Main Icon

باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 877

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:اَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم فَدَقَـقْتُ الْبَابَ فَقَالَ:مَنْ ذَا؟ فَقُلْتُ اَنَا،فَقَالَ: اَنَا اَنَا؟ كَاَنَّهُ كَرِهَهَا.

عن جابر رضي الله عنه قال:اتيت النبي صلى الله عليه وسلم فدقـقت الباب فقال:من ذا؟ فقلت انا،فقال: انا انا؟ كانه كرهها.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناجابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: میں نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمتِ اَقدس میں حاضر ہوا اور دروازہ کھٹکھٹایا ،توآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پوچھا کون؟میں نےعرض کیا :میں ہوں،آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:میں میں (کیا ہوتاہے) گویا کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میرایہ جواب نا پسند فرمایا۔

شرح حدیث

لفظ ’’میں‘‘ کو نا پسند کرنے کی وجہ :عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذِی الْجَلَالفرماتے ہیں:”حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَا جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے”میں ہوں“کہنے کو نا پسند فرمایا ،کیونکہ اس طرح صرف اسے ہی پہچان ہوسکتی ہے جو آواز کوپہچانتا ہو، جو آواز نہیں پہچانتااسے معلوم نہ ہوسکےگاکہ آنے والاکون ہے۔بعض نے کہا: چونکہ حضرت سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے سلام کئے بغیراجازت طلب کی تھی اس لئے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کے جواب کو نا پسند فرمایا۔“عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:”چونکہ حضرت سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکا جواب نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےسوال کے مطابق نہیں تھا، انہوں نے”میں جابر ہوں“ کہنے کے بجائے صرف ”میں ہوں“ کہا اس لئے ان کے جواب کو پسند نہ فرمایا۔“مدنی گلدستہ’’اُمِّ ہانی ‘‘کے6حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) جب کوئی دروازے پر دستک دے تو اہلِ خانہ کو چاہیے کہ وہ پوچھیں:” کون ہے؟“
(2) جب پوچھا جائےکہ کون ہے؟ تو جواب میں ’’میں ہوں،دروازہ کھولو ‘‘وغیرہ کےبجائے اپنا معروف نام یا کنیت بتانی چاہیے تاکہ صاحبِ خانہ کو معلوم ہو جائے کہ آنے والا کون ہے۔
(3) جب نام پوچھا جائے تو جواب میں ’’میں ہوں‘‘کہنا ناپسندیدہ ہے۔
(4) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی یہ کوشش ہوتی تھی کہ وہ اپنے پیارے آقا ،مدینے والے مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی صحبتِ با برکت میں رہیں،آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے شب وروز کے حالات سے واقف رہیں تاکہ سنت کے مطابق زندگی بسر ہو۔
(5) مسلمانوں کو تشویش سے بچانا چاہیے اور کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جس سے خواہ مخواہ مسلمانوں کو پریشانی ہو۔
(6) جب کوئی سوال کرے تو جواب ہمیشہ سوال کے مطابق دینا چاہئے تاکہ سوال کا مطلوب حاصل ہو۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں گھر میں آنے جانے کے آداب پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 877