Main Icon

باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1111

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبيُّ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيمَا بَيْنَ اَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِاِلَى الْفَجْرِ اِحْدَى عَشرَةَ رَكْعَةً يُسَلِّمُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَيُوْ تِرُ بِوَاحِدَةٍ، فَاِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ ،وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ وَجَآءَهُ الْمُؤَذِّنُ،قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيْفَتَينِ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْاَ يْمَنِ حَتَّى يأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ لِلْاِقَامَةِ .

عن عائشة رضي الله عنها قالت: كان النبي صلی اﷲ علیہ وسلم يصلي فيما بين ان يفرغ من صلاة العشاءالى الفجر احدى عشرة ركعة يسلم بين كل ركعتين ويو تر بواحدة، فاذا سكت المؤذن من صلاة الفجر ،وتبين له الفجر وجاءه المؤذن،قام فركع ركعتين خفيفتين ثم اضطجع على شقه الا يمن حتى يأتيه المؤذن للاقامة .

حدیث ترجمہ

اُمُّ المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ طیِّبہ طاہرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمعشا کی نمازسےفراغت کے بعدفجرتک گیارہ رکعتیں ادا فرماتے،ہر دو رکعتوں پرسلام پھیرتے اور دو کےساتھ ایک رکعت اورملا کر وترادا فرماتے۔جب مؤذن فجر کی اذان دے لیتااور فجر واضح ہوجاتی تووہ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس حاضر ہوتا،پس آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدو مختصررکعتیں ادا فرماتے اور دائِیں کروٹ لیٹ جاتے یہاں تک کہ مؤذن آپ کے پاس اقامت کے لئے حاضر ہوتا۔

شرح حدیث

گیارہ رکعتوں کی وضاحت:حدیثِ مذکور میں بیان ہوا کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمعشا اور فجر کے درمیانی وقت میں گیارہ رکعتیں ادا فرمایاکرتے،ان میں آٹھ رکعتیں تہجد کی ہوتیں اور تین رکعت وتر کی،چنانچہ مرآۃ المناجیح میں ہے:”(نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمعشاوفجر کے درمیان گیارہ رکعت ادا فرماتے)اس طرح کہ آٹھ رکعت تہجد پڑھتے تھے تین رکعت وتر۔ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے اور پھر ایک رکعت ملا کر وترپڑھتے یعنی دودو رکعت پرسلا م تو تہجد میں پھیرا اور وتر اس طرح پڑھے کہ دو رکعت کے ساتھ ایک رکعت اورمِلا لی جس سے یہ ساری نماز وتر یعنی طاق ہوگئی۔(پھر) جب خوب روشنی ہوجاتی تو سنتِ فجر ادا فرماتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ فجر اُجیالے میں پڑھنا سنت ہے اس طرح کہ سنتیں بھی بلکہ اذانِ فجربھی اجیالے میں ہو۔ حضرت بلال(رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ)جماعت کے وقت درِدولت پرحاضرہو کرعرض کرتے کہ”کیا تکبیر کہوں؟‘‘آپ (صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)اجازت دیتے تب وہ صف میں پہنچ کر تکبیر شروع کرتے، جبحَیَّ عَلَی الْفَلَاحپرپہنچتے تو آپ(صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) دروازہ شریف سے مسجد میں داخل ہوتے۔ اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ سنتِ فجر کے بعد داہنی کروٹ پر کچھ دیر لیٹ جانا سنت ہے بشرطیکہ نیند نہ آجائے ورنہ وضو جاتا رہے گا۔دوسرے یہ کہ سُلطانِ اِسلام(اور) عالِمِ دِین کو اذان کے علاوہ بھی نماز کی اطلاع دینا جائز ہے۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1111