Main Icon

باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1105

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ حَفْصَة َ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا:اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم كَانَ اِذَا اَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ لِلصُّبْحِ وَبَدَا َ الصُّبْحُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيْفَتَيْنِ.وَفِيْ رِوَايَةٍ لِمُسْلِـمٍ:كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم اِذَا طَلَعَ الفَجْرُ لَا يُصَلِّي اِلَّا رَكْعَتَيْنِ خَفِيْفَتَيْنِ .

عن حفصة رضي الله عنها:ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا اذن المؤذن للصبح وبدا الصبح صلى ركعتين خفيفتين.وفي رواية لمسلـم:كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا طلع الفجر لا يصلي الا ركعتين خفيفتين .

حدیث ترجمہ

اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا حفصہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں: ”جب مؤذن صبح کی اذان کہتا اور صبح ظاہر ہوجاتی تو رسول پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدو مختصر رکعتیں ادا فرماتے تھے۔“مسلم کی ایک روایت میں ہے: ”آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفجر طلوع ہونے کے بعد صرف دو مختصر رکعتیں ادا فرماتے۔“

شرح حدیث

فجر کی سنتوں میں اختصار کی وضاحت:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”نبی کریم ،رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفجر کی سنتوں میں اتنا اختصار کرتے کہ اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاکوآپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےسورۂ فاتحہ پڑھنے میں تردد ہوتا اور اس تردد کا یہ مطلب نہیں کہ آپرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاکوسورۂ فاتحہ کےپڑھنے میں شک ہوتا کیونکہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفجر کی سنتوں میں بہت زیادہ اختصار کرتے جبکہ آپ کی عادت سنن ونوافل میں طویل قراءت کرنا تھی۔اُمّ المؤمنینرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاکافرمانا بطورِمبالغہ تھا گویا دیگر سُنَن ونوافل کے مقابلے آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفجر کی سنتوں میں قراءت ہی نہ کرتے۔“گھر میں برکت واتفاق کا نسخہ:حدیثِ پاک میں بیان ہوا کہ ”جونہی فجر طلوع ہوتی آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفجر کی دو رکعتیں ادا فرماتے۔“مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”معلوم ہوا کہ سنتِ فجر گھر میں پڑھے اور ہلکی پڑھے۔بعض صوفیا اس کی رکعتِ اَوَّل میںاَلَمْ نَشْرَحاور دوسری میںاَلَمْ تَرَ کَیْفَپڑھتے ہیں بعد میں۷۰ بار استغفار پھر مسجد میں آکر باجماعت فرض، اس عمل سے بواسیر سے امن رہتی ہے، گھر میں برکت و اتفاق۔“صبح سے مراد:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حدیثِ پاک میں جو یہ فرمایا گیا کہ ”صبح ظاہر ہوجاتی تو رسولِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدو مختصر رکعتیں ادا فرماتے“ یہاں صبح سے مراد صبح صادق ہےجو اُفق ْپر چوڑائی میں ظاہر ہوتی ہے اورحدیث پاک میں طلوعِ فجر سے مراد بھی صبح صادق ہوجانا ہے۔“ ”صبحِ صادق ایک روشنی ہے کہ مشرق کی جانب جہاں سے آج آفتاب طلوع ہونے والا ہے اس کے اوپر آسمان کے کنارے میں جنوباًشمالاًدکھائی دیتی ہے اور بڑھتی جاتی ہے، یہاں تک کہ تمام آسمان پرپھیل جاتی ہے اورزمین پر اُجالا ہوجاتاہے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1105