ناحق طلب کرنا اور بچیوں کو زندہ دفن کرنا حرام کردیا ہے اور ہر سنی سنائی بات کردینے ، کثرت سے سوال کرنے اور مال ضائع کرنے کو تمہارے لیے مکروہ قرار دیا ہے ۔ “
اس باب کی بہت سی احادیث اس سے پہلے باب میں گزر چکی ہیں جیسے یہ حدیث ” اے رحم جو تجھے قطع کرے گا میں اسے قطع کروں گا“ اور یہ حدیث ” جس نے مجھے قطع کیا
اللہ عَزَّوَجَلَّاسے قطع کرے گا ۔ “

شرح حدیث

( 1 ) ’’ماں ‘‘ کی نافرمانی کی تخصیص کی وجہ :جس طرح ماں کی نافرمانی حرام ہے اسی طرح باپ کی نافرمانی بھی حرام ہے ، لیکن حدیث پاک میں فقط ماؤں کی نافرمانی کا ذکر فرمایا گیا ۔ علامہ بدرالدین عینیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِینے اس کی چند وجوہات بیان فرمائی ہیں : ( 1 ) ایک وجہ یہ ہے کہ عورت کمزور ہوتی ہے اور باپ کے مقابلے میں اس کی نافرمانی زیادہ کی جاتی ہے اس لیے ماں کی نافرمانی کا ذکر فرمایا ۔ ( 2 ) دوسری وجہ یہ ہے کہ اس بات پر تنبیہ کرنے کے لیے ماں کا ذکر کیا کہ ماں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا باپ کے ساتھ اچھے برتاؤ پر مقدم ہے ۔ ( 3 ) ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایک کا ذکرکرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ دوسرے کا معاملہ بھی اسی کی طرح ہے ۔ ( )
عَلَّامَہ عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیفرماتے ہیں : ’’والد کی نافرمانی بھی اگرچہ بہت بڑی ہے مگر ماں کی نافرمانی کی تخصیص اس لیے فرمائی کہ ماں کی نافرمانی زیادہ بُری ہے اور یہ زیادہ واقع ہوتی ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
ماں کی نافرمانی سے بچیے :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! آج کل والدین کی نافرمانی خصوصًاماں کی نافرمانی عام ہوتی چلی جارہی ہے ، بیٹا گھر میں دیر سے آیااور ماں نے فقط یہ پوچھ لیا کہ بیٹا آج تمہیں گھر آنے میں دیر ہوگئی تو بیٹا اپنی ماں پر ایسے برسنے لگتا ہے جیسے ماں نے اسے کوئی گالی دے دی ہو ، اگر کوئی نصیحت کی بات کردے تو بیٹا نہ جانے کیا کیا توہین آمیز جملے ماں کی مقدس ذات پر کسنے لگتا ہے ۔ بعض بدنصیب اور بے حیا لوگ تو اپنی ماں کو گالیاں بکنے کے ساتھ ساتھ ان پر ہاتھ اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرتے ، انہیں ذرہ بھر اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ یہ وہی ماں ہے جس نے کم وبیش نو مہینے تک ہمیں اپنے پیٹ میں پالا ، ہمارے پیدا ہونے کے بعداپنے ہاتھوں سے ہمیں کھلایا پلایا ، ہماری پرورش کی ، ہمیں چلنا ، بولنا ، کھانا ، پہننا سکھایا ، ہماری انگلی پکڑ کر زندگی کے ہر ہر موڑ پر ہماری رہنمائی کی ۔ آہ ! اِسلام نے جس ماں کے قدموں تلے جنت کو بیان فرما کر اسے عزت وعظمت کا تاج پہنایا ، آج اسی ماں کی توہین کرکے اس کی عظمت کو تار تار کیا جارہاہے ، بہت بدنصیب ہیں وہ لوگ جو اپنی ماں کی عزت وعظمت کو پامال کرتے ہیں ، اس کے سامنے زبان چلاتے ہیں ، اسےمَعَاذَاللہگالیاں دیتے ہیں ، طرح طرح کی تکالیف پہنچاتے ہیں ،اللہ عَزَّ وَجَلَّایسے لوگوں کو ہدایت نصیب فرمائے آمین ۔ اوربہت خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اپنی ماں کی عزت اور اس کا احترام کرتے ہیں ، اس کی ہرجائز بات پر سرتسلیم خم کر دیتے ہیں ، ماں کی ناپسندیدہ باتوں پر بھی صبر کرتے ہیں ، اس کے حق میں دعائیں مانگتے ہیں ۔ یاد رکھیے ! ماں کی نافرمانی میں کوئی بھلائی نہیں ہے ، ماں کے نافرمان کی مغفرت نہیں ہوگی ، ماں کا نافرمان جنت میں نہیں جائے گا ۔ فرمانِ مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے : ” تین شخص جنت میں داخل نہیں ہوں گے :

