Main Icon

حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 339

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ مُحَمَّدٍ جُبَيْرِ بْن مُطْعِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ. قَالَ سُفْيَانُ فِی رِوَایَتِہِ : يَعْنِي قَاطِعَ رَحِمٍ. ( )

عن ابی محمد جبير بن مطعم رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ، قال : لا يدخل الجنة قاطع. قال سفيان فی روایتہ : يعني قاطع رحم. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناابو محمد جبیر بن مُطْعِمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” توڑنے والاجنت میں داخل نہیں ہوگا ۔ “ حضرتِ سَیِّدُنا سفیانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاپنی روایت میں فرماتے ہیں : ’’یعنی خونی رشتوں کو توڑنے والا ۔ ‘‘

شرح حدیث

جنت میں داخل نہ ہونے کا مطلب :مذکورہ حدیث میں فرمایا کہ قطع رحمی کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا حالانکہ حدیث میں ہے کہ جو شخص اس حال میں مرا کہ اس نے شرک نہیں کیا تو وہ جنت میں داخل ہوگا ۔ تو پھر اس حدیث کا کیا جواب ہے ؟ شارحین نے اس کے مختلف جوابات دئیے ہیں ۔ چنانچہعَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’علامہ کرمانیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا کہ مؤمن بندہ گناہ کرنے سے کافر نہیں ہوتا لہذا وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا ( لیکن مذکورہ حدیث پاک میں قطع کرنے والے کے بارے میں آیا ہے کہ وہ جنت میں نہیں جائے گا ) پھر خود ہی اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ جو قطع رحمی کو حلال

سمجھے وہ کافر ہوجائے گا ( لہٰذا وہ جنت میں نہیں جائے گا ) یا پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پہلے جنت میں جانے والوں کے ساتھ جنت میں نہیں جائے گا ۔ ‘‘ ( )
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِینے بھی اس حدیث کے یہی 2 معنی بیان فرمائے ہیں کہ ’’یا تو وہ بغیر کسی سبب اور شبہہ کے قطع رحمی کے حرام ہونے کو جانتے ہوئے بھی قطع رحمی کو حلال سمجھے تو وہ کافر ہے ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور کبھی بھی جنت میں داخل نہیں ہوگا یا پھر اس کا معنی یہ ہے کہ وہ سابقین یعنی جنت میں پہلے جانے والوں کے ساتھ نہیں جائے گا بلکہاللہتعالیٰ نے جتنی تاخیر اس کے لیے مقدر فرمائی ہے اس تاخیر کے بعد جنت میں جائے گا ۔ ‘‘ ( ) علامہ طیبی نے شرح طیبی میں اور علامہ ملا علی قاری نے مرقات میں علامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیہی کا کلام ذکر کیا ہے ۔مدنی گلدستہ
’’جنتی ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1)
قطع رحمی کی اسلام میں شدید مذمت بیان فرمائی گئی ہے ۔
(2) قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا ۔
(3) قطعی رحمی کرنے والے کا خاتمہ اگر ایمان پر بھی ہوا تو وہ جنت میں پہلے جانے والوں کے ساتھ جنت میں نہیں جائے گا ۔
(4) جب تک شریعت منع نہ کرے تب تک رشتہ داروں کے ساتھ ہمیشہ صلہ رحمی ہی کرنی چاہیے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے رشتہ داروں کے ساتھ قطع رحمی کرنے سے محفوظ فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 339