Main Icon

باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1062

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی هُرَيْرَةَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ:اَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلٰی اَحَدِكُمْ مَادَامَ فِي مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّی فِيْهِ مَا لَمْ يُحْدِثْ تَقُولُ:اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهُ،اَللّٰهُمَّ ارْحَمْهُ.

عن ابی هريرة رضی اﷲ عنہ:ان رسول الله صلی اﷲ علیہ وسلم قال:الملائكة تصلي علی احدكم مادام في مصلاه الذي صلی فيه ما لم يحدث تقول:اللهم اغفر له،اللهم ارحمه.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”تم میں سےجوشخص مسجد میں اپنی نمازکی جگہ بیٹھا رہےتوجب تک وہ بے وضو نہ ہو فرشتے اس کےلئے دعا کرتے رہتےہیں ۔ فرشتے کہتے ہیں:اےاﷲ!اس کی مغفرت فرما،اےاﷲ! اس پر رحم فرما۔ “

شرح حدیث

بغیر مشقت گناہوں کی معافی:علامہ ابنِ کمال پاشا حنفیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:علامہ ابنِ بطالرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا کہ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ بغیر کسی مشقت کے اس کے گناہ معاف ہوجائیں اس کو نماز کے بعد نماز کی جگہ بیٹھنے کو لازم کرلینا چاہیے تاکہ فرشتے اس کے لئے زیادہ دعائیں اور استغفار کریں کیونکہ فرشتوں کی دعا کے قبول ہونے کی بہت امید ہے۔قرآنِ پاک میں ہے:﴿لَا یَشْفَعُوْنَۙ-اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى(پ۱۷،الانبیاء:۲۸) (ترجمۂ کنز الایمان: شفاعت نہیں کرتے مگر اس کے لئے جسے وہ پسند فرمائے۔)
رسولِ پاک
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جس شخص کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوجائےاس کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں ۔“جب امام آمین کہتا ہے توفرشتے صرف ایک دفعہ آمین کہتے ہیں اور جو نمازی نماز کے بعد اپنی نماز کی جگہ جتنی دیر تک بیٹھا رہے اتنی دیر تک فرشتے اس کے لئے مغفرت کی دعا کرتے رہتے ہیں لہٰذا اس وقت کی دعا قبول ہونے کے زیادہ قریب ہے۔ مزید یہ کہ نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے لئے انتظار کرنے کو اسلامی سرحد پر پہرہ دینے کے ساتھ تشبیہ دی ہے لہٰذا ہرعقل مند مؤمن پر لازم ہے کہ جب اس کو ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار کے فضائل معلوم ہوں تو وہ اس سے وافر حصہ حاصل کرنے کی حرص کرے اور اس سے محروم نہ ہو ۔حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے حدیث پاک میں مذکور”مَا لَمْ يُحْدِثْ“میں حدث کی وضاحت ریح خارج کرنے سے کی ہے۔بعض نے کہا :یہاں حدث سے مراد وہ عمل ہے جو کسی کو نماز کے انتظار کے قصد سے پھیر دے۔بعض نے اس کا اطلاق گناہ پر کیا ہے۔مُفَسِّرِشہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”فرشتوں کی یہ دعائیں اس وقت تک ملیں گی جب تک وہ کسی نمازی کو ستائے نہیں،اور وہاں ریح نہ نکالے۔خیال رہے کہ غیرمعتکف کو مسجد میں ریح نکالنا منع ہے،معتکف چونکہ مسجد ہی میں رہتا ہے اس لئےاسے معافی ہے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1062