( 1 ) والدین کا نافرمان ( 2 ) شراب کا عادی اور ( 3 ) دے کر احسان جتانے والا ۔ ‘‘ ( ) امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰ شیر خدا
کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا کہ جب میری امت پندرہ برائیاں اختیار کرلے گی تو اس پر آفتیں اور بلائیں نازل ہوں گی ۔ ‘‘ ان پندرہ برائیوں میں سے ایک برائی ماں کی نافرمانی بھی ہے ۔ ( )اللہ عَزَّوَجَلَّہمیں اپنے والدین خصوصًا ماں کی نافرمانی سے محفوظ فرمائے ۔ آمین
¥
( 2 ) حقوق کی عدم ادائیگی کا بیان :عمدۃ القاری میں ہے : ” جس چیز کا دینا تم پر لازم ہے اس کے دینے سے منع کرنا تم پر حرام ہے ۔ ‘‘ ( )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اگر آپ کے ذمے کسی کا کوئی حق ہے تو اسے موت سے پہلے پہلے ادا کردیجئے کہ اسی میں عافیت ہے ، دنیا میں کسی کا حق مالی صورت میں ادا کرنا بہت آسان ہے لیکن قیامت کے دن کسی کا حق نیکیوں کی صورت میں ادا کرنا یا اس کے گناہ لے کر اسے راضی کرنا بہت مشکل کام ہے ، اس سے بڑی مفلسی کیا ہوگی کہ کل بروزِ قیامت بندہ ڈھیروں نیکیوں کے ساتھ آئے مگر وہ لوگ جن کے اس نے حق دبائے ہوں گے یا حق تلف کیے ہوں گے وہ اس کی نیکیاں لے جائیں اور اس کا نامہ اعمال خالی ہوجائے ۔ حضور نبی کریم رؤف رحیم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے استفسار فرمایا : ’’کیا تم جانتے ہوکہ مفلس کون ہے ؟ ‘‘ عرض کیا : ’’يارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ہم میں مفلس وہ کہلاتا ہے جس کے پاس نہ درہم ہوں نہ کوئی مال ہو ۔ ‘‘ تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ميری اُمت ميں مفلس وہ ہے جو قيامت کے دن نماز ، زکوٰۃ اور روزے لے کر حاضر ہو گا اور اس نے اِس کو گالی دی ہو گی ، اِس کا مال چھينا ہو گا ، اس کا خون بہایا ہوگا اور اسے مارا ہوگا تو اس کی نیکيوں ميں سے کچھ نيکياں اسے دے جائیں گی اور کچھ اسے دے دی جائیں گی اور اگر پورا حق ادا کرنے سے پہلے اُس کی نيکياں ختم ہو

گئيں تو ان کے گناہ لے کر اس پر ڈال دئیے جائیں گے اور اسے جہنم ڈال دیا جائے گا ۔ ‘‘ ( )
آج کل قرض کے نام پر لوگوں کے ہزاروں بلکہ لاکھوں روپے ہڑپ کرلئے جاتے ہیں ۔ ابھی تو یہ سب آسان لگ رہا ہوگا لیکن قِیامت میں بہت مہنگا پڑجائے گا ۔ میرے آقا اعلیٰ حضر ت امام احمد رضا خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰننقل کرتے ہیں : ’’جو دنیا میں کسی کے تقریبًا تین پیسے دَین ( یعنی قرض ) دبالے گا بروزِقیامت اسے ان کے بدلے سات سو باجماعت نمازیں دینی پڑ جائیں گی ۔ ‘‘ ( ) جی ہاں ! جو کسی کا قرضہ دبالے وہ ظالم ہے اور سخت نقصان وخُسران میں ہے ۔ حضرت سیِّدُنا سلیمان طبرانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیایک روایت نقل کرتے ہیں کہ سرکارمدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایاجس کا مفہوم ہے : ” ظالم کی نیکیاں مظلوم کو ، مظلوم کے گناہ ظالم کو دلوائے جائیں گے ۔ ‘‘ ( )
¥
( 3 ) ناحق طلبی کی مذمت :عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ناحق طلبی سے مراد یا تو یہ ہے کہ تم پر اس چیز کا لینا حرام ہے جس کا لینا تمہارے لیے جائز نہیں یا یہ معنی ہے کہ مطلقاً سوال کرنا منع ہے ۔ ‘‘ ( )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اگر ہم اپنے معاملات پر غور کریں تو ہمارے سامنے کئی ایسی چھوٹی چھوٹی چیزیں ظاہر ہوں گی جنہیں ہم اپنے کام میں لے آتے ہیں مگر اُن کا استعمال ہمارے لیے شرعاً جائز نہیں ہوتا ۔ مثلاً کسی نے کوئی چیز امانت رکھوائی مگر اس کی اجازت کے بغیر اس میں تصرف کرلیا ، کسی سے عاریۃً کوئی چیز لی اور پھر جان بوجھ کر واپس نہ کی ، کسی سے قرض لینے کے بعد جان بوجھ کر اسے واپس نہیں کیا ، کسی سے اس کا مال ظلماً چھین کر اپنے مال میں شامل کرلیا ، سبزیوں اور پھلوں کی ریڑھیوں سے چپ چاپ کچھ نہ کچھ اٹھا کر اپنے تھیلے میں یا منہ میں ڈال لیا ، معلوم ہے کہ یہ چیز فلاں کی ہے مگرپھر بھی اس کی اجازت کے بغیر اس میں

تصرف کرلیا ۔ واضح رہے کہ یہ تمام کام ناجائز وحرام اور جہنم میں لے جانے والے کام ہیں ۔ دنیا میں اگر
حُقُوقُ اللہمیں کوئی کوتاہی ہوگئی تو ہوسکتا ہے کل بروزِ قیامتاللہ عَزَّ وَجَلَّاپنی کرم نوازی سے اسے معاف فرمادے مگر حقوق العباد کا معاملہ نہایت ہی سخت ہے اگر آج دنیا میں کسی کا کوئی حق دبا لیا تو کل بروز قیامت جب تک وہ بندہ معاف نہیں کرے گا رب تعالی بھی معاف نہ فرمائے گا ، بظاہر معمولی نظر آنے والی شے بھی اگربِغیر اجازت استعمال کر ڈالی اورقِیامت کے روز پکڑے گئے تو کیا بنے گا؟ چنانچہ حضرتِ علامہ عبدالوہّاب شَعرانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیتَنْبِیْہُ الْمُغْتَرّینمیں نقل کرتے ہیں : مشہور تابِعی بزرگ حضرتِ سیِّدُنا وَہب بن مُنَبِّہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ ایک اسرائیلی نوجوان نے اپنے پچھلے تمام گناہوں سے توبہ کی پھر ستَّر سال تک اس طرح عبادت کرتا رہا کہ دن کو روزہ رکھتا ، رات کو جاگ کر عبادت کرتا ، نہ کسی سائے کے نیچے آرام کرتا اور نہ کوئی عمدہ غذا کھاتا ، اس کے انتِقال کے بعدکسی نے خواب میں دیکھ کر پوچھا : ’’ماذَا فَعَلَ اللہُ بِکَ؟ یعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کے ساتھ کیا مُعامَلہ فرمایا؟ ‘‘ جواب دیا : ”اللہ عَزَّ وَجَلَّنے میرا حساب لیا پھر سارے گناہ بخش دیئے مگر ایک لکڑی جس سے میں نے اس کے مالک کی اجازت کے بغیر دانتوں میں خِلال کرلیا تھا ( یہ معاملہ حقوق العباد کا تھا اور یہ مُعاف کروانا رہ گیا تھا ) بس اس کی وجہ سے میں اب تک جنت سے روک دیا گیا ہوں ۔ ‘‘ ( )
¥
گیہوں کادانہ توڑنے کا اُخروی نقصان :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ذرا غور تو کیجئے ! ایک تنکا جنت میں داخل ہونے میں رکاوٹ بن گیا ! اور اب معمولی لکڑی کے خِلال کی تو بات ہی کہاں ہے ، بعض لوگ دوسروں کے لاکھوں بلکہ کروڑوں روپے ہڑپ کر جاتے ہیں اور ڈکار تک نہیں لیتے ،اللہ عَزَّ وَجَلَّایسے لوگوں کو ہدایت عطا فرمائے ، آمین ۔ ایک اور عبرتناک حکایت ملاحظہ فرمایئے جس میں صرف ایک گیہوں کے دانے کے بِلا اجازت کھانے کے نہیں صرف توڑ ڈالنے کے اُخروی نقصان کا تذکِرہ ہے ۔ چنانچہ منقول ہے کہ ایک شخص کو بعدِوفات کسی نے خواب میں دیکھ کر پوچھا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ ‘‘ کہا : ”اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے بخش دیا اور میرے ساتھ

اچھا معاملہ فرمایا مگر یہ کہ
اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھ سے حساب لیا یہاں تک کہ مجھ سے اس دن کے بارے میں بھی پوچھ گچھ ہوئی جس دن میں روزے سے تھا اور اپنے ایک دوست کی دُکان پر بیٹھا ہوا تھا جب افطار کا وقت ہوا تو میں نے گیہوں کا ایک دانہ اُٹھایا اور اس کو توڑ کر کھانا ہی چاہتا تھا کہ ایک دم مجھے احساس ہوا کہ یہ دانہ میرا نہیں ، میں نے اُسے جہاں سے اٹھایا تھا وہیں رکھ دیا پس میری نیکیوں میں سے اس گیہوں کے توڑے جانے کے نقصان کے برابر نیکیاں لے لی گئیں ۔ ‘‘ ( )اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں حقوق العباد تلف کرنے سے محفوظ فرمائے ۔ آمین
¥
( 4 ) بچیوں کو زندہ دفن کرنا :حدیث پاک میں ہے ”وَاْدَ الْبَنَاتِ“اس کا مطلب ہے بچیوں کو زندہ دفن کرنا ۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ بیٹیوں سے نفرت کرنے کی وجہ سے ایسا کیا کرتے تھے ، کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے جس شخص نے اپنی لڑکی کو زندہ دفن کیا وہ قیس بن عاصم تمیمی تھا ۔ کفار میں پائی جانے والی اس وبا کے کچھ نہ کچھ گندے اثرات ہمارے معاشرے میں بھی پائے جاتے ہیں ، بعض لوگ بیٹیوں کی پیدائش کونحوست تصور کرتے ہیں ، بیٹے کی پیدائش پر تو گھر میں خوشیوں کے شادیانے بجتے ہیں لیکن اگر اسی گھر میں بیٹی کی پیدائش ہوتو صف ماتم بچھ جاتی ہے حالانکہ بیٹی تواللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت ہے ، اسلام نے بیٹیوں کو وہ عزت وعظمت عطا فرمائی کہ کسی اور دین میں اس کا تصور بھی نہیں ، بیٹیوں والے ماں باپ بہت خوش نصیب ہوتے ہیں ، بیٹیوں کی اچھی پرورش پر جنت کی بشارت ہے ۔ چنانچہ بیٹیوں کی عزت وعظمت پر تین فرامین مصطفے ٰ ملاحظہ کیجئے : ( 1 ) ’’جس شخص کی دو بیٹیاں ہوں اور وہ جب تک اس کے پاس رہیں ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتا رہے تو یہ بیٹیاں اسے جنت میں داخل کروادیں گی ۔ ‘‘ ( ) ( 2 ) ’’جس نے دو بچیوں کے بالغ ہونے تک ان کی پرورش کی تو میں اور وہ شخص قیامت کے دن اس طر ح آئيں گے ۔ ‘‘ پھر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی دونوں انگلیاں ملاکر دکھائیں ۔ ( ) (3 ) ’’جس کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں یا دو بیٹیاں یا دو بہنیں ہوں پھر وہ ان کی اچھی طرح

پرورش کرے اور ان کے معاملے میں
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرتارہے تو اس کیلئے جنت ہے ۔ ‘‘ ( )( 5 ) ہرسنی سنائی بات کردینا :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ہرسنی سنائی بات کو آگے پھیلادینے کا مرض بھی ہمارے ہاں بہت عام ہوچکا ہے ، اسی مرض کی وجہ سے بسااوقات آپس میں لڑائی جھگڑے بھی ہوتے ہیں بلکہ مار پیٹ تک نوبت آجاتی ہے ، ظاہری بات ہے کہ جب کسی کو کوئی بات پہنچی اور اس نے بغیر تحقیق کے اسے آگے بیان کردیا تو وہ بات جس سے متعلقہ ہوگی یقیناً اسے بُری لگے گی اور لڑائی جھگڑے اور فساد کا باعث بھی بنے گی ۔ لہذا ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ جب بھی ہمارے پاس کسی شخص یا کسی واقعے کے متعلق کوئی بات پہنچے تو جب تک ہم اس کی تحقیق نہ کرلیں کہ آیا یہ بات جیسی مجھ تک پہنچی ہے ویسی ہے بھی یا نہیں؟ تب تک اس بات کو آگے نہ پھیلائیں بلکہ ہربات کا آگے پھیلانا ضروری بھی نہیں ہوتا اگرچہ وہ بالکل صحیح ہو ، ۔ بعض لوگ فتنہ وفساد پھیلانے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں ، اِدھر کی اُدھر اور اُدھر کی اِدھر لگاتے بجھاتے رہتے ہیں اگر آپ نے بات کی تحقیق کرنے کی عادت بنالی تو ایسے لوگ بھیاِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے مذموم مقاصد میں ناکام ہو جائیں گے ۔ آج کل یہ وبا بھی عام ہوگئی ہے کہ موبائل فون کے ذریعے بغیر تحقیق کے دینی ودنیاوی پیغامات کو بھرپور طریقے سے پھیلایا جاتا ہے بلکہ بسااوقات تو پیغام میں یہ بھی لکھا ہوتا ہے کہ اگر آپ نے اس پیغام کو اتنے افراد کو نہ بھیجا تو آپ کو اِس اِس طرح کا نقصان پہنچے گا ۔ واضح رہے کہ کسی بھی دینی یا دنیوی پیغام کو بغیر تحقیق کے آگے بھیج دینا بسااوقات ایمان کے ضائع ہونے کا سبب بھی بن جاتا ہے ، بعض دفعہ ان پیغامات میں کفریہ کلمات یا اَشعار ہوتے ہیں ، توہین آمیز جملے لکھے ہوتے ہیں ، ایسے پیغامات کو بغیر تصدیق کے آگے بھیج دینا یقینًا اپنے ایمان کو خطرے میں ڈالنا ہے ، بعض اوقات ان پیغامات میں موضوع روایات لکھی ہوتی ہیں یا دینی حوالے سے کوئی غلط معلومات درج ہوتی ہیں ، ایسے پیغامات کو بھی بغیر تصدیق کے آگے بھیج دینا خطرے سے خالی نہیں ہے ۔ حدیث پاک میں ہے : ” کسی شخص کے جھوٹا ہونے کو یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی

سنائی بات ( بِلا تحقیق ) بیان کردے ۔ “ ( ) لہٰذا اپنی عادت بنائیں کہ کسی بھی سنی سنائی بات یا بغیر تصدیق کے کسی بھی پیغام کو آگے نہ بھیجیں نہ پھیلائیں ، فقط اچھی باتیں اور تصدیق شدہ دینی معلومات کو ہی آگے بھیجیں ۔ تھوڑی سی احتیاط دنیا وآخرت کی بھلائیوں کا سبب اور تھوڑی سی بے احتیاطی دنیا وآخرت کی تباہی وبربادی کا سبب بن سکتی ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّعمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
¥
( 6 ) کثرت سوال کی ممانعت :حدیث پاک میں کثرت سوال کو مکروہ فرمایا گیا ہے ، شارحین کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے اس کے کئی معانی بیان فرمائے ہیں ۔ چنانچہعَلَّامَہ عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیفرماتے ہیں : ’’اس سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کے احوال کے متعلق زیادہ سوال نہ کرے یا یہ مراد ہے کہ فضول اور لایعنی باتوں کے بارے میں زیادہ سوال نہ کرے یا یہ مراد ہے کہ کسی سے امتحان لینے کے لیے یا فخر کرنے اور اپنی عظمت ظاہر کرنے کے لیے دوسروں سے علمی سوالات نہ کرے ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے کثرت سوال سے کئی باتیں مراد لی ہیں ، فرماتے ہیں : ’’ اپنی ذات کے لیے بلا حاجت مال کا سوال نہ کرے ۔ بلا ضرورت مشکل اور پیچیدہ چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرے ۔ لوگوں کے حالات سے متعلق اور زمانے کے مختلف واقعات کے بارے میں زیادہ سوال نہ کرے ۔ کسی بھی شخص سے خصوصیت کے ساتھ اس کے حالات کے بارے میں تفصیل سے سوالات نہ کرے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اسے یہ اچھا نہ لگے ۔ ‘‘ ( )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! واقعی بعض لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ خواہ مخواہ اور فضول قسم کے سوالات پوچھتے رہتے ہیں جن کا نہ دین سے کوئی تعلق ہوتا ہے اور نہ ہی دنیا سے بلکہ ان کی اپنی ذات سے بھی ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا بس ذہن میں آیا اور پوچھ لیا ۔ علمائے کرام و مفتیانِ کرام
رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامسے اس طرح کے فضول سوالات کرکے ان کے قیمتی وقت کو ضائع کرنا یقینًا نادانی ہے ۔ اس معاملے میں احتیاط کرنی

چاہیے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّعمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
¥
سوال کسے حلال ہے اور کسے نہیں؟صدرُالشریعہ ، بدرالطریقہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکی مایہ ناز تصنیف بہار شریعت جلد اول صفحہ نمبر 940 ، حصہ پنجم سے چند اقتباسات کا خلاصہ پیش خدمت ہے :
آج کل ایک عام بلا یہ پھیلی ہوئی ہے کہ اچھے خاصے تندرست چاہیں تو کما کر اوروں کو کھلائیں مگر انہوں نے اپنے وجود کو بیکار قرار دے رکھا ہے ، کون محنت کرے مصیبت جھیلے ، بے مشقت جو مل جائے تو تکلیف کیوں برداشت کرے ۔ ناجائز طور پر سوال کرتے اور بھیک مانگ کر پیٹ بھرتے ہیں اور بہتیرے ( بہت سے ) ایسے ہیں کہ مزدوری تو مزدوری ، چھوٹی موٹی تجارت کو ننگ و عار خیال کرتے اور بھیک مانگنا کہ حقیقۃً ایسوں کے لیے بے عزتی و بے غیرتی ہے مایہ عزت جانتے ہیں اور بہتوں نے تو بھیک مانگنا اپنا پیشہ ہی بنا رکھا ہے ، گھر میں ہزاروں روپے ہیں سود کا لین دین کرتے زراعت وغیرہ کرتے ہیں مگر بھیک مانگنا نہیں چھوڑتے ، اُن سے کہا جاتا ہے تو جواب دیتے ہیں کہ یہ ہمارا پیشہ ہے ۔ واہ صاحب واہ ! کیا ہم اپنا پیشہ چھوڑ دیں حالانکہ ایسوں کو سوال حرام ہے اور جسے اُن کی حالت معلوم ہو اُسے جائز نہیں کہ ان کو دے ۔ بلاحاجت دوسروں سے مانگنے کی احادیث میں مذمت بیان فرمائی گئی ہے ۔ چنانچہ تین فرامین مصطفے ٰ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپیش خدمت ہیں : ( 1 ) ’’جو شخص بغیر حاجت سوال کرتا ہے گویا وہ انگارا کھاتا ہے ۔ ‘‘ ( )(2 ) ’’جو لوگوں سے مال بڑھانے کے لیے سوال کرتا ہے بیشک وہ انگارے کا سوال کرتا ہے تو چاہے کم کا سوال کرے یا زیادہ کا ۔ ‘‘ ( ) (3 ) ’’اگر تمہیں معلوم ہوتا کہ سوال کرنے میں کیا ( بُرائی ) ہے تو کوئی بھی کسی کے پاس کوئی چیز مانگنے نہ جاتا ۔ ‘‘ ( )
بعض سائل کہہ دیا کرتے ہیں کہ
اللہ(عَزَّ وَجَلَّ) کے لیے دو ، خدا کے واسطے دو ، حالانکہ اس کی بہت

سخت ممانعت آئی ہے ۔ ایک حدیث میں اُسے ملعون فرمایا گیا ہے ۔ اور ایک حدیث میں بدترین خلائق اور اگر کسی نے اس طرح سوال کیا تو جب تک بُری بات کا سوال نہ ہو یا خود سوال بُرا نہ ہو ( جیسے مالدار یا ایسے شخص کا بھیک مانگنا جو قوی تندرست کمانے پر قادر ہو ) اور یہ سوال کو بلا دقت پورا کر سکتا ہے تو پورا کرنا ہی ادب ہے کہ کہیں بروئے ظاہر حدیث یہ بھی اُسی وعید کا مستحق نہ ہو ۔ وہاں اگر سائل مُتعنّت ہو ( یعنی سوال کرنے والا خود اپنی ذلّت کے درپے ہو یعنی پیشہ ور بھکاری ہو ) تو نہ دے ۔ نیز یہ بھی لحاظ رہے کہ مسجد میں سوال نہ کرے ، خصوصًا جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر کہ یہ حرام ہے بلکہ بعض علما فرماتے ہیں کہ ’’مسجد کے سائل کو اگر ایک پیسہ دیا تو ستّر پیسے اور خیرات کرے کہ اس ایک پیسہ کا کفارہ ہو ۔ ‘‘ سیدنامولیٰ علی
کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے ایک شخص کو عرفہ کے دن عرفات میں سوال کرتے دیکھا ، اُسے دُرّے لگائے اور فرمایا : ’’اس دن میں اور ایسی جگہ غیر خدا سے سوال کرتا ہے ۔ ‘‘ ان چند احادیث کے دیکھنے سے معلوم ہوا ہوگا کہ بھیک مانگنا بہت ذلّت کی بات ہے بغیر ضرورت سوال نہ کرے اور حالت ضرورت میں بھی اُن امور کا لحاظ رکھے جن سے ممانعت وارد ہے اور سوال کی اگر حاجت ہی پڑ جائے تو مبالغہ ہرگز نہ کرے کہ بے لیے پیچھا نہ چھوڑے کہ اس کی بھی ممانعت آئی ہے ۔
¥
( 7 ) مال ضائع کرنا :شرح اِبن بطال میں ہے : مال کو ضائع کرنے کا کیا مطلب ہے اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے چنانچہ سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ مال کا ضیاع یہ ہے کہاللہ عَزَّوَجَلَّتمہیں رزق دے اور تم اُسے وہاں خرچ کرو جہاں خرچ کرنااللہ عَزَّوَجَلَّنے تم پر حرام کیا ہے ۔ امام مالک کا بھی یہی قول ہے ۔ مہلب کہتے ہیں کہ ایک قول یہ ہے کہ فضول خرچ کرنا بھی مال کو ضائع کرنا ہے اگر چہ حلال چیزوں میں خرچ کیا جائے ۔ ( )
¥
اِسراف سے بچیں :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مال کے ضیاع اور اِسراف یعنی فضول خرچی سے بچیں کہ ان میں کوئی

بھلائی نہیں ہے ۔ علمائے کرام
رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامفرماتے ہیں : ’’لَاخَیْرَ فِی الْاِسْرَافِ وَلَا اِسْرَافَ فِی الْخَیْریعنی اسراف میں کوئی بھلائی نہیں اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنے میں کوئی اِسراف نہیں ۔ ‘‘ ( )
اگر ہم غور کریں تو چھوٹے چھوٹے گھریلو معاملات سے لے کر بڑے بڑے کاروباری معاملات میں مال کے ضیاع اور اسراف جیسے ناپسندیدہ امور پائے جاتے ہیں ، مال کا ضیاع اور اسراف دراصل رب تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری ہے جو یقینًا رزق میں تنگی کا باعث ہے ، کاش ہم مال ضائع نہ کریں ، اسراف سے اپنے آپ کو بچانے والے بن جائیں ۔ شیخ ِ طریقت امیرِ اہلسنت
دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکا اسراف سے بچنے کے حوالے سے مدنی ذہن ملاحظہ کیجئے ۔ آپ کی خدمت میں صحرائے مدینہ ( باب المدینہ کراچی ) میں فیضان مد ینہ کا سنگِ بنیاد رکھنے کے لئے عرض کی گئی تو آپ نے فرمایا کہ’’ سنگ ِبنیاد میں عمومًا کھودے ہوئے گڑھے میں کسی شخصیت کے ہاتھو ں سے سیمنٹ کا گارا ڈلوا دیا جاتا ہے ، بعض جگہ ساتھ میں اینٹ بھی رکھوالی جاتی ہے لیکن یہ سب رسمی ہوتا ہے بعد میں وہ سیمنٹ وغیرہ کا م نہیں آتی ۔ مجھے تو یہ اِسراف نظر آتا ہے اور اگر مسجد کے نام پر کئے ہوئے چندے کی رقم سے اس طرح کا اسراف کیا جائے تو توبہ کے ساتھ ساتھ تاوان یعنی جو کچھ مالی نقصان ہوا وہ بھی ادا کرنا پڑے گا ۔ ‘‘ عرض کی گئی : ’’ایک یادگاری تختی بنوا لیتے ہیں ، آپ اس کی پردہ کشائی فرمادیجئے گا ۔ ‘‘ توفرمایا : ’’پردہ کشائی کرنے اور سنگ بنیاد رکھنے میں فرق ہے ۔ پھر چونکہ ابھی میدان ہی ہے اس لئے شاید وہ تختی بھی ضائع ہوجائے گی ۔ ‘‘ بالآخرامیرِ اہلسنتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنے فرمایا کہ : ’’جہاں واقعی ستون بنا نا ہے اس جگہ پر ہتھوڑے مار کر کھودنے کی رسم ادا کرلی جائے اور اس کو ’’سنگِ بنیاد رکھنا ‘‘ کہنے کے بجائے ’’تعمیر کا آغاز ‘‘ کہا جائے ۔ ‘‘ چنانچہ۲۲ ربیع النور شریف ۱۴۲۶ہجری یکم مئی 2005 عیسوی بروز اتوار ، آپ کی خواہش کے مطابق 25سیِّد مَدَنی منوں نے اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے مخصوص جگہ پر ہتھوڑے چلائے ، آپ خود بھی اس میں شریک ہوئے اور اس نرالی شان سے فیضان مدینہ ( صحرائے مدینہ ، ٹول پلازہ ، سپر ہائی وے باب المدینہ کرچی ) کے تعمیری کام کا آغاز ہوا ۔ ( )

سنت کی بہار آئی فیضان مدینہ میں
رحمت کی گھٹا چھائی فیضان مدینہ میں
اس شہر کے آئے ہیں باہر کے بھی آئے ہیں
سرکار کے شیدائی فیضان مدینہ میں
مقبول جہاں بھر میں ہو دعوت اسلامی
ہر لب پہ دعا آئی فیضان مدینہ میں
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی اِن پر رحمت ہوا ور اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو ۔ آمینمدنی گلدستہ
