Main Icon

باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1264

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُفْطِرُ اَيَّامَ الْبِيْضِ فِي حَضَرٍ وَلَا سَفَرٍ.

عن ابن عباس رضي الله عنهما قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يفطر ايام البيض في حضر ولا سفر.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عباسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمگھر اور سفر میں بھی ایام بیض کے روزے نہ چھوڑتے تھے۔

شرح حدیث

ایام بیض کی وجہ تسمیہ:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”ایام بیض کے متعلق امام زین الدین عراقیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْکَافینے نو قول بیان فرمائے ہیں جن میں سے زیادہ قوی یہ ہے کہ وہ چاند کی تیرھویں، چودھویں، پندرھویں راتیں ہیں،انہیں ایامِ بیض اس لیے کہتے ہیں کہ ان ایام کی راتیں(چاند کی روشنی کے سبب) روشن ہوتی ہیں یا اس لیے کہ ان کے روزے دلوں کو نورانی اورروشن کرتے ہیں یا اس لیے کہ جنت سے دنیامیں آنے کے بعدحضرت سیدناآدمعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی رنگت میں تبدیلی آگئی تو ربّ تعالیٰ نے انہیں ان تین روزوں کا حکم دیا ہر روزے سے آپ کا تہائی جسم چمکیلا ہواحتی کہ تین روزوں کے بعد سارا جسم نہایت حسین وجمیل ہوگیا۔ “مدنی گلدستہ’’جنتِ فردوس ‘‘کے8حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1) ہر مہینہ کی تیرھویں،چودھویں،پندرھویں تاریخ کے روزے اور پورے ماہ رمضان کے روزے رکھے جائیں تو اس سے ساری عمر کے روزوں کا ثواب مل جاتا ہے۔
(2) چاند کی تیرہ،چودہ اور پندرہ تاریخ کو ایام ِ بیض کہا جاتاہے ۔
(3) حضورِ انور
صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّممہینہ میں مختلف روزے رکھتے تھےکبھی زیادہ کبھی کم مگر تین دن سے کم کبھی نہ رکھتے تھے،اکثر تیرھویں،چودھویں، پندرھویں کے روزے رکھتے تھے۔
(4) نبی کریم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکبھی بھی سفر و حضر میں ایامِ بیض کے روزے ترک نہ فرماتے ۔
(5) ایامِ بیض کے روزوں سے جسم میں نورانیت پید ا ہوتی ہے اعضاء روشن ہوجاتے ہیں ۔
(6) کوئی ایامِ بیض میں روزے نہ رکھ سکے تو مہینے کےکسی بھی تین دنوں میں روزے رکھ لےکافی ہے۔
(7) سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ
رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاحضورِ اَنورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ہر حال نگاہ میں رکھتی تھیں اسی لئے حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے شب وروز کے بارے میں انہیں سے زیادہ پوچھا جاتا تھا۔
(8) اس اُمَّت کو چھوٹے چھوٹے اَعمال پرجوبہت زیادہ اجر وثواب دیا جاتاہے وہ سب اس رحمت والے نبی کا صدقہ ہے جو محبوب ربّ العالمین ہیں۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایام بیض کے روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائےاورہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1264