Main Icon

باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1259

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:اَوْصَانِيْ حَبِيْبِيْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ لَنْ اَدَعَهُنَّ مَا عِشتُ:بِصِيَامِ ثَلاثَةِ اَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَصَلاَةِ الضُّحَى وبِاَنْ لَا اَنَامَ حَتّٰى اُوْتِـرَ.

عن ابي الدرداء رضي الله عنه قال:اوصاني حبيبي صلى الله عليه وسلم بثلاث لن ادعهن ما عشت:بصيام ثلاثة ايام من كل شهر وصلاة الضحى وبان لا انام حتى اوتـر.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو درداءرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :”مجھے میرے حبیبصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےتین چیزوں کی نصیحت فرمائی، میں جب تک زندہ رہوں گا انہیں نہ چھوڑوں گا: (1)ہر مہینے تین روزے رکھنا(2)چاشت کی نماز اداکرنااور(3)سونے سے پہلے وِترپڑھنا۔ “

شرح حدیث

ہر ماہ تین روزوں سے مراد:ہر مہینے تین دن روزے رکھنے کے متعلق مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”شروع مہینہ میں ایک روزہ ،درمیان میں ایک،آخر میں ایک،یا ہرعشرہ کے شروع میں ایک روزہ یا ہر مہینے کی تیرھویں،چودھویں،پندرھویں کے روزے تیسرا احتمال زیادہ قوی ہے۔“مذکورہ نصیحتوں کو خاص کرنے کی وجہ:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْغَنِیفرماتے ہیں:”ہر مہینے تین روزے رکھنے میں حکمت یہ ہے کہ نفس کو روزوں کا عادی بنایا جائے اور چاشت کی نماز میں حکمت یہ ہے کہ نفس کو نماز کا عادی بنایا جائے۔ سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی نصیحت میں اس طرف اشارہ ہے کہ وتر پابندی سے پڑھے جائیں اور اس بات کا بیان ہے کہ وتر واجب ہیں اور اس کا وقت رات ہے کیونکہ رات کا وقت غفلت، نیند،سُستی اور آرام کا وقت ہے اس لیے خاص طور پررات کو سونے سے پہلے وترادا کرنے کی تاکید فرمائی۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1259