- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- حدیث نمبر 338
حدیث مبارکہ
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِِ الْعَاصِ اَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مِنَ الْكَبَائِرِ شَتْمُ الرَّجُلِ وَالِدَيْهِ ، قَالُوا : يَا رَسُوْلَ اللهِ ، وَهَلْ يَشْتِمُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ؟ قَالَ : نَعَمْ یَسُبُّ اَبَا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ اَبَاهُ ، وَيَسُبُّ اُمَّهُ فَيَسُبُّ اُمَّهُ. ( ) وَفِیْ رِوَایَۃٍ اِنَّ مِنْ اَکْبَرِ الْکَبَائِرِ اَنْ یَّلْعَنَ الرَّجُلُ وَالِدَیْہِ ، قِیْلَ یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَیْفَ یَلْعَنُ الرَّجُلُ وَالِدَیْہِ؟ قَالَ یَسُبُّ اَبَا الرَّجُلِ ، فَیَسُبُّ اَبَاہُ وَیَسُبُّ اُمَّہُ ، فَیَسُبُّ اُمَّہُ. ( )
عن عبد الله بن عمرو بن العاص ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : من الكبائر شتم الرجل والديه ، قالوا : يا رسول الله ، وهل يشتم الرجل والديه؟ قال : نعم یسب ابا الرجل فيسب اباه ، ويسب امه فيسب امه. ( ) وفی روایۃ ان من اکبر الکبائر ان یلعن الرجل والدیہ ، قیل یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیف یلعن الرجل والدیہ؟ قال یسب ابا الرجل ، فیسب اباہ ویسب امہ ، فیسب امہ. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرت سیدناعبداللہبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” کبیرہ گناہوں میں سے یہ بھی ہے کہ کوئی اپنے والدین کو گالی دے ۔ “ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا کوئی اپنے والدین کو گالی دے سکتا ہے ؟ ‘‘ فرمایا : ” ہاں ! یہ کسی کے باپ کو گالی دے اور وہ اس کے باپ کوگالی دے اور یہ کسی کی ماں کو گالی دے تو وہ اِس کی ماں کو گالی دے ۔ “
ایک دوسری روایت میں ہے : ” کبیرہ گناہوں میں سے ایک بڑا گناہ یہ ہے کہ کوئی اپنے والدین پر لعنت کرے “ عرض کی گئی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کوئی شخص کیسے اپنے ماں باپ پر لعنت کرسکتا ہے ؟ ‘‘ فرمایا : ” یہ کسی کے باپ کو گالی دے اور پھر وہ اِس کے باپ کوگالی دے اور یہ کسی کی ماں کو گالی دے اور پھر وہ شخص اِس کی ماں کو گالی دے ۔ “
شرح حدیث
گالی کا سبب بننے والا :عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ اگر کوئی شخص کسی چیز کا سبب بنے تو اس چیز کو اس کی طرف منسوب کرنا جائز ہے جبھی تو ماں باپ کو گالی دلوانے کا سبب بننے والے کو عقوقِ والدین ( ماں باپ کی نافرمانی ) میں شمار کیا گیا ہے تاکہ اس سے یہ فائدہ حاصل ہو کہ جس کام سے والدین کو تکلیف محسوس ہو اُس کام کو بھی ہلکا اور معمولی نہ سمجھا جائے ۔ ‘‘ ( )
¥والدین کو گالی دینا عقلمند کا کام نہیں :صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا سوال کرنا کہ ” کیا کوئی اپنے والدین کو بھی گالی دے سکتا ہے ۔ “ تعجب کے طور پر تھا کیونکہ کسی ذی عقل و ذی شعور انسان سے ایسا کام متصور نہیں کیونکہ والدین کے حقوق کی معرفت تو اُن کے ساتھ اچھائی کرنے اور انہیں گالی دینے کے بجائے ان کے احسان مند ہونے کی دعوت دیتی ہے ، والدین جیسی عظیم ہستی کو تو ایسا شخص ہی گالی دے سکتا ہے کہ جس کے اندر بالکل اچھائی نہ ہو ، حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ” ہاں“ یعنی کوئی والدین کو براہِ راست گالی نہیں دیتا بلکہ وہ انہیں گالی دینے کا سبب بنتا ہے وہ اس طرح کہ وہ کسی اور کے ماں باپ کو گالی دیتا ہے پھر وہ اِس کے ماں باپ کو گالی دیتا ہے ۔ ( )
