- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 6
- باب: پینے کے آداب کا بیان
باب: پینے کے آداب کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 6
حضرت سَیِّدُناانسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ”نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپیتے وقت تین بار سانس لیتے تھے۔“
عَن اَنَسٍ رَضِي اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الشَّرَابِ ثَلَاثًا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 757 ، باب: پینے کے آداب کا بیان
حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہابن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’اونٹ کی طرح ایک سانس میں نہ پیوبلکہ دو یا تین سانسوں میں پیو اور جب پیو توبِسْمِ اللّٰہپڑھو اورجب برتن کو منہ سےہٹاؤ تواَلْحَمْدُلِلّٰہکہو ۔ ‘‘
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم:لَا تَشْرَبُوْا وَاحِدًا كَشُرْبِ الْبَعِيرِ وَلَكِنِ اشْرَبُوْا مَثْنَى وَثُلَاثَ وَسَمُّوااِذَا اَنْتُمْ شَرِبْتُمْ وَاحْمَدُوْا اِذَا اَنْتُمْ رَفَعْتُمْ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 758 ، باب: پینے کے آداب کا بیان
حضرت سَیِّدُنا ابو قتادہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ بیشک حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے برتن میں سانس لینے سے منع فرمایا۔
عَنْ اَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ نَهٰى اَنْ يُتَنَفَّسَ فِي الْإِنَاءِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 759 ، باب: پینے کے آداب کا بیان
حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں دودھ پیش کیا گیا جس میں پانی ملایا گیا تھا،آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دائیں جانب ایک اَعرابی (دیہاتی)بیٹھا تھا اور بائیں جانب حضرت سَیِّدُنَا ابو بکررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ،آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دودھ نوش فرما نے کے بعد اعرابی کو عطا فرمایا اور ارشاد فرمایا:سیدھی طرف سے پھرسیدھی طرف سے (یعنی آگے دیتے جاؤ)۔
عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ اُتِيَ بِلَبَنٍ قَدْ شِيْبَ بِمَاءٍ وَعَنْ يَمِيْنِهِ اَعْرَابِيٌّ وَعَنْ يَسَارِهِ اَبُوْ بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَشَرِبَ ثُمَّ اَعْطَی الْاَعْرَابِيَّ وَقَالَ:اَلْاَيْمَنَ فَالْاَيْمَنَ .
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 760 ، باب: پینے کے آداب کا بیان
حضرت سَیِّدُنا سہل بن سعدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں ایک مشروب پیش کیا گیا جسے آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نوش فرمایا،آپ کی دائیں جانب ایک لڑکا اور بائیں جانب عمر رسیدہ لوگ بیٹھے تھے۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے لڑکے سے پوچھا: کیا تم اجازت دیتے ہو کہ (پہلے)میں اِن (بڑوں)کو دےدوں؟لڑکے نے عرض کی:’’نہیںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی قسم! آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی جانب سے ملنے والے حصے پر میں کسی کو ترجیح نہیں دوں گا ۔چنانچہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے برتن اس لڑکے کے ہاتھ میں رکھ دیا۔
عَنْ سَهْلِ بنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ اُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ وَعَنْ يَسَارِهِ اَشْيَاخٌ فَقَالَ لِلْغُلَامِ:اَتَاْذَنُ لِيْ اَنْ اُعْطِيَ هٰؤُلَاءِ؟ فَقَالَ الغُلَامُ: لَا وَاللَّهِ! لَا اُوْثِرُ بِنَصِيْبِىْ مِنْكَ اَحَدًا فَتَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 761 ، باب: پینے کے آداب کا بیان