- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 6
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
فیضان ریاض الصالحین جلد 6
حضرت سَیِّدُناعبدُاللّٰہبن عُمَررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے رِوایت ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحضرت سَیِّدُنا سَعْد بن عُبَادَہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی عِیادت کے لیے تشریف لائے۔آپ کے ساتھ حضرت سَیِّدُنا عبد الرحمٰن بن عَوف،حضرت سَیِّدُناسَعْد بن اَبِی وقّاص،حضرت سَیِّدُناعبدُاللّٰہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمْبھی تھے۔ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی چَشْمانِ اَقدَس سے آنسو جاری ہوگئے۔یہ دیکھ کر لوگ بھی رونا شروع ہوگئے۔آپ نے اِرشاد فرمایا:”سُنو!اللّٰہ عَزَّوَجَلَّآنکھ کے آنسو اور دِل کے غم کے سبب عذاب نہیں دیتا ۔“اور زبان کی طرف اِشارہ کر کے فرمایا:”لیکن اس کے سبب عذاب یا رحم فرماتا ہے ۔“
عَنِ ابْنِِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ وَمَعَهُ عَبدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوفٍ وَسَعْدُ بْنُ اَبِی وَقَّاصٍ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَبَكٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَاَى الْقَوْمُ بُكَاءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكَوْا فَقَالَ:اَلَا تَسْمَعُونَ اِنَّ اللهَ لَا يُعَذِّبُ بِدَمْعِ العَينِ وَلَا بِحُزنِ القَلْبِ وَلٰكِنْ يُعَذِّبُ بِهٰذَا اَوْ يَرْحَمُ وَاَشَارَ اِلٰى لِسَانِهِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 925 ، باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
حضرت سَیِّدُنا اُسَامَہ بن زَیدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے رِوایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےنَواسےکو جو دم توڑ رہا تھا،اٹھاکر آپ کی خدمت میں پیش کیا گیاتو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مُبارَک آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔حضرت سَیِّدُنَا سَعْدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے عَرْض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!یہ آنسو کیسے؟آپ نے فرمایا:یہ آنسوؤں کا بہنا رَحمت کے سبب ہے جسےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّاپنے بندوں کے دل میں ڈال دیتا ہے اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّاپنے رحم دل بندوں پر رحم فرماتا ہے۔
عَنْ اُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُفِعَ اِلَيْهِ ابْنُ ابْنَتِهِ وَهُوَ فِي الْمَوتِ فَفَاضَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ:مَا هٰذَا؟يَا رَسولَ اللهِ!قَالَ:هٰذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللهُ تَعَالٰى فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ وَاِنَّمَا يَرْحَمُ اللهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 926 ، باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
حضرت سَیِّدُنااَنَسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےرِوایت ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے لختِ جگر،نُورِنظر حضرت سَیِّدُنا اِبراہیمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس تشریف لائے۔حضرت سَیِّدُنَا اِبراہیمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُاس وقت جان کنی کی حالت میں تھے،ان کی حالت دیکھ کررسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مُبارَک آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔حضرت سَیِّدُنا عبد الرّحمٰن بن عَوفرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے عَرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ بھی رو رہے ہیں۔آ پ نے فرمایا:اے اِبنِ عَوف!یہ آنسو کا بہنا رحمت کے سبب ہے۔اس کے بعد پھر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مُبارَک آنکھیں آنسو بہانے لگیں۔آپ نے فرمایا:آنکھ رو رہی ہے،دل غم زَدہ ہےمگر اس کے باوُجود ہم اپنی زبان سے وہی اَلفاظ ادا کریں گے جو ہمارے ربّ کو راضی کردیں اور اے اِبراہیم!ہم تمہارے فِراق میں غمگین ہیں۔
عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى ابْنِهِ اِبْرَاهيمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَجُوْدُ بِنَفسِهِ فَجَعَلَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَذْرِفَان فَقَالَ لَهُ عبدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ: وَاَنْتَ يَارَسُوْلَ الله!فَقَالَ:يَا ابْنَ عَوْفٍ! اِنَّهَا رَحْمَةٌ ثُمَّ اَتْبَعَهَا بِاُخْرٰى فَقَالَ:اِنَّ العَيْنَ تَدْمَعُ وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ وَلَا نَقُوْلُ اِلَّامَا يَرْضَي رَبُّنَا وَاِنَّا بِفِرَاقِكَ يَااِبرَاهِيمُ! لَمَحْزُوْنُوْنَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 927 ، باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز