- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 6
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- حدیث نمبر 761
حدیث مبارکہ
عَنْ سَهْلِ بنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ اُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ وَعَنْ يَسَارِهِ اَشْيَاخٌ فَقَالَ لِلْغُلَامِ:اَتَاْذَنُ لِيْ اَنْ اُعْطِيَ هٰؤُلَاءِ؟ فَقَالَ الغُلَامُ: لَا وَاللَّهِ! لَا اُوْثِرُ بِنَصِيْبِىْ مِنْكَ اَحَدًا فَتَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ.
عن سهل بن سعد رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتي بشراب فشرب منه وعن يمينه غلام وعن يساره اشياخ فقال للغلام:اتاذن لي ان اعطي هؤلاء؟ فقال الغلام: لا والله! لا اوثر بنصيبى منك احدا فتله رسول الله صلى الله عليه وسلم في يده.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا سہل بن سعدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں ایک مشروب پیش کیا گیا جسے آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نوش فرمایا،آپ کی دائیں جانب ایک لڑکا اور بائیں جانب عمر رسیدہ لوگ بیٹھے تھے۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے لڑکے سے پوچھا: کیا تم اجازت دیتے ہو کہ (پہلے)میں اِن (بڑوں)کو دےدوں؟لڑکے نے عرض کی:’’نہیںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی قسم! آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی جانب سے ملنے والے حصے پر میں کسی کو ترجیح نہیں دوں گا ۔چنانچہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے برتن اس لڑکے کے ہاتھ میں رکھ دیا۔
شرح حدیث
سیدھی جانب سے ابتدا کرنا سنت ہے :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ دونوں ا حادیثِ مبارکہ میں دائیں طرف سے ابتدا کرنے کا ذکر ہے اور اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دائیں طرف سے ابتداکرنا اس قدر محبوب تھا کہ بارگاہِ رسالت میں دائیں جانب ایک اعرابی بیٹھا تھا اور بائیں جانب حضرت سَیِّدُناابو بکر صدیقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُاور آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دودھ نوش فرمانے کے بعد بچا ہوا مبارک دودھ پہلے اعرابی کو عطا فرمایا۔اعرابی کو پہلے دینے کی وجہ یہ تھی کہ وہ دائیں جانب بیٹھا تھا۔عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:علامہ مہلبرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا کہ کھانے پینے اور تمام چیزوں میں دائیں جانب سے ابتدا کرنا سنت مبارکہ ہے اوررسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدائیں جانب کو پسند فرماتے تھے یہ بتانے کے لئے کہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے دائیں جانب والوں کو فضیلت عطا فرمائی ہے ۔ظاہر یہ ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس اعرابی کو پہلے اس لئے عطا فرمایا کہ وہ دائیں جانب بیٹھا تھا اور دائیں جانب سے ابتدا کرنا سنتِ مبارکہ ہے ۔اگر دائیں جانب کوئی نہ ہو تو پہلے بڑے کو دیا جائے پھر اس کے بعد جو بڑا ہو اسے دیا جائے یوں ترتیب وار ہو۔
مرآۃ المناجیح میں ہے:”کھانے پینے کی ترتیب میں قربِ مرتبہ کا اعتبار نہیں قربِ مکان کا لحاظ ہے اور داہنا شخص بائیں سے قریب تر ہوتا ہے۔نماز کی امامت میں اعلیٰ و افضل و اعلم کو مقدم رکھا جاتا ہے،یہ ترتیب عقل کے بھی مطابق اور قرین قیاس ہے۔“دوسری حدیث پاک میں بھی اسی طرح کا مضمون ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ اقدس میں دائیں جانب ایک لڑکا بیٹھا تھا اور بائیں جانب عمر رسیدہ حضرات ،آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پانی نوش فرمانے کے بعد دائیں جانب بیٹھے لڑکے سے پوچھا کیا تم اجازت دیتے ہو کہ پہلے بائیں جانب بیٹھے لوگوں کو یہ پانی دے دوں؟