باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید

فیضان ریاض الصالحین جلد 7

اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:”حضورنبی اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمظہر سے پہلے چار اور فجر سے پہلے کی دو رکعتیں کبھی ترک نہ فرماتے ۔“

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا:اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَدَعُ اَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1100 ، باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید

اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَابیان فرماتی ہیں کہ”حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکسی نفل نماز کا اتنا اہتمام نہ فرماتے جتنا فجر کی سنتوں کا فرماتے۔“

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلٰى شَيْءٍ مِّنَ النَّوَافِلِ اَشَدَّ تَعَاهُدًامِّنْهُ عَلَى رَكْعَتَيِ الفَجْرِ .

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1101 ، باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید

اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاہی سے مَروی ہے کہ حضور نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”فجر کی دو سنتیں دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہیں۔“ ایک اور روایت میں ہے کہ ” فجر کی دو سنتیں مجھے تمام دنیا سے زیادہ محبوب ہیں۔“

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَاعَنِ النَبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:رَكْعَتَا الْفَجْرِ خَيْرٌ مِّنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيْهَا.( )وَفِيْ رِوَايَةٍ: لَهُمَا اَحَبُّ اِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيْعًا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1102 ، باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید

مؤذنِ رسول حضرت سَیِّدُنا ابو عبداﷲبلال بن رَباحرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ وہ نمازِ فجر کی اطلاع دینے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تو حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاان سےکچھ دریافت کرنےلگیں یہاں تک کہ کافی دیر ہو گئی اور صبح خوب روشن ہوگئی پھر حضرت بلال کھڑے ہوئے اور حضور کو نماز کی اطلاع دی پھر دوبارہ پھر اطلاع دی لیکن حضورِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمباہر تشریف نہ لائے ،پھر کچھ دیر بعدتشریف لائے اور صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو نماز پڑھائی۔حضرت بلالرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنےعرض کی: آقا! حضرت عائشہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَکچھ دریافت کررہیں تھیں اس لئے اطلاع کرنے میں تاخیر ہوئی یہاں تک صبح خوب روشن ہوئی اور آپ بھی دیر سے باہر تشریف لائے۔ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےفرمایا:”میں فجر کی دو سنتیں پڑھ رہا تھا“ حضرت بلالرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی: ”یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!صبح تو خوب روشن ہو گئی تھی ،رسولِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”اگر صبح اس سے بھی زیادہ روشن ہوجاتی تب بھی میں یہ دو رکعتیں ضرور پڑھتا اور نہایت اچھے و عمدہ طریقے سے پڑھتا۔“

عَنْ اَبِيْ عَبْدِ اللهِ بِلَالِ بْنِ رَبَاحٍ رَضِيَ الله عَنْهُ مُؤَذِّن رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:اَنَّهُ اَتَى رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُؤْذِنَهُ بِصَلَاةِ الغَدَاةِ فَشَغَلَتْ عَائِشَةُ بِلَالًا بِاَمْرٍ سَاَ لَتْهُ عَنْهُ حَتَّى اَصْبَحَ جِدًّا فَقَامَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ وَتَابَعَ اَذَانَهُ فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا خَرَجَ صَلَّى بِالنَّاسِ فَاَخْبَرَهُ اَنَّ عَائِشَةَ شَغَلَتْهُ بِاَمْرٍ سَاَ لَتْهُ عَنْهُ حَتَّى اَصْبَحَ جِدًّا وَاَنَّهُ اَبْطَاَ عَلَيْهِ بِالْخُرُوْجِ فَقَالَ يَعْنِي النَّبيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنِّيْ کُنْتُ رَكَعْتُ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَقَالَ: یَارَسُولَ اللهِ اِنَّكَ اَصْبَحْتَ جِدًّا فَقَالَ: لَوْ اَصْبَحْتُ اَكْثَرَ مِمَّا اَصْبَحْتُ لَرَكَعْتُهُمَا وَاَحْسَنْتُهُمَا وَاَجْمَلْتُهُمَا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1103 ، باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید