Main Icon

باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1103

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ عَبْدِ اللهِ بِلَالِ بْنِ رَبَاحٍ رَضِيَ الله عَنْهُ مُؤَذِّن رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:اَنَّهُ اَتَى رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُؤْذِنَهُ بِصَلَاةِ الغَدَاةِ فَشَغَلَتْ عَائِشَةُ بِلَالًا بِاَمْرٍ سَاَ لَتْهُ عَنْهُ حَتَّى اَصْبَحَ جِدًّا فَقَامَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ وَتَابَعَ اَذَانَهُ فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا خَرَجَ صَلَّى بِالنَّاسِ فَاَخْبَرَهُ اَنَّ عَائِشَةَ شَغَلَتْهُ بِاَمْرٍ سَاَ لَتْهُ عَنْهُ حَتَّى اَصْبَحَ جِدًّا وَاَنَّهُ اَبْطَاَ عَلَيْهِ بِالْخُرُوْجِ فَقَالَ يَعْنِي النَّبيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنِّيْ کُنْتُ رَكَعْتُ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَقَالَ: یَارَسُولَ اللهِ اِنَّكَ اَصْبَحْتَ جِدًّا فَقَالَ: لَوْ اَصْبَحْتُ اَكْثَرَ مِمَّا اَصْبَحْتُ لَرَكَعْتُهُمَا وَاَحْسَنْتُهُمَا وَاَجْمَلْتُهُمَا.

عن ابي عبد الله بلال بن رباح رضي الله عنه مؤذن رسول الله صلى الله عليه وسلم:انه اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم ليؤذنه بصلاة الغداة فشغلت عائشة بلالا بامر سا لته عنه حتى اصبح جدا فقام بلال فاذنه بالصلاة وتابع اذانه فلم يخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما خرج صلى بالناس فاخبره ان عائشة شغلته بامر سا لته عنه حتى اصبح جدا وانه ابطا عليه بالخروج فقال يعني النبي صلى الله عليه وسلم: اني کنت ركعت ركعتي الفجر فقال: یارسول الله انك اصبحت جدا فقال: لو اصبحت اكثر مما اصبحت لركعتهما واحسنتهما واجملتهما.

حدیث ترجمہ

مؤذنِ رسول حضرت سَیِّدُنا ابو عبداﷲبلال بن رَباحرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ وہ نمازِ فجر کی اطلاع دینے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تو حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاان سےکچھ دریافت کرنےلگیں یہاں تک کہ کافی دیر ہو گئی اور صبح خوب روشن ہوگئی پھر حضرت بلال کھڑے ہوئے اور حضور کو نماز کی اطلاع دی پھر دوبارہ پھر اطلاع دی لیکن حضورِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمباہر تشریف نہ لائے ،پھر کچھ دیر بعدتشریف لائے اور صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو نماز پڑھائی۔حضرت بلالرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنےعرض کی: آقا! حضرت عائشہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَکچھ دریافت کررہیں تھیں اس لئے اطلاع کرنے میں تاخیر ہوئی یہاں تک صبح خوب روشن ہوئی اور آپ بھی دیر سے باہر تشریف لائے۔ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےفرمایا:”میں فجر کی دو سنتیں پڑھ رہا تھا“ حضرت بلالرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی: ”یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!صبح تو خوب روشن ہو گئی تھی ،رسولِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”اگر صبح اس سے بھی زیادہ روشن ہوجاتی تب بھی میں یہ دو رکعتیں ضرور پڑھتا اور نہایت اچھے و عمدہ طریقے سے پڑھتا۔“

شرح حدیث

فجر کی سنتوں کی اہمیت:حدیثِ پاک میں فرمایا:”اگر صبح اس سے بھی زیادہ روشن ہوجاتی تب بھی میں فجر کی سنتیں ضرور پڑھتا۔“عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْغَنِیفرماتے ہیں:’’یہ فرمانِ عالی اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ فجرکی سنتیں نہیں چھوڑی جائیں گی کیونکہ یہ سُنَّتِ مُؤکَّدہ ہیں۔“فجر کا مستحب وقت:حدیثِ پاک میں ہے:”فجر کی نماز اُجالے میں پڑھو کہ اس میں بہت عظیم ثواب ہے“صَدْرُ الشَّرِیْعَہ، بَدرُالطَّرِیْقَہ، حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:” فجر میں تاخیر مستحب ہے،یعنی اِسفار میں (جب خوب اُجالا ہو تو) شروع کرے مگر ایسا وقت ہونا مستحب ہے کہ چالیس سے ساٹھ آیت تک ترتیل کے ساتھ (ٹھہر ٹھہر کر)پڑھ سکے پھر سلام پھیرنے کے بعد اتنا وقت باقی رہے کہ اگر نماز میں فساد ظاہر ہو تو طہارت کرکے ترتیل کیساتھ چالیس سے ساٹھ آیت تک دوبارہ پڑھ سکے اور اتنی تاخیر مکروہ ہے کہ طلوعِ آفتاب کا شک ہو جائے۔“
میں پانچوں نمازیں پڑھوں باجماعت ……… ہو توفیق ایسی عطا یاالٰہی
میں پڑھتا رہوں سنتیں وقت ہی پر ……… ہوں سارے نوافل ادا یاالٰہی
دے شوقِ تلاوت دے ذوقِ عبادت ……… رہوں باوضو میں سدا یاالٰہی
عمل کا ہو جذبہ عطا یاالہی ……… گناہوں سے مجھ کو بچا یاالٰہی
مدنی گلدستہ’’سنتِ فجر‘‘کے6حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہاور ان کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) حضورِ اکرم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفجر کی سنتوں کی بہت زیادہ پابندی کرتے ، کبھی سفر و حضر میں ترک نہ فرماتے ۔
(2) اگرکسی نے فجر کی سنتیں نہ پڑھی ہوں اور جماعت ہورہی ہو تو اگر جماعت مل جانے کی امید ہو تو جماعت سے علیٰحدہ سنتیں پڑھے اور پھر جماعت میں شامل ہو جائے۔
(3) فجر کی سنتوں کی مشروعیت کا اگر کوئی شک یا جہالت کی وجہ سے انکار کرے تو اس کے کافر ہونے کا خوف ہے اور اگر بغیر شک کے جان بوجھ کر انکار کرے تو اسے کافر کہا جائے گا۔
(4) فجر کی سنتیں بلا عذر نہ بیٹھ کر ہو سکتی ہیں، نہ سواری پر، نہ چلتی گاڑی پر، ان کا حکم ان باتوں میں بالکل وتر کی طرح ہے۔
(5) سنتِ فجر مال و اولاد اور تمام دنیاوی چیزوں سے پیاری ہونی چاہئیں۔
(6) فجر کی سنتیں تمام سنتوں اور نوافل سے افضل ہیں۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں فجر کی سنتیں پابندی سے پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1103