- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- حدیث نمبر 337
حدیث مبارکہ
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِِ الْعَاصِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ : اَلْكَبَائِرُ اَلْاِشْرَاكُ بِاللَّهِ ، وَعُقُوْقُ الْوَالِدَيْنِ ، وَقَتْلُ النَّفْسِ ، وَالْيَمِيْنُ الْغَمُوسُ. ( )
عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال : الكبائر الاشراك بالله ، وعقوق الوالدين ، وقتل النفس ، واليمين الغموس. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرت سیدناعبداللہبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’کبیرہ گناہ یہ ہیں :اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ، والدین کی نافرمانی کرنا ، کسی جان کو ناحق قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا ۔ ‘‘
شرح حدیث
کبیرہ گناہ کسے کہتے ہیں؟عمدۃ القاری میں ہے : کبائر کبیرہ کی جمع ہے ۔ گناہوں میں سے کبیرہ گناہ اس برے کام کو کہتے ہیں جس
سے شریعت نے منع کیا ہو اور اس کا ارتکاب بڑا جرم ہوجیسے قتلِ نا حق ، زنا کرنا اور جہاد سے بھاگ جاناوغیرہ ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ہر نافرمانی کو کبیرہ گناہ کہتے ہیں ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ہر وہ گناہ جس پر آگ ، لعنت ، غضب یا عذاب کی وعید ہو اسے کبیرہ کہتے ہیں ۔ میں کہتا ہوں کہ کبیرہ ایک امر نسبی ہے ہر اوپر والا گناہ اپنے نیچے والے گناہ کے اعتبار سے کبیرہ ہے اور ہر نیچے والا گناہ اپنے اوپر والے کے اعتبار سے صغیرہ ہے ۔ ( )
¥کبیرہ گناہ کتنے ہیں؟علامہ بدرالدین عینیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں کہ کبیرہ گناہ کتنے ہیں؟ اس بارے میں اختلاف ہے یہاں اس حدیث ( نمبر337 ) میں چار کبیرہ گناہ ذکر کئے گئے ہیں لیکن اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ صرف یہی چار کبیرہ گناہ ہیں کیونکہ اس میں کوئی بھی چیز حصر پر دلالت نہیں کر رہی ۔ ایک قول یہ ہے کہ کبیرہ گناہ سات ہیں ، حدیثِ ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمیں ہے : ” سات ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچو : ( 1 )اللہ عَزَّوَجَلَّکے ساتھ کسی کو شریک کرنا ( 2 ) جس کے قتل کواللہ عَزَّ وَجَلَّنے حرام کیا اُسے ناحق قتل کرنا ( 3 ) جادو کرنا ( 4 ) سود کھانا ( 5 ) یتیم کا مال کھانا ( 6 ) جہاد سے پیٹھ پھیر کر بھاگنا ( 7 ) شادی شدہ پاک دامن مسلمان عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا ۔ ایک قول یہ ہے کہ کبیرہ گناہ نو ہیں ، سات پیچھے والے اور دو یہ ہیں : ( 8 ) والدین کی نافرمانی کرنا ( 9 ) حرام کام کو حلال جاننا ۔ ہمارے شیخ نے ابو طالب مکیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : کبیرہ گناہ سترہ ہیں : ( 1 )اللہ عَزَّوَجَلَّکے ساتھ کسی کو شریک کرنا ( 2 ) کسی گناہ کو بار بار کرنا ( 3 )اللہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت سے مایوس ہونا ( 4 )اللہ عَزَّوَجَلَّکی خفیہ تدبیر سے بے خوف ہوجانا ( 5 ) جھوٹی گواہی دینا ( 6 ) پاکدامن شادی شدہ پر تہمت لگانا ( 7 ) جھوٹی قسم کھانا ( 8 ) جادو کرنا ( 9 ) شراب یا کوئی اور نشہ آور چیز پینا ( 10 ) یتیم کا مال ظلماً کھالینا ( 11 ) سود کھانا ( 12 ) زنا کرنا ( 13 ) لواطت کرنا ( 14 ) قتل کرنا ( 15 ) چوری کرنا ( 16 ) جہاد سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جانا ( 17 ) والدین کی نافرمانی کرنا ۔ ‘‘ ( )