’’امام احمد رضا ‘‘ کے 11حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے 11مدنی پھول
(1)
والدین کی نافرمانی سے ہردم بچنا چاہیے خصوصًا ماں کی نافرمانی بہت شدید ہے ، احادیث مبارکہ میں اس کی شدید مذمت بیان فرمائی گئی ہے ۔
(2) اگر کسی کے ذمے کوئی حق ہوتو اسے چاہیے کہ دنیا میں ہی اس کی ادائیگی کی ترکیب بنالے کیونکہ کل بروز قیامت اسے ادا کرنا بہت مشکل ہوجائے گا ، بلکہ سراسر خسارہ اٹھا نا پڑے گا ۔
(3) سب سے مفلس شخص وہ ہے جو کل بروز قیامت اپنی نیکیوں کے ساتھ آئے گا مگر لوگوں کے جو اس نے حق تلف کیے ہوں گے ان کے سبب وہ اپنی تمام نیکیوں سے محروم کردیا جائے گا ۔
(4) دنیا میں اگر کسی کے کچھ پیسے دینا ہوں تو جلد از جلد ادائیگی کردیجئے کیونکہ جو دنیا میں کسی کے تین پیسے دَین ( یعنی قرض ) دبالے گا بروزِ قیامت اُسے اِس کے بدلے سات سو باجماعت نمازیں دینا ہوں گی ۔
(5) جس چیز کا لینا ہمارے لیے جائز نہیں ہے اسے ہرگز نہ لیجئے کہ کل بروزِ قیامت اس کے متعلق پوچھ گچھ کی جائے گی اور اس کا بہت سخت وبال ہوگا ۔

(6) کسی بھی گناہ اور ناجائز تصرف کو ہلکا نہ جائیے بلکہ اس سے بچنے کا مدنی ذہن بنائیے کہ بسا اوقات تھوڑے سے تصرف پر بھی پکڑ ہوسکتی ہے جیسا کہ فقط گیہوں کا دانہ توڑنے پر نیکیاں لے لی گئیں ۔
(7) بیٹیاں
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت ہوتی ہیں ، ان سے نفرت کرنے کے بجائے ان کی اچھی طرح دینی تعلیم وتربیت کیجئے کہ یہ بیٹیاں آپ کے لیے جنت میں داخلے کا سبب ہیں ۔
(8) جوشخص اپنی بیٹیوں کی اچھی تعلیم وتربیت کرے اس کے لیے جنت کی بشارت ہے نیز ایک روایت کے مطابق اسے جنت میں رفاقت مصطفے ٰ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنصیب ہوگی ۔
(9) ہرسنی سنائی بات کو آگے بڑھادینا اچھی بات نہیں ، بسااوقات ایسی باتیں لڑائی جھگڑے اور فساد کا بھی باعث بن جاتی ہیں جب تک کسی بات کی تصدیق نہ ہو اس وقت تک آگے نہیں بڑھانی چاہیے ۔
(10) فضول قسم کے ایسے سوالات سے بچنا چاہیے کہ جن کا نہ تو کوئی دنیوی فائدہ ہو اور نہ ہی کوئی اخروی فائدہ نیز علمائے کرام ومفتیانِ عظام
رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامسے بھی ایسے سوالات پوچھ کر ان کا قیمتی وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے ۔
(11) مال کو ضائع کرنا یا اسراف یعنی فضول خرچی کرنا شرعًا مذموم ہے ، ہرہرمعاملے میں اس سے بچنا چاہیے نیز یہ
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی نعمتوں کی ناشکری بھی ہے اور رزق میں تنگی کا باعث بھی ہے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّہمیں والدین کا ادب واحترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ان کی نافرمانی سے محفوظ فرمائے ،حقوقُ اللہوحقوق العباد کی ادائیگی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں دنیا وآخرت کی مفلسی سے محفوظ فرمائے ، جو چیزیں ہمارے لیے جائز نہیں ہیں انہیں لینے سے بچائے ، ہر چھوٹے بڑے گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ، اپنی بیٹیوں کی دینی تعلیم وتربیت اور پرورش کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، کوئی بھی بات بغیر تصدیق کے آگے پہنچانے سے محفوظ فرمائے ، فضول اور لایعنی سوالا ت کرنے سے بچائے ، ہمیں مال کے ضیاع اور اسراف سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 340