Main Icon

باب: پینے کے آداب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 758

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم:لَا تَشْرَبُوْا وَاحِدًا كَشُرْبِ الْبَعِيرِ وَلَكِنِ اشْرَبُوْا مَثْنَى وَثُلَاثَ وَسَمُّوااِذَا اَنْتُمْ شَرِبْتُمْ وَاحْمَدُوْا اِذَا اَنْتُمْ رَفَعْتُمْ.

عن ابن عباس رضي الله عنهما قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:لا تشربوا واحدا كشرب البعير ولكن اشربوا مثنى وثلاث وسموااذا انتم شربتم واحمدوا اذا انتم رفعتم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہابن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’اونٹ کی طرح ایک سانس میں نہ پیوبلکہ دو یا تین سانسوں میں پیو اور جب پیو توبِسْمِ اللّٰہپڑھو اورجب برتن کو منہ سےہٹاؤ تواَلْحَمْدُلِلّٰہکہو ۔ ‘‘

شرح حدیث

دونوں اَحادیث میں تطبیق :پہلی حدیث میں تین سانس کے ساتھ پینے کاذکر ہے جبکہ دوسری حدیث پاک میں دو یا تین سانس میں پینے کا ذکر ہے۔ان دونوں روایات میں تطبیق دیتے ہوئےعَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:’’دوسری حدیث میں دو مرتبہ سانس لینے کی تصریح نہیں ہے بلکہ اس میں بتایا گیا ہے کہ دو بار سانس لینا بھی کافی ہے،لیکن اصل اور مستحب یہ ہے کہ تین سانس میں ہی پیا جائے ۔‘‘برتن سے منہ علیحدہ کرکے سانس لینا:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!پہلی حدیث پاک میں نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پانی نوش فرمانے کا ذکر ہے کہ جب آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپانی نوش فرماتے تو دو یا تین سانس میں پیتے اور یہ سانس برتن سے باہر لیتے۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:یعنی حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمپانی پیتے میں برتن سے علیحدہ منہ کرکے تین سانسیں لیتے تھے۔پہلی سانس، پینا شروع کرتے وقت، پھر کچھ پی کر سانس لیتے، یہ دوسرا سانس شریف ہوا،پھرکچھ پی کر تیسرا سانس لیتے یہ تیسرا سانس ہوا یعنی دوران پینے میں دو سانس لیتے تھے اور کُل تین سانس،یہ عمل شریف ہر پینے میں ہوتا تھا خواہ پانی ہو یا دودھ یا شربت یا کوئی اور چیز اور یہ ہی سنت ہے۔ مگر خیال رہے کہ یہ سانسیں برتن سے منہ الگ کرکے ہیں۔ایک سانس میں پینا:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَنِیفرماتے ہیں:ایک سانس میں پانی یا کوئی مشروب پینا جائزہےیانہیں؟اس میں فقہا کا اختلاف ہے۔حضرت سَیِّدُنا سعید بن مسیب اور حضرت سَیِّدُنا عطاء بن ابی رباحرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِمَانے ایک سانس میں پانی پینے کی اجازت دی ہے جبکہ حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہابن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَا،حضرت امام طاؤس،حضرت عکرمہعَلَیْہِمَا الرَّحْمَہکےنزدیک ایک سانس میں پانی پینا مکروہ ہے۔ حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہابنِ عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا کہ یہ شیطان کا پینا ہے۔حضرت امام اَثْرَمرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:اَحادیث بظاہر مختلف ہیں اور ہمارے نزدیک ایک سانس،دو سانسوں،تین سانسوں میں یا اس سے زیادہ سانسوں میں پینا جائز ہے کیونکہ روایات کا اختلا ف تسہیل(آسانی) پر دلالت کرتا ہےلیکن تین سانسوں میں پینا مستحسن(اچھا) ہے۔تین سانسوں میں کیا کہے؟حدیث پاک کے آخر میں فرمایاکہ برتن منہ سے ہٹانے کے بعداَلْحَمْدُلِلّٰہکہو، یہاَلْحَمْدُلِلّٰہکہنا خواہ ہرسانس کے بعد ہو یا آخر میں ہو۔( )مرآۃ المناجیح میں ہے:یعنی جب پینے لگو توبِسْمِ ﷲپڑھو اور جب پی چکو تواَلْحَمْدُلِلّٰہکہو۔احیاء العلوم میں امام غزالی(عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِی)فرماتے ہیں:بِسْمِ اللّٰہپڑھ کر پینا شروع کرے پہلی سانس لینےپر کہےاَلْحَمْدُلِلّٰہ،دوسری سانس لینے پر کہےاَلْحَمْدُ لِلّٰہ رَبِّ العَالَمِیْن، تیسری سانس پر کہےاَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔مدنی گلدستہ’’حدیث ‘‘کے4حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) پانی یا کوئی بھی مشروب ہو تین سانس میں پینا اور ہر سانس برتن سے باہر لینا سنتِ مبارکہ ہے ۔
(2) حدیث پاک میں ایک سانس میں پانی پینے سے منع فرمایا ہے کہ یہ جانوروں کا طریقہ ہے۔
(3) پینے سے پہلے
بِسْمِ اللّٰہاورپینے کے بعداَلْحَمْدُ لِلّٰہکہنا چاہیے۔
(4) شیطان ایک سانس میں پیتا ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں سنت کی ادائیگی کرتے ہوئےتین سانس میں پینے،پیتے وقتبِسْمِ اللّٰہپڑھنے اور پینے کے بعداَلْحَمْدُ لِلّٰہکہنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 758