¥سب سے بڑا گناہ :عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’تمام گناہوں میں سب سے بڑا گناہ شرک ہے ، شرک سے بڑا کوئی گناہ نہیں اور دنیا و آخرت میں شرک کی سزا سے بڑی سزا کسی اور گناہ کی نہیں کیونکہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا شرک کے علاوہ کسی اور گناہ کی سزا نہیں اور نہ ہی کوئی اور گناہ ایمان کو برباد کرتا ہے ۔ قرآنِ پاک میں فرمانِ باری تعالیٰ ہے :اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ-(پ۵ ،النساء: ۴۸ )ترجمۂ کنزالایمان: بے شکاللہاسے نہیں بخشتا کہ اسکے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے ۔
اوراللہ عَزَّوَجَلَّنے ایک مقام پرشرک کو ظلم کے نام سے بھی موسوم کیا ہے ۔ ( )
¥والدین کی نافرمانی :حدیث میں عقوق کا لفظ آیا ہے عقوقعَقٌّسے نکلا ہےعَقٌّکا معنی ہے کاٹنا اور توڑنا ۔ ”عَقَّ عَنْ اِبْنِہِ“ کا معنی ہے اس نے اپنے بیٹے کا عقیقہ کیا یااس کی طرف سے بکری ذبح کی اور ”عَقَّ وَالِدَہُ“ کا مطلب ہے اس نے اپنے باپ کی اطاعت کی لاٹھی توڑدی ۔ علامہ ابن اثیر جزریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ ”عَقَّ وَالِدَہُ“ اس وقت کہتے ہیں جب کوئی اپنے باپ کو تکلیف دے ، اس کی نافرمانی کرے ۔ یہ نیکی کی ضد ہے ۔ شیخ تقی الدین سبکیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں کہ ( کونسا عمل نافرمانی ہے اور کونسا عمل نافرمانی نہیں؟ ) اس میں ضابطہ یہ ہے کہ انہیں کسی بھی قسم کی تکلیف دینا خواہ کم ہو یا زیادہ ، چاہے والدین نے اس کام سے منع کیا ہو یا نہ کیا ہو یہ نافرمانی ہے یا پھر انہوں نے کسی کام کے کرنے کا حکم دیا ہو یاکسی کام سے منع کیا ہو اس میں ان کی مخالفت کرنا نافرمانی ہے بشرطیکہ وہ کام گناہ کا کام نہ ہو ۔ ( )عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’والدین کی نافرمانی کرنا شرعاً
حرام ہے نیز اولاد پر والدین کی اجازت کے بغیر جہاد پر جانا حرام ہے ۔ ‘‘ شیخ ابو عمرو بن صلاحرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ ہر وہ فعل جس سے والدین کو تکلیف پہنچے وہ حرام ہے بشرطیکہ وہ فعل افعالِ واجبہ میں سے نہ ہو ۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ فعل جو کہ معصیت نہ ہو اس میں والدین کی اطاعت کرنا واجب ہے اور ایسے کام میں ان کی مخالفت کرنا نافرمانی ہے ۔ ( )مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ اُن کے حقوق ادا نہ کرنا ، یا ان کے جائزحکموں کی مخالفت کرنا ( نافرمانی ہے ) ماں باپ کے حکم میں دادا دادی اور نانا نانی بھی ہیں ۔ اس ترتیب سے معلوم ہوا کہ ماں باپ کی نافرمانی بدترین جرم ہے کہ شرک کے بعد اس کا ذکر فرمایا گیا ۔ اسی لئے رب نے اپنی عبادت کے ساتھ ماں باپ کی اطاعت کا ذکر کیا کہ فرمایا (اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ∞) (پ۱۵ ،الاسراء:۲۳ ) (ترجمۂ کنزالایمان: ’’کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو ۔ ‘‘ ) ( )
¥جھوٹی گواہی دینے والے کی سزا :حضرت سیدنا ابن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے ، فرماتے ہیں : ’’جھوٹی گواہی کو شرک کے برابرگناہ کردیا گیا ہے ۔ ‘‘ پھر آپ نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی :فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ(۳۰)حُنَفَآءَ لِلّٰهِ(پ۱۷ ،الحج: ۳۰ ، ۳۱)ترجمۂ کنزالایمان: تو دور ہو بتوں کی گندگی سے اور بچو جھوٹی بات سے ایکاللہکے ہوکر ۔
