Main Icon

باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 926

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُفِعَ اِلَيْهِ ابْنُ ابْنَتِهِ وَهُوَ فِي الْمَوتِ فَفَاضَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ:مَا هٰذَا؟يَا رَسولَ اللهِ!قَالَ:هٰذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللهُ تَعَالٰى فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ وَاِنَّمَا يَرْحَمُ اللهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ.

عن اسامة بن زيد رضي الله عنهما:ان رسول الله صلى الله عليه وسلم رفع اليه ابن ابنته وهو في الموت ففاضت عينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له سعد:ما هذا؟يا رسول الله!قال:هذه رحمة جعلها الله تعالى في قلوب عباده وانما يرحم الله من عباده الرحماء.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا اُسَامَہ بن زَیدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے رِوایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےنَواسےکو جو دم توڑ رہا تھا،اٹھاکر آپ کی خدمت میں پیش کیا گیاتو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مُبارَک آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔حضرت سَیِّدُنَا سَعْدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے عَرْض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!یہ آنسو کیسے؟آپ نے فرمایا:یہ آنسوؤں کا بہنا رَحمت کے سبب ہے جسےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّاپنے بندوں کے دل میں ڈال دیتا ہے اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّاپنے رحم دل بندوں پر رحم فرماتا ہے۔

شرح حدیث

چھوٹے بچوں کی بیمار پُرسی بھی سنّت ہے:فقیہِ اعظم، حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: بچّے کا یہ حال دیکھ کررسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکو اَزراہِ شَفْقَت یارائے ضَبط نہ رہا اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اس پر حضرت سَعْد بن عُبادہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو تعجب ہوا اس لئے کہ وہ حضور اَقدَسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکے صبر و ضبط کو بارہا مُلاحظہ فرما چکے تھے۔غَزوَۂ اُحُد کی اس قِیامت خیز گھڑی میں زخمی ہونے کے باوُجودزبان سے اُف تک نہ نکلی۔غَزوَۂ خَندَق کی اس شدّت میں جسے قرآنِ مجید نے ان اَلفاظ میں بَیان فرمایا ہےکہ دِل حُلْقُوم تک آگئےتھےپہاڑ سے بھی زِیادہ اِستقامت تھی اور آج بچّے کا یہ حال مُلاحَظہ فرما کر رو رہے ہیں یا تعجب اس پر ہوا کہ مَیِّت پر رونے سے مَنْع فرمایا ہے پھر یہ آنسو کیوں بہہ رہے ہیں؟جواب کا حاصل یہ ہے کہ یہ شَفْقَت کا مُقْتَضٰی(تقاضا)ہے جو اِختیاری نہیں فطری ہے اور یہ ممنوع نہیں بلکہ محمود ہے اس لیے کہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّاپنے انہیں بندوں پر مِہْربانی فرماتا ہے جو خود دوسروں پر مِہْربان ہوتے ہیں۔اس حدیث سے ثابت ہوا کہ بیمار پُرسی واجب نہیں ہےسنّت ہے نیز یہ کہ مَیِّت کی تجہیز وتکفین واجبِ عَیْن نہیں کِفایہ ہے۔چھوٹے بچّوں کی بیمار پُرسی بھی مَسْنُون ہے۔(مزید فرماتے ہیں:) کسی مَیِّت پر رونے میں حَرَج نہیں جبکہ بَطورِ جَزع فَزع اور چیخ چِلّا کر نہ ہو بلکہ محمود ہے۔آنسو بہہ جانے سے دل کی گرمی نکل جاتی ہے:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: اَطِبّاء کہتے ہیں کہ مَیِّت پر بالکل نہ رونے سے سخت بیماری پیدا ہوجاتی ہے،آنسو بہنے سے دِل کی گرمی نکل جاتی ہے اس لیے اس رونے سے ہرگز مَنْع نہ کیا جائے اور ایسے موقع پر رونا نہ آنا سختیٔ دِل کی علامت ہے جسے بندوں پر رحم نہیں آتا خدا اس پر رحم نہیں کرتا۔مدنی گلدستہ’’رحمت‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) مَیِّت پر آہستہ آواز سے رونا
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت ہے جسے وہ اپنے بندوں کے دِلوں میں ڈال دیتا ہے۔
(2) مخلوقِ الٰہی پر رحمت و شَفْقَت
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت کا سبب بنتی ہے۔
(3)
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّاپنے اُن بندوں پر مِہْربانی فرماتا ہے جو خود دوسروں پر مہربان ہوتے ہیں۔
(4) آہستہ آواز میں رونے سے کسی کو نہ روکاجائے کہ ایسے موقع پر نہ رونا دل کی سختی کی علامت ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دُعا ہے کہ وہ ہمارے دِل میں نرمی اور رحم ڈال دے اورہمیں دِل کی سختی سے بچائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 926