- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
فیضان ریاض الصالحین جلد 4
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناابو بکرہ نُفیع بن حارثرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تین بار ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں بہت بڑے گناہوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ ہم نے عرض کی : ” جی کیوں نہیںیارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ‘‘ ارشاد فرمایا : ”اللہ عَزَّوَجَلَّکے ساتھ شریک ٹھہرانا ، والدین کی نافرمانی کرنا“ پہلے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمٹیک لگائے ہوئے تھے پھر اُٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا : ” خبردار ! جھوٹی بات کہنا اور جھوٹی گواہی دینا“ پھر آپ مسلسل یہ فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا : ’’کاش کہ آپ سکوت فرمالیں ۔ ‘‘
عَنْ اَبِي بَكْرَةَ نُفَیْعِ بْنِ الْحَارِثِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم : اَلَا اُنَبِّئُكُمْ بِاَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ؟ ثَلاَثًا ، قُلْنَا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : ” اَلْاِشْرَاكُ بِاللَّهِ ، وَعُقُوْقُ الْوَالِدَيْنِ“ وَ كَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ ، فَقَالَ : ” اَلَا وَقَوْلُ الزُّوْرِ وَ شَھَادَتُ الزُّوْرِ“ فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْنَا لَيْتَهُ سَكَتَ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 336 ، حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
ترجمہ : حضرت سیدناعبداللہبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’کبیرہ گناہ یہ ہیں :اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ، والدین کی نافرمانی کرنا ، کسی جان کو ناحق قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا ۔ ‘‘
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِِ الْعَاصِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ : اَلْكَبَائِرُ اَلْاِشْرَاكُ بِاللَّهِ ، وَعُقُوْقُ الْوَالِدَيْنِ ، وَقَتْلُ النَّفْسِ ، وَالْيَمِيْنُ الْغَمُوسُ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 337 ، حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
ترجمہ : حضرت سیدناعبداللہبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” کبیرہ گناہوں میں سے یہ بھی ہے کہ کوئی اپنے والدین کو گالی دے ۔ “ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا کوئی اپنے والدین کو گالی دے سکتا ہے ؟ ‘‘ فرمایا : ” ہاں ! یہ کسی کے باپ کو گالی دے اور وہ اس کے باپ کوگالی دے اور یہ کسی کی ماں کو گالی دے تو وہ اِس کی ماں کو گالی دے ۔ “
ایک دوسری روایت میں ہے : ” کبیرہ گناہوں میں سے ایک بڑا گناہ یہ ہے کہ کوئی اپنے والدین پر لعنت کرے “ عرض کی گئی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کوئی شخص کیسے اپنے ماں باپ پر لعنت کرسکتا ہے ؟ ‘‘ فرمایا : ” یہ کسی کے باپ کو گالی دے اور پھر وہ اِس کے باپ کوگالی دے اور یہ کسی کی ماں کو گالی دے اور پھر وہ شخص اِس کی ماں کو گالی دے ۔ “
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِِ الْعَاصِ اَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مِنَ الْكَبَائِرِ شَتْمُ الرَّجُلِ وَالِدَيْهِ ، قَالُوا : يَا رَسُوْلَ اللهِ ، وَهَلْ يَشْتِمُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ؟ قَالَ : نَعَمْ یَسُبُّ اَبَا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ اَبَاهُ ، وَيَسُبُّ اُمَّهُ فَيَسُبُّ اُمَّهُ. ( ) وَفِیْ رِوَایَۃٍ اِنَّ مِنْ اَکْبَرِ الْکَبَائِرِ اَنْ یَّلْعَنَ الرَّجُلُ وَالِدَیْہِ ، قِیْلَ یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَیْفَ یَلْعَنُ الرَّجُلُ وَالِدَیْہِ؟ قَالَ یَسُبُّ اَبَا الرَّجُلِ ، فَیَسُبُّ اَبَاہُ وَیَسُبُّ اُمَّہُ ، فَیَسُبُّ اُمَّہُ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 338 ، حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناابو محمد جبیر بن مُطْعِمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” توڑنے والاجنت میں داخل نہیں ہوگا ۔ “ حضرتِ سَیِّدُنا سفیانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاپنی روایت میں فرماتے ہیں : ’’یعنی خونی رشتوں کو توڑنے والا ۔ ‘‘
عَنْ اَبِیْ مُحَمَّدٍ جُبَيْرِ بْن مُطْعِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ. قَالَ سُفْيَانُ فِی رِوَایَتِہِ : يَعْنِي قَاطِعَ رَحِمٍ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 339 ، حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو عیسیٰ مغیرہ بن شعبہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّنے تم پر ماؤں کی نافرمانی ، حق کی عدم ادائیگی ، ناحق طلب کرنا اور بچیوں کو زندہ دفن کرنا حرام کردیا ہے اور ہر سنی سنائی بات کردینے ، کثرت سے سوال کرنے اور مال ضائع کرنے کو تمہارے لیے مکروہ قرار دیا ہے ۔ “
اس باب کی بہت سی احادیث اس سے پہلے باب میں گزر چکی ہیں جیسے یہ حدیث ” اے رحم جو تجھے قطع کرے گا میں اسے قطع کروں گا“ اور یہ حدیث ” جس نے مجھے قطع کیااللہ عَزَّوَجَلَّاسے قطع کرے گا ۔ “
عَنْ اَبِیْ عِیْسٰی اَلْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قَالَ : ” اِنَّ اللہَ تَعَالٰی حَرَّمَ عَلَیْکُمْ عُقُوْقَ الْاُمَّھَاتِ وَ مَنْعًا وَھَاتِ وَ وَاْدَ الْبَنَاتِ وَکَرِہَ لَکُمْ قِیْلَ وَ قَالَ وَکَثْرَۃَ السُّوَالِ وَ اِضَاعَۃَ الْمَالِ.“ ( ) وَفِی الْبَابِ اَحَادِیْثٌ سَبَقَتْ فِی الْبَابِ قَبْلَہُ کَحَدِیْثِ ” وَاَقْطَعُ مَنْ قَطَعَکِ“ وَ حَدِیْثِ ” مَنْ قَطَعَنِیْ قَطَعَہُ اللہُ. ‘‘
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 340 ، حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی