Main Icon

باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1102

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَاعَنِ النَبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:رَكْعَتَا الْفَجْرِ خَيْرٌ مِّنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيْهَا.( )وَفِيْ رِوَايَةٍ: لَهُمَا اَحَبُّ اِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيْعًا.

عن عائشة رضي الله عنهاعن النبي صلى الله عليه وسلم قال:ركعتا الفجر خير من الدنيا وما فيها.( )وفي رواية: لهما احب الي من الدنيا جميعا.

حدیث ترجمہ

اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاہی سے مَروی ہے کہ حضور نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”فجر کی دو سنتیں دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہیں۔“ ایک اور روایت میں ہے کہ ” فجر کی دو سنتیں مجھے تمام دنیا سے زیادہ محبوب ہیں۔“

شرح حدیث

مذکورہ بالا تینوں احادیث کا مضمون تقریبًا ایک ہی ہے اسی لیے تینوں احادیث کی شرح ایک ساتھ بیان کی جاتی ہے ۔سفر وحضر میں فجر کی سنتوں کی پابندی:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمبمقابلہ دوسری سنتوں کے فجر کی سنتوں کی بہت پابندی کرتے تھے کہ سفر و حضر میں نہ چھوڑتے تھے اور اگر فجر قضا پڑھتے تو سنتوں کی بھی قضا کرتے۔اسی لیے فُقہا فرماتے ہیں کہ یہ سنتیں بِلاعذر بیٹھ کر نہ پڑھے، اسی لیے اگر جماعتِ فجر میں کوئی پہنچے اورسنتیں نہ پڑھی ہوں تو اگر جماعت مل جانے کی امید ہو تو جماعت سے علیٰحدہ سنتیں پڑھے،پھر جماعت میں مل جائے۔“جان بوجھ کرفجر کی سنتوں کا انکارکفر ہے:صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدرُالطَّرِیْقَہحضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”سب سنتوں میں قوی تر سنتِ فجر ہے، یہاں تک کہ بعض اس کو واجب کہتے ہیں اور اس کی مشروعیت کا اگر کوئی انکار کرے تو اگر شُبْہۃ ً یا براہِ جہل (یعنی شک یا جہالت کی بنا پر انکار) ہو تو خوفِ کُفر ہے اور اگر دانستہ بلا شبہہ (یعنی جان بوجھ کر بغیر کسی شک کے انکار) ہو تو اس کی تکفیر کی جائے گی و لہٰذا یہ سنتیں بلا عذر نہ بیٹھ کر ہو سکتی ہیں، نہ سواری پر، نہ چلتی گاڑی پر، ان کا حکم ان باتوں میں بالکل مثلِ وتر ہے۔“فجر کی سنتیں ہر چیز سے پیاری :حدیثِ پاک میں بیان ہوا کہ”حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکسی نفل نماز کا اتنا اہتمام نہ فرماتے جتنا فجر کی سنتوں کا فرماتے“یہاں نفل سے مراد سنت ہے یعنی حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکسی بھی سنت کا اتنا اہتمام نہ فرماتے جتنا فجر کی سنتوں کا اہتمام کرتے۔“ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”نفل عام ہے کہ سنت پر بھی اس کا اطلاق آیا ہے اور اس کے غیر کو بھی نفل کہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فقہائے کرامبابُ النوافلمیں سُنَن کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ نفل ان کو بھی شامل ہے۔ “
مذکورہ حدیثِ پاک میں بیان ہوا کہ”فجر کی دوسنتیں دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے بہتر ہیں۔“یعنی سنت فجر مال و اولاد اور تمام دنیاوی سامان سے پیاری ہونا چاہئیں اور(یہ سنت فجر) دیگر سنتوں و مستحبات سے افضل ہیں۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”فجر کی سنتوں کو دنیا اور اس کی تمام چیزوں پر فضیلت کی صورت یوں ہے کہ اگر پوری دنیا اپنے مال و اسباب سمیت راہِ خدا میں خرچ کردی جائے تب بھی فجر کی سنتیں ہی افضل ہوں گی (ان کا ثواب ہی زیادہ ہوگا) ورنہ ویسے دنیاوی چیزوں اور فجر کی سنتوں میں کیامقابلہ دنیا میں اچھائی ہی کب ہے کہ انہیں سنتوں سے مقابلےکی کوئی نسبت ہو۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1102