لڑکے نے نفی میں جواب دیتے ہوئے عرض کی:اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی قسم! آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی جانب سے ملنے والے حصے پر میں کسی کو ترجیح نہیں دوں گاتو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پانی کا برتن اس لڑکے کے ہاتھ میں دے دیا۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّداُخروی اُمور میں بخل کرنا محمود ہے :مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:وہ لڑکا حضرتعبداللّٰہابن عباس تھے جو بالکل نو عمر تھےرَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ۔(آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے لڑکے سے پوچھا کیا تم اجازت دیتے ہو کہ (پہلے )میں ان کو دوں؟)معلوم ہوا کہ یہ حق عبد ہے اگر بندہ خود اپنا حق دوسرے کو دینے پر راضی ہوجاوے تو فبہا (تودے دیا جائے)ورنہ اس کی اجازت کے بغیر دوسرے کو نہ دیا جائے۔(لڑکے نے عرض کی:”نہیںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی قسم! آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی جانب سے ملنے والے حصے پر میں کسی کو ترجیح نہیں دوں گا۔)اس سے معلوم ہوا کہ دُنیاوی اُمور میں ایثارکرنا سخاوت ہے، ربّ تعالیٰ فرماتاہے:﴿ وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﳴ﴾(پ۲۸،الحشر:۹)(ترجمۂ کنزالایمان: اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں شدید محتاجی ہو۔)مگر اُخروی اُمور میں ایثار نہ کرنا، بخل کرنا محمود ہے،یہ بخل قابلِ ستائش ہے۔یہاں پانی کم نہ تھا جس کے ختم ہوجانے کا اندیشہ ہوتا بلکہ بلاواسطہ حضور کا پس خوردہ(بچا ہوا پانی) پینا مطلوب تھا جوکبھی کسی کو خوش نصیبی سے میسر ہوتا ہے۔یہاں (صاحبِ)مرقات نے فرمایا کہ اِسناد جتنی چھوٹی ہو اتنی اعلیٰ اور قوی ہے اور خرقہ نبویہ جس قدر زیادہ واسطوں سے پہنچے اتنا اشرف ہوتا ہے کہ اس میں بہت برکتیں شامل ہوتی ہیں لہذا حضرت علیرَضِیَ اللّٰہ عَنْہُکا خلیفہ چہارم ہونا بہت ہی محبوب ہے کہ آپ کو حضور کی خلافت تین واسطوں سے پہنچی جس میں بہت برکتیں ان واسطوں کی بھی شامل ہوگئیں بہرحال یہ عمل شریف بہت ہی اعلیٰ ہے۔(چنانچہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے برتن اس لڑکے کے ہاتھ میں رکھ دیا۔) اس سے معلوم ہوا کہ حکم اور مشورہ میں فرق ہے یہاں حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے حضرت ابن عباس کو حکم نہ دیا تھا بلکہ مشورہ فرمایا تھا کہ اگر تم اجازت دو تو ہم یہ تمہارا حق دوسرے کو دے دیں۔حضرت ابن عباس نے مشورہ قبول نہ کیا بلکہ نہایت ادب و احترام اور اچھی معذرت سے اپنا حق خود لے لیا۔اس سے بہت سے مسائل شریعت و طریقت کے حل ہوتے ہیں۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدنیک کاموں میں ایثار نہ کرے:شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیمذکورہ دونوں اَحادیث کو ذِکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:”ان دو حدىثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتداکا زىادہ حق دار اور زىادہ مناسب دائىں جانب والا ہے، اگرچہ وہ مفضول (کہ کم فضیلت والا) اور بچہ ہى ہو اور اگر مصلحت ہو تو اس سے اجازت لى جائے ، وہ راضى ہوجائے تو بائىں جانب والے کو دے۔نبى اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دوسرى صورت مىں اجازت طلب کى پہلى صورت مىں طلب نہىں کى، غالباً اس کى وجہ ىہ ہوگى کہ کم عمر صاحبزادے حضرت ابنِ عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُتھے ، اور بڑى عمر والے قرىش مىں سے آپ کے رشتے دارتھے، اس جماعت کى تالىف قلب کے لىےحضرت ابن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے اجازت طلب فرمائى تاکہ ىہ لوگ رنجىدہ نہ ہوں اور ثابت قدمى کے مقام سے پھسل نہ جائىں۔