جھوٹی گواہی دینے والے کی سزا کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے ۔ مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے شام کے والی کو جھوٹی گواہی دینے والے کے بارے میں لکھ کر بھیجا کہ اسے چالیس کوڑے مارے جائیں اس کے چہرے پر سیاہی ملی جائے اس کو گنجا کیا جائے اور اسے طویل قید میں رکھا جائے ۔ حضرت عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُہی سے ایک اور روایت بھی مروی ہے کہ انہوں نے حکم دیا کہ
جھوٹی گواہی دینے والے کا چہرہ کالا کر کے ، اس کے عمامے کو اس کی گردن میں لٹکا کر اسے گلیوں میں گھمایا جائے اور کہا جائے کہ یہ جھوٹا گواہ ہے اور اس کی گواہی کبھی قبول نہ ہوگی ۔ ابن وھب نے امام مالکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایت کی کہ اُسے کوڑے لگائے جائیں ، گلیوں میں گھمایا جائے اور طنز و تشنیع کیا جائے ۔ ابن قاسمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں کہ مجھے امام مالکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے یہ روایت پہنچی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے قول کی اِتباع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جھوٹی گواہی دینے والے کی گواہی ہمیشہ کے لیے مردود ہے ، چاہے وہ سچی توبہ بھی کرلے ۔ ابن ابی لیلیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں کہ اسے تعزیر لگائی جائے گی ۔ امام ابو یوسف اور امام محمدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَاکا بھی یہی قول ہے ۔ امام شافعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ اسے تعزیر لگائی جائے گی اور تشہیر بھی کی جائے گی ۔ یہی قول امام احمد بن حنبلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ، امام اسحاق اور ابو ثوررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمَاکا بھی ہے ۔ قاضی شریحرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے کہا کہ اس کی تشہیر کی جائے گی لیکن تعزیر نہیں لگائی جائے گی ۔ یہی امام اَعظم ابو حنیفہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا قول ہے ۔ ( )
¥ناحق قتل کرناکبیرہ گناہ ہے :حدیثِ پاک میں فرمایا گیا کہ کسی کو ناحق قتل کرنا بھی کبیرہ گناہ ہے ۔ کسی کو ناحق قتل کرنے والے کے لیے قرآنِ پاک میں جہنم کے عذاب کی وعید بیان کی گئی ہے ۔ چنانچہ اِرشادِ باری تعالیٰ ہے :وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا(پ۵ ،النساء: ۹۳ )ترجمۂ کنزالایمان: اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اُس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اُس میں رہے ۔
اسی طرح احادیث میں بھی ناحق قتل کی شدید مذمت بیان فرمائی گئی ہے ۔ چنانچہ حضرت سیدناعبداللہبن عَمرورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’جس نے کسی ذمی کو ( بغیر کسی جرم کے ) قتل کیا تو وہ جنت کی خوشبو نہ سونگھے گا ، بے شک جنت کی خوشبو چالیس 40سال کی مسافت سے سونگھی جاسکتی ہے ۔ ‘‘ ( ) جب کسی ذمی کو قتل کرنے کی یہ سزا ہے تو کسی
مسلمان کو قتل کرنا کس قدر سخت گناہ ہوگا ۔ چنانچہ حضرت سیدناعبداللہبن عَمرورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہ نبوتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّکے نزدیک پوری دنیا کا زوال کسی مسلمان کو قتل کرنے سے زیادہ ہلکا ہے ۔ ‘‘ ( )
¥جھوٹی قسم کھانے کا حکم :مذکورہ حدیث پاک میں جھوٹی قسم کھانے کو گناہِ کبیرہ میں شمار کیا گیا ہے ۔ بہارِ شریعت میں ہے : ’’جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائی یعنی مثلاً جس کے آنے کی نسبت جھوٹی قسم کھائی تھی یہ خود بھی جانتا ہے کہ نہیں آیاہے تو ایسی قسم کو غموس کہتے ہیں ۔ غموس میں سخت گنہگار ہوا ، استغفار و توبہ فرض ہے مگر کفارہ لازم نہیں ۔ ( )
