Main Icon

باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1109

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: رَمَقْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم شَهْرًا وَكَانَ يَقْرَاُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ :﴿ قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْن ﴾ وَ ﴿ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ ﴾.

عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: رمقت النبي صلى الله عليه وسلم شهرا وكان يقرا في الركعتين قبل الفجر :﴿ قل یایها الكفرون ﴾ و ﴿ قل هو الله احد ﴾.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:”میں ایک مہینے تک حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نماز ملاحظہ کرتا رہا،آپ فجر کی سنتوں میں سورۂ کافرون اورسورۂ اخلاص کی تلاوت فرماتے۔“

شرح حدیث

اکثر کونسی سورت تلاوت کرتے؟مذکورہ احادیث میں وہ آیات اور سورتیں بیان کی گئی جنہیں نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفجر کی سنتوں میں پڑھا کرتے تھے۔ حدیث نمبر 1107 میں سورۂ بقرہ اور آل ِعمران کی آیات ذِکر کی گئیں اور حدیث نمبر 1108 اور 1109میں سورۂ کافرون اور سورۂ اخلاص کا ذکر ہے ۔
خاتم المحققین،شیخ عبدالحق مُحَدِّث دِہلوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”ظاہر یہ ہے کہ سورۂ بقرہ اور سورۂ آلِ عمران کی آیات کو کبھی کبھی پڑھا کرتے جبکہ غالِب و اکثر فجر کی سنتوں میںقُلْ یَااَیُّھَا الْکَافِرُوْناورقُلْ ھُوَ اﷲشریف ہی کی تلاوت فرماتے تھے ۔“مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:” فجر کی سنتوں میں رکعت اول میںقُلْ یَااَیُّھَا الْکَافِرُوْناور رکعت دوم میںقُلْ ھُوَ اﷲ اَحَدپڑھتے تھے کیونکہ سرکار (صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ایک آدھ آیت اونچی بھی پڑھ دیتے تھے اس لیے صحابہ کرام (عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان) کو یہ پتہ لگ جاتا تھا اور اگر فجر کے فرض مراد ہوں تو یہ واقعہ کسی سفر کا ہوگا ورنہ حضور گھر میں فجر میں اکثر طوالِ مفصل(یعنی سورۂ حجرات سے سورۂ بروج) کی بڑی بڑی سورتیں پڑھتے تھے۔“مدنی گلدستہخواجہ کی چَھٹی شریف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) حضور
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامفجرکی سنتوں کے علاوہ دیگر سُنن ونوافل میں طویل قراءت فرماتے تھے۔
(2) سورۂ فاتحہ کو اُمُّ القرآن بھی کہتےہیں کہ اس میں
اﷲ تعالیٰکی حمد ہے اور عبادت و جزاکا ذکر ہے۔
(3) جس شخص کو اس بات کا یقین ہو کہ وہ رات کو جاگ جائے گا اس کے لیے رات کے آخری حصے میں وتر پڑھنا مستحب ہے، ورنہ سونے سےپہلے پڑھ لے۔
(4) حضور
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامفجر کی سنتوں میں اکثر ”سورۂ کافرون“ اور” سورۂ اخلاص“ پڑھا کرتے تھے۔
(5) دن اور رات میں چار چار رکعت نفل پڑھنا افضل ہے۔
(6) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانپیارے آقا،مدینے والےمصطفےٰصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ہر ادا کو بالخصوص عبادت کے انداز کوبغور ملاحظہ کرتے، اس پر عمل کرتے اور دوسروں کو بیان کرتے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنتوں پرعمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1109