Main Icon

باب: پینے کے آداب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 759

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ نَهٰى اَنْ يُتَنَفَّسَ فِي الْإِنَاءِ.

عن ابي قتادة رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى ان يتنفس في الإناء.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو قتادہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ بیشک حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے برتن میں سانس لینے سے منع فرمایا۔

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیثِ پاک میں اِس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ نبی کریم ،رؤف رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے برتن میں سانس لینے سے منع فرمایا۔شارِحین نے برتن میں سانس نہ لینے کی مختلف حکمتیں بیان فرمائی ہیں۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”سانس میں اندر کی گرمی اور زہریلا مادہ ہوتا ہے جو پانی میں مِل کر بیماری پیدا کرتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ چائے وغیرہ گرم چیز میں پھونکیں مارنا منع ہے۔“مزید ایک جگہ ارشاد فرمایا:”برتن میں سانس لینا جانوروں کا کام ہے۔بعض لوگوں کو گندہ دہنی کی بیماری ہوتی ہے ان کی پھونک سے پانی میں بدبو پیدا ہوجاتی ہے اس لیے ہرشخص ان دونوں یعنی برتن میں سانس لینے اور اس میں پھونک مارنے سے پرہیز کرے،حضور کے احکام میں صدہا حکمتیں ہیں۔“عُمْدَۃُ الْقَارِیمیں ہے:”برتن میں سانس لینے سے اسی طرح منع کیا گیا ہے جیسا کہ کھانے اور پینے میں پھونک مارنے سے۔ ہو سکتا ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ کھانے یا مشروب میں پھونک مارنے سے لُعاب کے چھینٹیں کھانے یا مشروب میں پڑ جائیں اوردوسرا شخص جو اسے کھانا یا پینا چاہتا ہے وہ کھانے پینے سے کراہت محسوس کرے،پس اسی وجہ سے منع فرمایا کہ دوسرے کے لئے کھانا خراب نہ ہو جائے یہ صورت اس وقت ہے جب کوئی دوسرا شخص کھانے پینے میں ساتھ شریک ہو لیکن اگر وہ اکیلا کھا رہا ہو یا پی رہا ہو یا پھر اسے علم ہو کے ساتھ کھانے پینے والے کو میرے پھونک مارنے یا برتن میں سانس لینے سے گِھن نہیں آئے گی تو پھر برتن میں سانس لینے میں کوئی حرج نہیں۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 759