حضرت ابوبکر صدىقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکى محبت اور ان کا اخلاص راسخ تھا، وہ نبى اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکى عادتِ کرىمہ سے واقف تھے، اور ان کے رنجىدہ ہونے کا وہم و گمان بھى نہ تھا، اگر آپ اَعرابى سے اجازت طلب فرماتے تو چونکہ وہ نئے نئے جاہلىت سے نکل کر اسلام لائے تھے، اس لىے ممکن تھا وہ وحشت مىں مبتلا ہوجاتے لہٰذا ان کى تالىفِ قلبى کا ىہى طرىقہ تھا کہ ان سے اجازت طلب نہ کى جاتى۔بعض شارحىن نے کہا کہ آخرى صورت مىں دودھ کا وہ پىالہ اس صاحبزادے کى ملکىت تھا اس لىے ان سے اجازت طلب کى گئى ،وَاللّٰہ تَعَالٰى اَعْلَم۔
اس جگہ قابلِ ذِکر بات ىہ ہے کہ فقہاءِ کرام کا اس امر پر اتفاق ہے کہ قرب کا ذریعہ بننے والے امور اور نیک کاموں مىں اىثار جائز نہیں۔ظاہر ىہ ہے کہ اگر واجبات مىں اىثار ہو تو حرام ہوگا اور اگر فضائل و مستحبات مىں ہے تو مکروہ ہوگا۔ ہم چند مثالوں کے ساتھ اس کا مطلب بىان کرتے ہىں، مثلاً اىک شخص کے پاس وضو کا پانى ہے وہ دوسرے کو دے دىتا ہے، اور خود تىمم کرکے نماز پڑھتا ہے ىا اس کےپاس ستر ڈھانپنے کے لىے کپڑا ہے وہ دوسرے کو دے کر خود برہنہ نماز پڑھتا ہے تو ىہ طرىقہ جائز نہىں ہوگا ىا ازراہِ تواضع پہلى صف اور امام کى نزدىکى کا دوسرے کے لىے اىثار کرتا ہے اور خود دوسرى صف مىں امام سے دور کھڑا ہو کر نماز ادا کرتا ہے، تو ىہ مناسب نہ ہوگا۔قابلِ تعرىف اىثار وہ ہے جو دنىاوى اُمور مىں ہو نہ کہ طاعات اور نىکىوں مىں، اسى لىے سرکارِ دوعالَمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت ابنِ عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے اىثار نہ کرنے پر ان کی تائىد کى اور اس کے ترک کرنے پر ان کى مذمت نہ فرمائى۔مخفى نہ رہے کہ نبى اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس لىے اجازت طلب کى تھى کہ اگر وہ اجازت دے دىتے ہىں اور راضى ہوجاتے تو درست ہوتا۔ اس سے تو اىثار کا جائز ہونا معلوم ہوتا ہے، ہاں ىہ کہا جاسکتا ہے کہ نبى اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس معاملے کو اُمورِ دنىا مىں سے قرار دے کر اجازت طلب کى، کىونکہ ظاہر ىہ ہے کہ پىالے مىں دودھ ىا پانى تھا جس سے دنىاوى نفع حاصل کىا جاتا ہے، اور جب دىکھا کہ حضرت ابنِ عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُاسے اطاعت اورذرىعۂ تَقَرُّب سمجھ رہے ہىں کىونکہ نبى اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا بقىہ افضل ترىن ذرىعۂ قُرب اورعظیم برکت ہے اس لئے انہیں ایثار کا حکم نہیں دیا اور ایثار کے ترک کرنے پر ان کی تائید فرمائی۔معلوم ہوا کہ نیک کاموں میں ایثار نہیں ہے کیونکہ اس میں قربِ باری تعالیٰ کو چھوڑنا اور اس سے اِعراض کرنا ہے۔مدنی گلدستہ’’ ایثار‘‘کے5حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) کھانے پینے کی چیز تقسیم کرنے میں سیدھی جانب سے ابتدا کرنی چاہیے کہ یہ سنتِ مبارکہ ہے۔
(2) حضورنبی کریم ،رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسیدھی جانب کو پسند فرماتے تھے، جب کوئی چیز تقسیم فرماتے تو پہلے سیدھی جانب والوں کو عطا فرماتے ۔
(3) دُنیاوی چیزوں میں بخل کرنا ممنوع ہے جبکہ اُخروی چیزوں میں بخل اچھا اور قابلِ تعریف ہے ۔
(4) جس کا حق پہلے بنتا ہے اسے ہی مقدم کیا جائے اگر کسی وجہ سے دوسرے کو مقدم کرنا ہو تو حق والے سے اجازت لی جائے۔
(5) پسندیدہ ایثار وہ ہے جو دنیاوی اُمور میں ہوجبکہ طاعات اور نیک کاموں میں ایثار پسندیدہ نہیں۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں سنت پر عمل کی نیت سے سیدھی جانب سے ابتدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 761