Main Icon

باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1112

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی هُرَيْرَةَرَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِذاصَلّٰی اَحَدُكُمْ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَلْيَضْطَجِعْ عَلٰی يَمِينِهِ.

عن ابی هريرةرضی اﷲ عنہ قال:قال رسول الله صلی اﷲ علیہ وسلم: اذاصلی احدكم ركعتي الفجر، فليضطجع علی يمينه.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابوہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جب تم میں سے کوئی فجر کی دو سنتیں پڑھ لے تو اسے چاہئے کہ دائِیں کروٹ لیٹ جائے ۔“

شرح حدیث

دائیں کروٹ لیٹنے کی حکمت:ارشادالساری میں ہے :”نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفجر کی سنتیں پڑھنے کے بعد اپنے کاشانۂ اَقدس میں کچھ دیر کےلئے سیدھی کروٹ لیٹ جاتے ۔اس میں ایک حکمت تو یہ ہے کہ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عادتِ کریمہ یہی تھی کہ تما م شان والے کاموں میں سیدھی جا نب کو پسند فرماتے،یا پھرجلدی اٹھنے کے لئےسیدھی جانب لیٹتے کیونکہ دائِیں جانب سونے سےبندہ جلدی بیدار ہوجاتا ہےاوربائیں جانب لیٹنے سے بہت گہری نیند آتی ہے۔ مگرخیال رہے کہ یہ بات عام لوگوں کے لئے ہے نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لئے نہیں کیونکہ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مبارک آنکھیں سوتی ہیں دل نہیں سوتا۔ سیدھی کروٹ پر سونا صالحین کا طریقہ ہے ،اُلٹی کروٹ سونا حکما کا طریقہ ،پیٹھ کے بَل سونا جبارین ومتکبرین کااورچہرے کے بل سونا کافروں کا طریقہ ہے ۔“مسجد کے پڑوسی کے لئے ایک آسانی :عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذِیالْجَلَالفرماتے ہیں:”حدیث ِ مذکورسے معلوم ہوا کہ احادیثِ مبارکہ میں مساجد کی طرف جلدی جانے کی ترغیب اس شخص کے لئے ہے جس کا گھر مسجد سے دور ہو، اقامت کی آواز اس تک نہ پہنچتی ہواورجلدی نہ جانے کی صورت میں نماز کے انتظار کی فضیلت فوت ہوجانے کا خوف ہواورمسجد کا وہ پڑوسی جسےاقامت کی آوا زپہنچتی ہو تو اس کا گھر میں رہ کراقامت کا انتظار کرنا مسجد میں انتظار کرنے کی طرح ہے، اسے بھی نمازکے انتظار کا ثواب ملے گا، کیونکہ یہ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکسی افضل عمل کو خود چھوڑ دیں اور اپنی اُمَّت کو اس کی ترغیب دلائیں، بلکہ حقیقت تویہ ہے کہ اُمَّت کے غمخوار آقاصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخود اپنے لئے شدت برداشت کرتے مگر اپنی اُمَّت کے لئے تخفیف پسند فرماتے ،تو اگر گھر میں رہ کر نماز کے انتظار کی فضیلت نہ ملتی تو آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس فضیلت کےحصول کے لئے ضرور اِقامت سے قبل مسجدتشریف لے جاتے اپنے کاشانۂ عالی ہی میں رہ کر اقامت کاانتظار نہ فرماتے۔“
مرآۃ المناجیح میں ہے:”سنت و فرضِ فجر کے درمیان قدرے لیٹنا خصوصاً جب کہ تہجد کی وجہ سے تھکن ہوگئی ہو بہت بہتر ہے۔اور داہنی کروٹ پر لیٹنا سنت ہے۔“
مدنی گلدستہ’’سُنَّتِ فجر‘‘کے6حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) سرکارمدینہ راحت قلب وسینہ
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفجر کی سنتیں ادا فرمانےکے بعد اپنے کاشانَۂ اَقدس میں کچھ دیر کے لئے سیدھی کروٹ لیٹ کر آرام فرمایا کرتے تھے ۔
(2) آپ
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفجر کی سنتوں کی بہت زیادہ محافظت فرمایا کرتے تھے ۔
(3) سیدھی کروٹ پر سونا صالحین کا طریقہ ہے۔
(4) دائِیں کروٹ لیٹنے میں ایک حکمت یہ ہےکہ اس سے قبر کی یاد تازہ ہو تی ہے۔
(5) حضورنبی کریم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی آنکھیں سوتی ہیں دل نہیں سوتا۔
(6) قبر کی یاد عبادت میں خشوع پیدا کرتی ہےاور خشوع ہی عبادت کی اصل ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پیاری سنتوں پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1112