Main Icon

باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1261

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ: اَنَّهَا سَاَلَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: اَ كَانَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُوْمُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةِ اَ يَّامٍ ؟ قَالَتْ: نَعَمْ . فَقُلْتُ:مِنْ اَيِّ الشَّهْرِ كَانَ يَصُوْمُ ؟ قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ يُبَالِيْ مِنْ اَيِّ الشَّهْرِ يَصُوْمُ .

عن معاذة العدوية: انها سالت عائشة رضي الله عنها: ا كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم من كل شهر ثلاثة ا يام ؟ قالت: نعم . فقلت:من اي الشهر كان يصوم ؟ قالت: لم يكن يبالي من اي الشهر يصوم .

حدیث ترجمہ

حضرت معاذہ عدویہرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہَاسےروایت ہے کہ انہوں نے اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاسے پوچھا :” کیا رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہر مہینے تین دن روزہ رکھتے تھے؟‘‘ فرمایا:”ہاں۔“میں نے عرض کی:’’مہینے کے کون سے حصے میں روزے رکھتے تھے؟‘‘ فرمایا:’’اس کی پرواہ نہ فرماتے تھے کہ کس حصہ میں روزہ رکھیں۔“

شرح حدیث

بلا تعیین ہر ماہ تین روزے:شیخ عبدالحق مُحَدِّث دِہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”معلوم ہوا کہ ہر ماہ تین روزے جس دن بھی رکھے جائیں کفایت کریں گے ،تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں تاریخ کی کوئی قید نہیں تاہم اکثر احادیث وآثار ان ہی تاریخوں کے بارے میں وارد ہیں لہٰذا ان تاریخوں میں روزہ رکھنا زیادہ محبوب وافضل ہے۔اور ہر ماہ میں کوئی سے بھی تین دن روزے رکھنا بھی بزرگوں سے منقول ہے۔“مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”چونکہ حضرت عائشہ صدیقہ (رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَا) حضورِ اَنورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ہر حال نگاہ میں رکھتی تھیں اس لیے سرکار کے حالات زیادہ تر اُمُّ المؤمنین ہی سے پوچھے جاتے تھے۔خیال رہے کہ حضور انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّممہینوں میں مختلف روزے رکھتے تھےکبھی زیادہ کبھی کم مگر تین دن سے کم کبھی نہ رکھتے تھے،اکثر تیرھویں، چودھویں، پندرھویں کے روزے رکھتے تھے،کبھی ان کے علاوہ اور تاریخوں میں بھی لہٰذا یہ حدیث اُس حدیث کے خلاف نہیں کہ حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمان تین تاریخوں میں روزے رکھتے تھے کیونکہ وہاں اکثری حالت کا ذِکر ہے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1261