¥جھوٹی قسم کھانے کا وبال :شیخ طریقت ، امیر اہلسنت ، بانی دعوتِ اِسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائیدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکی مایہ ناز تصنیف ’’نیکی کی دعوت ‘‘ سے جھوٹی قسم کھانے سے متعلق چند اقتباسات پیش خدمت ہیں ۔ جھوٹی قسم کے نقصانات کا نقشہ کھینچتے ہوئے میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت ، مولانا شاہ امام اَحمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں : ” جھوٹی قسم گھروں کو وِیران کر چھوڑتی ہے ۔ “ ( ) ایک اور مقام پر لکھتے ہیں : ” جھوٹی قسم گزَشتہ بات پر دانِستہ ( یعنی جان بوجھ کر کھانے والے پر اگرچہ ) اس کا کوئی کفَّارہ نہیں ، ( مگر ) اس کی سزا یہ ہے کہ جہنَّم کے کَھولتے دریا میں غَوطے دیاجائے گا ۔ ( ) میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ذرا غور کیجیے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّجس نے ہمیں پیدا کیا ، پوری کائنات کو تخلیق کیا ( یعنی بنایا ) ، جس پر ہرہر بات ظاہِر ہے ، کوئی چیز اُس سے پوشیدہ نہیں ، حتی کہ دلوں کے بھید بھی وہ خوب جانتا ہے ، جو رَحمٰن و رحیم بھی ہے اور قَہّار وجَبّار بھی ہے ، اُس ربُّ الانام کا نام لے کر جھوٹی قسم کھانا کتنی بڑی نادانی کی بات ہے اور
وہ بھی دُنیا کے کسی عارِضی ( وَقتی ) فائدے یا چندسِکّوں کے لئے ۔
جھوٹی قسم کھانے میں کوئی فائدہ نہیں ، نقصانات ہی نقصانات ہیں ، جھوٹی قسم گھروں کو ویران کردیتی ہے ، یہودی شانِ مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمچھپانے کے لیے جھوٹی قسمیں کھایا کرتے تھے ، کل بروز قیامت جھوٹی قسمیں کھانے والے کو جہنم میں لے جانے کا حکم ہوگا ، جھوٹی قسم کھانے والے تاجر کے لیے دردناک عذاب ہے ، جھوٹی قسم سے برکت مٹ جاتی ہے ، جھوٹی قسم کھانے والے کی قسم قیامت تک اس کے دل پر سیاہ نکتہ بن جاتی ہے ، جھوٹی قسم کھانا مؤمن کی شان نہیں ہے بلکہ یہ منافقین کا طریقہ ہے ، جھوٹی قسم اٹھانے والے کو جہنم کے کھولتے ہوئے دریا میں غوطہ دیا جائے گا ۔ الغرض جھوٹی قسم دنیا وآخرت دونوں میں بندے کے لیے سخت وبال ہے ۔ اَوّلاً قسم نہیں کھانی چاہیے اور کبھی ضرورتاً قسم کھانی بھی پڑے تو سچی قسم کھائیے ۔ ( )
¥دعوت اسلامی کا مدنی تربیتی کورس :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! جھوٹی قسموں سے توبہ کا جذبہ پانے ، بات بات پر قسم کھانے کی خصلت مِٹانے ، ضروری دینی معلومات پانے اور سنّتوں پر عمل کی عادت بنانے کے لئے ” دعوتِ اسلامی“ کے مَدَنی ماحول میں63دن کا مَدَنی تربیتی کورس کروایا جاتا ہے ، جس سے بن پڑے وہ یہ مفید ترین مَدَنی تربیتی کورس ضَرور کرے ، آپ کی ترغیب وتحریص کے لئے ایک مَدَنی بہار پیش کی جاتی ہے ، چنانچِہ ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے : ہمارے عَلا قے کا ایک نوجوان جو کہ والِدَین کا اِکلوتا ( یعنی ایک ہی ) بیٹا تھا ، غَلَط صحبت کے سبب چَرَس کا عادی بن گیا ، گھر سے باہَر رَہنا اس کا معمول تھا ، والِد صاحِب اکثر اُس کو قبرِستان جاکر چرسیوں کے درمیان سے اُٹھا کرگھر لاتے ۔ تمام گھر والے اُس کے سبب پریشان تھے ۔ ایک دن ایک اسلامی بھائی نے اُس نوجوان پر اِنفِرادی کوشِش کرتے ہوئے اُسے مَدَنی تربیتی کورس کرنے کی ترغیب دی ، خوش قسمتی سے اُس نے ہامی بھر لی اور تبلیغِ قرآن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے عالَمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ میں آگیا ۔ گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ! سبھی گھروالے دُعا کررہے تھے کہ یہ نیک بن جائے مگر اب بھی
