Main Icon

باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1106

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنهُمَا قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَی وَيُوْ تِرُ بِرَكْعَةٍ مِّنْ آخِرِ اللَّيْلِ وَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ وَكَاَنَّ الْاَذَانَ بِاُذُنَيْهِ.

عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: کان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل مثنى مثنی ويو تر بركعة من آخر الليل ويصلي الركعتين قبل صلاة الغداة وكان الاذان باذنيه.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:”رسولِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات کے نوافل دو دو رکعت پڑھتے اور رات کے آخر میں ایک رکعت ملاکر وتر بنا دیتے اور صبح کی نماز سے پہلے دو رکعتیں ادا فرماتےگویا کہ اذان ابھی آپ کے کانوں میں ہوتی۔“

شرح حدیث

ایک رکعت ملاکر وتر بنانے کی وضاحت:حدیثِ پاک میں بیان ہوا کہ ”حضور رات کے نوافل دو دو رکعت پڑھتے اور رات کے آخر میں ایک رکعت ملاکر وتر بنادیتے۔“ یعنی مراد یہ ہے کہ پہلی والی دو رکعتوں کے ساتھ ایک رکعت ملاکر وتر پڑھتے تھے یا اس کو وتر بنادیتے۔وتر کا وقت:حدیثِ مذکور سے معلوم ہوا کہ وتر کو رات کے آخر میں پڑھنا زیادہ بہتر ہے۔بہارِ شریعت میں ہے: ”جو شخص جاگنے پر اعتماد رکھتا ہو اس کو آخر رات میں وتر پڑھنا مستحب ہے، ورنہ سونے سے قبل پڑھ لے۔“”وتر کا وقت احناف کے نزدیک عشا کے بعد صبح صادق طلوع ہونے تک ہے۔“حدیثِ پاک میں بیان ہوا کہ”حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنمازِفجر سے پہلے دو رکعتیں یوں ادا فرماتے گویا اذان ابھی آپ کے کانوں میں ہوتی ہے۔“فقیہِ اعظم،حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”(یہاں )اذان سے مراد اقامت ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جیسے اقامت سننے والا نماز میں ہو تو مختصر پڑھے گا اسی طرح حضور (صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) بھی فجر کی سنتیں مختصر پڑھتے۔“رات کےنوافل چار رکعت پڑھنا:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْغَنِیفرماتے ہیں:”امام اعظم ابو حنیفہرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہکے نزدیک افضل یہ ہے کہ دن اور رات میں چار چار رکعت نماز نفل پڑھی جائے۔ امام اعظم ابوحنیفہرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہنے رات کی نماز پر اس حدیث سے استدلال کیا ” اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاسے حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رات کی نماز کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا: ”رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّملوگوں کو عشا کی نماز پڑھاتے پھر گھرتشریف لاتے اور چار رکعت پڑھتے پھر بستر مبارک پرآجاتے ۔“صَدْرُالشَّرِیْعَہ بَدرُالطَّرِیْقَہحضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”دن کے نفل میں ایک سلام کے ساتھ چار رکعت سے زيادہ اور رات میں آٹھ رکعت سے زیادہ پڑھنا مکروہ ہے اور افضل یہ ہے کہ دن ہو یا رات ہو چار چار رکعت پر سلام پھیرے۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1106