Main Icon

باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 927

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى ابْنِهِ اِبْرَاهيمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَجُوْدُ بِنَفسِهِ فَجَعَلَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَذْرِفَان فَقَالَ لَهُ عبدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ: وَاَنْتَ يَارَسُوْلَ الله!فَقَالَ:يَا ابْنَ عَوْفٍ! اِنَّهَا رَحْمَةٌ ثُمَّ اَتْبَعَهَا بِاُخْرٰى فَقَالَ:اِنَّ العَيْنَ تَدْمَعُ وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ وَلَا نَقُوْلُ اِلَّامَا يَرْضَي رَبُّنَا وَاِنَّا بِفِرَاقِكَ يَااِبرَاهِيمُ! لَمَحْزُوْنُوْنَ.

عن انس رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل على ابنه ابراهيم رضي الله عنه وهو يجود بنفسه فجعلت عينا رسول الله صلى الله عليه وسلم تذرفان فقال له عبد الرحمن بن عوف: وانت يارسول الله!فقال:يا ابن عوف! انها رحمة ثم اتبعها باخرى فقال:ان العين تدمع والقلب يحزن ولا نقول الاما يرضي ربنا وانا بفراقك ياابراهيم! لمحزونون.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنااَنَسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےرِوایت ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے لختِ جگر،نُورِنظر حضرت سَیِّدُنا اِبراہیمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس تشریف لائے۔حضرت سَیِّدُنَا اِبراہیمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُاس وقت جان کنی کی حالت میں تھے،ان کی حالت دیکھ کررسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مُبارَک آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔حضرت سَیِّدُنا عبد الرّحمٰن بن عَوفرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے عَرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ بھی رو رہے ہیں۔آ پ نے فرمایا:اے اِبنِ عَوف!یہ آنسو کا بہنا رحمت کے سبب ہے۔اس کے بعد پھر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مُبارَک آنکھیں آنسو بہانے لگیں۔آپ نے فرمایا:آنکھ رو رہی ہے،دل غم زَدہ ہےمگر اس کے باوُجود ہم اپنی زبان سے وہی اَلفاظ ادا کریں گے جو ہمارے ربّ کو راضی کردیں اور اے اِبراہیم!ہم تمہارے فِراق میں غمگین ہیں۔