¥والدین کو گالیاں دینے والے بے شرم :وہ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا دور تھا اس وقت کے جاہل عرب اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کردیا کرتے تھے ایسے پتھر دل لوگ بھی اپنے ماں باپ کو گالی نہیں دیتے تھے اسی لیے صحابہ کرام نے پوچھا کہ کوئی اپنے والدین کو گالی کیسے دے سکتا ہے ؟ وہ اس بات کو ناممکن سمجھتے تھے کہ کوئی اپنے والدین کو گالی دے مگر افسوس صد افسوس آج کے دَور میں خود کو مسلمان کہنے والے کئی لوگ اپنے والدین کو بُرا بھلا کہتے ہیں ۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتْمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ ( حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ) فرمایا : ہاں ، یہ بات عقل کے خلاف ہے کہ کوئی بیٹا اپنے ماں باپ کو گالی دے ۔سُبْحَانَ اللہ! وہ زمانہ قدوسیوں کا تھا کہ یہ جرم ان کی عقل میں نہ آتا تھا اب تو کھلم کھلا نالائق لوگ اپنے ماں باپ کو گالیاں دیتے ہیں ذرا شرم نہیں کرتے ۔ خیال رہے کہسَبٌّہر قسم کے برا کہنے کو کہتے ہیں گالی ہو یا اور کچھ ، مگرشَتْمٌگالی کو کہا جاتا ہے ۔ کبھیسَبٌّبمعنیشَتْمٌآتا ہے اورشَتْمٌبمعنیسَبٌّ، کسی سے کہا : تیرا باپ احمق ہے ، یہ ہے سب ، کسی سے کہا : تیرا باپ زانی ہے ، حرامی ہے ، یہ ہے شتم ۔ مطلب یہ ہے کہ کسی کے بزرگوں کو تم بُرا نہ کہو تاکہ وہ تمہارے بزرگوں کو بُرا نہ کہے ، یہی حکم اولاد و عزیزوں کے متعلق ہے تم کسی کی بیٹی بہن بھانجی کو گالی نہ دو تاکہ وہ تمہاری بیٹی بہن بھانجی کو گالی نہ دے ۔ جیسے کہو گے ویسی سنو گے بہت اعلیٰ اخلاق کی تعلیم ہے ۔ ‘‘ ( )
¥ماں کو گالی دینے والے کا عبرت ناک انجام :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ماں باپ کے نافرمان کے لیے سخت عذاب ہے اور کبھی کبھیاللہ عَزَّ وَجَلَّاس کے عذاب کو دنیا والوں پر ظاہر بھی فرمادیتا ہے تاکہ لوگ عبرت پکڑیں ۔ چنانچہ شیخ طریقت امیر اہلسنت
بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضویدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَۃاپنے رسالے ” سمندری گنبد“ صفحہ 17 پرایک روایت نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں : حضرتِ سَیِّدُنا عوام بن حوشبعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّب( جوکہ تبع تابعی بزرگ گزرے ہیں اور انہوں نے ۱۴۸ھ میں وفات پائی ) فرماتے ہیں : ایک مرتبہ میں کسی محلے سے گزرا ، اُس کے کنارے پر قبرستان تھا ، بعدِ عصر ایک قبر شق ہوئی ( یعنی پھٹی ) اور اُس میں سے ایک ایسا آدمی نکلا جس کا سر گدھے جیسا اور باقی جسم انسان کا تھا ، وہ تین بار گدھے کی طرح رَینکا ( یعنی چیخا ) پھر قبر میں چلا گیا اور قبر بند ہوگئی ۔ ایک بڑی بی بیٹھی ( سوت ) کات رہی تھیں ، ایک خاتون نے مجھ سے کہا : ’’ بڑی بی کو دیکھ رہے ہو؟ ‘‘ میں نے کہا : ’’اس کا کیا معاملہ ہے ؟ ‘‘ کہا : یہ قبر والے کی ماں ہے ، وہ شرابی تھا ، جب شام کو گھر آتا ، ماں نصیحت کرتی کہ اے بیٹےاللہ عَزَّوَجَلَّسے ڈر ، آخر کب تک اس ناپاک کو پئیے گا ! یہ جواب دیتا : ’’تو گدھے کی طرح ڈھیچوں ڈھیچوں کرتی ہے ۔ ‘‘ اس شخص کا عصر کے بعد انتقال ہوا ، جب سے فوت ہوا ہے ہر روز بعدِ عصر اس کی قبر شق ہوتی ہے اور یوں تین بار گدھے کی طرح چلاکر پھر قبر میں سَما جاتا ہے اور قبر بند ہوجاتی ہے ۔ ‘‘
¥والدین کو گالی دینے والے کی قبر میں انگارے :اسی رسالے کے صفحہ نمبر21 پر ہے کہ منقول ہے کہ جس نے اپنے والدین کو گالی دی اس کی قبر میں آگ کے اتنے انگارے اُترتے ہیں جتنے ( بارش کے ) قطرے آسمان سے زمین پر آتے ہیں ۔ ‘‘اَلْاَمَانْ وَالْحَفِیْظاللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں والدین کو سب وشتم کرنے سے محفوظ فرمائے ، آمین ۔ والدین کا ادب و احترام اور اُن کے حقوق کے بارے میں جاننے کے لیے شیخ طریقت امیر اہلسنت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضویدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَۃکے رسالے ” سمندری گنبد“ کا مطالعہ فرمائیں ۔مدنی گلدستہ
’’حطیم ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اُس
کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1)کسی کے ماں باپ کو گالی نہیں دینی چاہیے کیونکہ یہ اپنے ماں باپ کو گالی دلوانے کا سبب ہے ۔
(2) ماں باپ کو گالی دینے والا عبرت ناک انجام سے دوچار ہوتا ہے ۔
(3) ماں باپ کو اذیت پہنچانے کا سبب بننا بھی ان کی نافرمانی ہے ۔
(4) جو شخص والدین کے حقوق جانتا ہو وہ ہمیشہ اُن کی تعظیم کرے گا ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے والدین کو سب وشتم کرنے یا اس کا سبب بننے سے محفوظ فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 338