ڈرے ہوئے تھے کہ کہیں یہ واپَس نہ آجائے ۔اَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّ وَجَلَّچند دنوں بعد کچھ اِس طرح فون آیا کہ ’’تربیّتی کورس اور فیضانِ مدینہ میں بَہُت مزا آرہا ہے ، فیضانِ مدینہ میں ایسا لگتا ہے کہ مدینہ ٔمنوَّرہزَادَھَا اللہُ شَرْفاً وَتَعْظِیْماًسے براہِ راست فیض آ رہا ہے ، میں نے اپنے تمام گناہوں سے توبہ کرلی ہے ، اب میں باجماعت نَمازیں ادا کررہا ہوں ، سنّتیں سیکھ رہا ہوں اور مجھے بَہُت سُکون مل رہا ہے ۔ ‘‘اَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّ وَجَلَّمَدَنی تربیتی کورس سے واپَسی پر وہ واقِعی بالکل بدل چکا تھا ۔ اُس کی حیرت انگیز تبدیلی سے سب گھر والے بلکہ سارا مَحَلّہ حیران تھا ۔ چہرے پر نور برساتی داڑھی اورسر پرسبز عمامہ شریف کا تاج جگمگا رہا تھا ۔ اُس نے آ تے ہی گھر والوں پر بھی اِنفِرادی کوشِش شروع کردی جس کی بَرَکت سے والِد صاحِب نے چہرے پر داڑھی اور سر پر عمامہ شریف کا تاج سجالیا اور پابندی سے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اِجتِماع میں شرکت فرمانے لگے ۔ والِدَۂ محترمہ ’’درسِ نِظامی ‘‘ اوربہن ’’شریعت کورس ‘‘ کرنے کیلئے کمر بَستہ ہو گئیں ۔ اُس نوجوان کے والِد صاحِب نے مبلغ دعوتِ اسلامی کو کچھ اِس طرح بتایا کہ میں دعوتِ اسلامی والوں کیلئے بَرَکت کی دُعا کرتا ہوں ، خُصوصًا ان کے لیے جنہوں نے میرے بیٹے پَر ’’اِنفِرادی کوشِش ‘‘ کی اور 63 دن کے مَدَنی تربیتی کورس میں ہاتھوں ہاتھ لے گئے کیونکہ ہم اِس کی عادَتوں سے بَہُت پریشان تھے ، اس کی والِدہ تو اتنی بیزار ہوچکی تھی کہ ایک دن جذبات سے مغلوب ہو کرکیڑے مکوڑے مارنے کی دوائی اُٹھا لائی کہ یا تو میں کھاکر مرجاؤں گی یااس کو کِھلا کر ماردوں گی ۔ اب اس کی والِدہ رو رو کر دعائیں دیتی ہیں کہاللہ عَزَّ وَجَلَّدعوتِ اسلامی والوں کو سلامت رکھے کہ اُن کی کوششوں سے میرا بگڑا ہوا بیٹا نیک بن گیا ۔ ( )
اگر سُنّتیں سیکھنے کا ہے جذبہ تم آجاؤ دے گا سکھا مَدَنی ماحول
تُو داڑھی بڑھا لے عمامہ سجا لے نہیں ہے یہ ہرگز بُرا مَدَنی ماحول
بُری صحبتوں سے کنارہ کشی کر کے اچھوں کے پاس آ کے پا مَدَنی ماحول
سنور جائے گی آخرتاِنْ شَاءَ اللہتم اپنائے رکھو سدا مَدَنی ماحول
مدنی گلدستہ
’’اِستِغفار ‘‘ کے 7حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور
ان کی وضاحت سے ملنے والے 7مدنی پھول
(1)تمام گناہوں میں سب سے بڑا گناہ شرک ہے اور سب سے بڑی اور سخت سزا بھی شرک ہی کی ہے ۔
(2) شرک کے بعد ماں باپ کی نافرمانی بد ترین جرم ہے ۔
(3) والدین کی نافرمانی حرام ہے ، ان کی اجازت کے بغیر جہاد پر جانا بھی حرام ہے جبکہ جہاد فرض عین نہ ہو ۔
(4) کسی بھی مسلمان کو ناحق قتل کرنا ناجائز وحرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔
(5) کسی پاک دامن مسلمان مرد یا عورت پر جھوٹی تہمت لگانا بھی گناہ کبیرہ وناجائز وحرام ہے ۔
(6) جھوٹی گواہی دینا شرک کے برابر گناہ ہے ۔
(7) جھوٹی قسم کھانے والا سخت گنہگار ہے اُس پر توبہ و استغفار لازم ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں والدین کی نافرمانی کرنے ، جھوٹی قسمیں کھانے ، ناحق قتل کرنے جیسے بڑے بڑے کبیرہ گناہوں سے محفوظ فرمائے اور ہمیں نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 337