- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 7
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
فیضان ریاض الصالحین جلد 7
حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”مجھے میرےخلیلصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےتین چیزوں کی نصیحت فرمائی :(1)ہرمہینے تین دن روزے رکھنا(2)دورکعت نمازِ چاشت پڑھنا اور (3)سونےسے پہلے وترادا کرنا۔“
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: اَوْصَانِيْ خَلِيْلِيْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلاثٍ:صِيَامِ ثَلَاثَةِ اَ يَّامٍ مِّنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَكْعَتَي الضُّحَى وَاَنْ اُوْتِـرَ قَبْلَ اَنْ اَنَامَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1258 ، باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
حضرت سَیِّدُنا ابو درداءرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :”مجھے میرے حبیبصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےتین چیزوں کی نصیحت فرمائی، میں جب تک زندہ رہوں گا انہیں نہ چھوڑوں گا: (1)ہر مہینے تین روزے رکھنا(2)چاشت کی نماز اداکرنااور(3)سونے سے پہلے وِترپڑھنا۔ “
عَنْ اَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:اَوْصَانِيْ حَبِيْبِيْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ لَنْ اَدَعَهُنَّ مَا عِشتُ:بِصِيَامِ ثَلاثَةِ اَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَصَلاَةِ الضُّحَى وبِاَنْ لَا اَنَامَ حَتّٰى اُوْتِـرَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1259 ، باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہےکہ رسولِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”ہر مہینے تین دن کے روزے رکھناساری عمر کےروزں کی مانند ہیں۔“
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَوْمُ ثَلاَثَةِ اَيَّامٍ مِّنْ كُلِّ شَهْرٍ صَوْمُ الدَّهْرِ كُلِّهِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1260 ، باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
حضرت معاذہ عدویہرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہَاسےروایت ہے کہ انہوں نے اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاسے پوچھا :” کیا رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہر مہینے تین دن روزہ رکھتے تھے؟‘‘ فرمایا:”ہاں۔“میں نے عرض کی:’’مہینے کے کون سے حصے میں روزے رکھتے تھے؟‘‘ فرمایا:’’اس کی پرواہ نہ فرماتے تھے کہ کس حصہ میں روزہ رکھیں۔“
عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ: اَنَّهَا سَاَلَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: اَ كَانَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُوْمُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةِ اَ يَّامٍ ؟ قَالَتْ: نَعَمْ . فَقُلْتُ:مِنْ اَيِّ الشَّهْرِ كَانَ يَصُوْمُ ؟ قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ يُبَالِيْ مِنْ اَيِّ الشَّهْرِ يَصُوْمُ .
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1261 ، باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
حضرت سَیِّدُنا ابو ذر غفاریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ حضور نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جب تم مہینے کے تین روزے رکھو تو تیرھویں ،چودھویں اور پندرھویں تاریخ میں رکھو۔“
عَنْ اَبِيْ ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اِذَا صُمْتَ مِنَ الشَّهْرِ ثَلاَثًا فَصُمْ ثَلاَثَ عَشْرَةَ وَاَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ .
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1262 ، باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
حضرت سَیِّدُنا قتادہ بن ملحانرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں ایام بیض(یعنی چاندی کی)تیرہ ،چودہ اور پندرہ تاریخ کے روزے رکھنے کا حکم دیا۔“
عَنْ قَتَادَةَ بْنِ مِلْحَانَ رَضِيَ الله عَنْهُ قَالَ : كَانَ رسولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَاْمُرُنَا بِصِيَامِ اَ يَّامِ الْبِيضِ:ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَاَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ .
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1263 ، باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عباسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمگھر اور سفر میں بھی ایام بیض کے روزے نہ چھوڑتے تھے۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُفْطِرُ اَيَّامَ الْبِيْضِ فِي حَضَرٍ وَلَا سَفَرٍ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1264 ، باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب