Main Icon

باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1063

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ:اَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَخَّرَ لَيْلَةً صَلَاةَ الْعِشَاءِ اِلٰى شَطْرِ اللَّيْلِ ثُمَّ اَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ بَعْدَمَا صَلَّى فَقَالَ:صَلَّى النَّاسُ وَرَقَدُوْا وَلَمْ تَزَالُوْا فِيْ صَلَاةٍ مُنْذُ انْتَظَرْتُمُوْهَا.

عن انس رضی اﷲ عنہ:ان رسول الله صلی اﷲ علیہ وسلم اخر ليلة صلاة العشاء الى شطر الليل ثم اقبل علينا بوجهه بعدما صلى فقال:صلى الناس ورقدوا ولم تزالوا في صلاة منذ انتظرتموها.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نمازِعشا آدھی رات تک مُوَخَّر فرمائی پھر نماز پڑھنےکے بعد ہماری طرف رُخِ انور کر کے ارشاد فرمایا:”لوگوں نے نماز پڑھی اور سوگئے ،مگر تم جب تک نماز کے انتظار میں رہے نماز ہی میں رہے ۔ “

شرح حدیث

نماز کا انتظار عبادت ہے:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”نمازکا انتظارمطلقًاعبادت ہےمگرمسجدمیں بیٹھ کرانتظاربڑی عبادت۔صحابہ کرام کا طریقہ یہ تھا کہ حضور خواہ کتنی ہی دیرمیں تشریف لاتے مگر نہ حضور کو نماز کے لئے بلاتے تھے نہ اکیلے پڑھ لیتے اور نہ اپنی جماعت علیحدہ کرلیتے۔(لوگوں نے نماز پڑھی اور سوگئے) ظاہریہ ہے کہ ان لوگوں سے مراد وہ مسلمان ہیں جنہوں نے اپنی مسجدوں میں عشاپڑھ لی یاوہ عورتیں،بچے جوگھروں میں اکیلے عشاءپڑھ کرسو گئے۔میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہواکہ جو خوش نصیب مسلمان مسجد میں رہ کر نماز کا انتظار کرے توجب تک نماز کے انتظار میں رہے گا نماز کا ثواب پاتا رہے گااورفرشتے اس کے لئے مغفرت ورحمت کی دعاکرتے رہیں گے ۔اس لئے ہمیں بھی چاہیے کہ نماز کی ادائیگی کے بعد حسبِ موقع اگلی نماز کا انتظار کریں ۔اچھا وقت وہی ہےجو مسجد میں اعمال ِصالحہ کے ساتھ گزرے کیونکہ جب تک بندہ مسجد میں رہتاہے اسے ہرسانس پر نیکی ملتی ہے، فرشتوں کی ہم نشینی نصیب ہوتی ہے،اﷲ عَزَّ وَجَلَّکا مہمان بن جاتاہے،گناہوں سےمحفوظ رہتا ہے،نیکیوں کامیٹر چلتارہتاہے،اﷲ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے پیارے حبیبصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خوشنودی نصیب ہوتی ہے، باجماعت نماز پرپابندی ملتی ہے، بآسانی تکبیرِاُولیٰ اور پہلی صف کی سعادت حاصل ہوتی ہے،اگرمعتکف ہو تو دیگر عبادات کےساتھ ساتھ اعتکاف کاثواب بھی پاتاہے، اس کے علاوہ دنیا وآخرت کے بے شمار فوائد نصیب ہوتے ہیں ۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں مسجدوں سے محبت اوران کاادب واحترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔مدنی گلدستہ’’مسجدِنبوی ‘‘کے8حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذکورہ اور اُن کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1) نمازکے انتظار پربھی نماز ہی کی طرح ثواب ملتا ہے ۔
(2) جو مسجد میں نماز ادا کرکے اگلی نماز کے انتظار میں بیٹھ جائے اس کےلئے فرشتے رحمت ومغفرت کی دعاکرتے ہیں۔
(3) نمازکا انتظارمطلقًاعبادت ہےمگرمسجدمیں بیٹھ کرنماز کا انتظاربڑی عبادت ہے۔
(4) اسلامی بہنوں کو بھی چاہے کہ اپنے گھر میں جہاں نماز پڑھیں نماز پڑھ کر حسبِ موقع اگلی نماز کا انتظار کریں تاکہ اس انتظار پر انہیں بھی نماز کا ثواب ملتا رہے۔
(5) ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنے کو اسلامی سرحد پر پہرہ دینے کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔
(6) مسجد میں ریح خارج کرنے سے بچنا چاہیے۔
(7) جب تک بندہ مسجد میں رہتاہے اسے ہرسانس پر نیکی ملتی ہے۔
(8) مسجد میں آنے والا
اﷲ عَزَّ وَجَلَّکا مہمان ہوتا ہے،اسے فرشتوں کی ہم نشینی نصیب ہوتی ہےاور وہ گناہوں سےمحفوظ رہتا ہے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنے اور مسجد میں زیادہ سے زیادہ ٹھہرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1063