شرح حدیث

علّامہ سیِّدمحموداحمدرَضَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حضرت عبد الرحمٰن بن عَوف (رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ)جوآ پ سے صبر کی فضیلت و ترغیب اور بے صبری کی ممانعت سُن چکے تھے۔حُضُور(صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر متعجب ہو کر عَرض کرنے لگے:حُضُور آپ بھی گِریہ وزاری فرماتے ہیں؟ حُضُور (صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)نے جواب دیا:میرا گِریہ بے صبری اور ناشکری کا نہیں ہے بلکہ یہ تو رحمت ہے۔ہر باپ کو اپنے بیٹے سے فطری طور پر مَحبّت ہوتی ہے تو اگر جدائی کے وقت دِل بھر آئے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوجائیں تو یہ رحمت ہیں۔اس پر کوئی مُواخَذہ نہیں ہوگا۔مصیبت پر غم کا اِظہارسنّت ہے:فقیہِ اعظم،حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: کسی کی مصیبت پر آنسو بہانا اور ایسے کَلِمات کہنا جن سے اَندرونی غم ظاہِر ہو اور وہ ناشائِستہ نہ ہوں سنّت ہے۔مرآۃ المناجیح میں ہے: مَیِّت پر صِرْف آنسوں سے رونابھی جائز ہے اور صبرشُکر کے اَلفاظ کہنا بھی اور مَیِّت کو مُخاطَب کرکے کلام کرنا بھی جائز کہ بچّہ زندگی میں اگرچہ کچھ نہ سمجھتا ہو مگر بعدِ وفات سمجھنے بلکہ بولنے لگتا ہے۔عزیزکی وفات پر غمزَدہ کے لیے تسلی:حُجَّۃُ الْاِسلامحضرتِ سَیِّدُنا امام ابو حامد محمد بن محمد بن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیفرماتے ہیں:”جس شخص کا بچّہ یا کوئی قَریبی فوت ہوجائے تو وہ یہ خیال کرے کہ ہم دونوں اپنے شہر کی جانِب سفر کررہے تھے لیکن میرا بچّہ مجھ سے پہلے اپنے ٹِھکانے اور وطن پہنچ گیا ہے اور سفر کرتے ہوئے بچّے کا جلدی پہنچ جانا زِیادہ رنج وغم کا باعِث بھی نہیں بنتا کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ عنقریب میں بھی اس سے جا مِلوں گا ، فَرق صِرْف اتنا ہے کہ اس نے سفر جلدی طَے کر لیا اور میں نےتاخیر سے۔موت کا مُعامَلہ بھی ویسا ہی ہے کیونکہ موت کا معنیٰ ہےوطن کی طرف جلدی پہنچنا یہاں تک کہ بعد والا بھی آملے تو جب وہ اس طرح سوچے گا اور بالخُصوص اَولاد کی موت پر ملنے والے ثواب پر غور کرے گا کہ جس سے ہرمصیبت زَدہ کوتسلی ہوتی ہے تو اس کی پریشانی کم ہوجائے گی۔“میت پر چِلَّاکر رونے اور نوحہ کرنے کی تین وعیدیں:(1)دو آوازوں پر دُنیا و آخِرَت میں لعنت ہے:* خُوشی کے وقْت باجے کی آواز اور* مصیبت کے وقْت چِلّانے کی آواز۔(2)چِلاّکررونے والی جب اپنی موت سے قبل توبہ نہ کرے توقِیامت کے دن کھڑی کی جائے گی یُوں کہ اس کے بدن پرگَنْدَھک کاکُرتاہوگا اور کھجلی کادوپٹّہ۔اور ایک روایت میں ہے:اللّٰہ عَزَّوَجَلَّاسے گَنْدَھک کے کپڑے پہنائے گا اور اوپر سے دوزخ کی لپٹ کادوپٹّہ اُڑھائے گا۔(3)نَوحہ کرنے والیوں کی بَروزِ قِیامت جہنَّم میں دوصَفیں بنائی جائیں گی،ان کی ایک صف دوزخیوں کے دائیں طرف اور ایک بائیں طرف ہو گی۔وہاں جہنَّمیوں کو دیکھ کر ایسے بھونکیں گی جیسے کتے بھونکتے ہیں۔مدنی گلدستہ’’نعمت‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) ہر باپ کو اپنے بیٹے سے فطری مَحبّت ہوتی ہے تو اگر بیٹے کی موت کے وقْت دِل بھر آئے اور آنکھ سے آنسو بہنے لگیں تو اس میں حَرَج نہیں بلکہ یہ تودِل میں رحْم پیدا ہونے کی وجہ سےہوتا ہے۔
(2) مصیبت پرآنسو بہانا اور ایسے کَلِمات کہنا جن سے اَندرونی غم ظاہِر ہوجبکہ وہ ناشائِستہ نہ ہوں سنّت ہے۔
(3) مَیِّت کو مُخاطَب کرکے کلام کرناجائز ہے۔اگر مَیِّت بچّہ ہو تو اگرچہ وہ اپنی زندگی میں کچھ نہ سمجھتا ہو لیکن مَرنے کے بعد اس کے اَندر بھی سمجھ آجاتی ہے۔
(4) جس کا بچّہ یا کوئی قَریبی فوت ہوجائے تو وہ یہ خیال کرکے خود کو تسلی دے کہ ہم دونوں اپنے شہر کی جانِب سفر کررہے تھے لیکن میرا بچّہ یاعزیز مجھ سے پہلے اپنے ٹِھکانے اور وطن پہنچ گیا ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دُعا ہے کہ ہمیں اپنے عزیز کی وفات پرصبر عطا فرمائے اورخواہ مخواہ کا ہَنگامہ مَچانے کے بَجائے تقدیر پر راضی رہنے والے کَلِمات کہنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 927