Main Icon

باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 931

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اُمِّ عَطْيَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ: نُہِیْنَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَلَمْ يُعْزَ مْ عَلَيْنَا.

عن ام عطية رضی اللہ عنہا قالت: نہینا عن اتباع الجنائز ولم يعز م علينا.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ عَطیہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں: ”ہمیں جنازہ کے ساتھ جانے سے منع کیا گیا ہے لیکن ہم پرسختی نہیں کی گئی۔“

شرح حدیث

عورت کی موجودگی میں جنازہ نہ پڑھایا:مذکورہ حدیثِ پاک میں عورتوں کے جنازہ کے ساتھ جانے کی ممانعت کو بیان کیا گیا ہے۔ امام ثوریرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ عورتوں کا جنازہ کے ساتھ جانا بدعت ہے۔ حضرت سَیِّدُنا امام اعظم ابو حنیفہرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ عورتوں کو جنازہ کے ساتھ نہ جانا چاہیے۔ علامہ حازمیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ عورتوں کے لیے جنازہ کے ساتھ جانے میں کوئی رخصت نہیں۔حضرت سَیِّدُنا یزید بن حبیبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامایک شخص کے جنازہ میں تشریف لائے جب میت کو نماز جنازہ کے لیے رکھا گیا تو حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی نظر ایک عورت پر پڑی تو آپ نے اس کے بارے میں پوچھا۔ عرض کی گئی کہ یہ میت کی بہن ہے۔آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اُس عورت سے فرمایا: واپس ہوجاؤ اور جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہوگئی حضور نے نماز نہیں پڑھائی اور آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ایک دوسری عورت سے فرمایا: ”لوٹ جاؤ ورنہ میں لوٹ جاؤں گا۔“عورتوں کامیت کے گھروالوں سے تعزیت کرنا:علامہ داؤدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حضرت سَیِّدَتُنَا اُمِّ عطیہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاکا یہ ارشاد کہ ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے منع کیا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اس بات سے روکا گیا ہےکہ ہم میت کے ساتھ قبروں تک جائیں اور حضرت اُمِّ عطیہ کا یہ کہنا کہ ہم پر سختی نہیں کی گئی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم پر اس بات میں سختی نہیں کی گئی کہ ہم میت کے گھروالوں کے پاس جاکر ان سے تعزیت نہ کریں اور ان کے مُردے کے لیے دعائے رحمت نہ کریں، ہمیں صرف اس سے روکا گیا ہے کہ ہم جنازہ کے ساتھ نہ جائیں۔عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَنِیفرماتے ہیں کہ علامہ داؤدی نے جو بیان کیا حاکم کی روایت اُس کی تائید کرتی ہے۔“صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدرُالطَّرِیْقَہحضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”عورتوں کو جنازہ کے ساتھ جانا ناجائز و ممنوع ہے اور نوحہ کرنے والی ساتھ ميں ہو تو اُسے سختی سے منع کیا جائے، اگر نہ مانے تو اس کی وجہ سے جنازہ کے ساتھ جانا نہ چھوڑا جائے کہ اس کے ناجائز فعل سے يہ کیوں سُنت ترک کرے، بلکہ دل سے اُسے بُرا جانے اور شریک ہو۔“مدنی گلدستہ’’بقیع‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) عورتوں کا جنازے کے ساتھ جانا ناجائز و ممنوع ہے۔
(2) حضور
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی موجودگی میں ایک عورت اپنے بھائی کے جنازے میں آئی تو حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اُسے واپس لوٹنے کا حکم ارشاد فرمایا اور جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہوگئی آپعَلَیْہِ السَّلَامنے نماز جنازہ نہ پڑھائی۔
(3) عورتوں کے لیے میت کے گھر جاکر اہلِ میت سے تعزیت کرنا اور میت کے لیے دعا کرنا جائز ہے۔
(4) کسی اور کے ناجائز فعل کی وجہ سے جنازے کے ساتھ جانے کی سنت کو ترک نہیں کیا جائے گا۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہےکہ وہ ہماری اسلامی بہنوں کو جنازہ کے ساتھ جانے اورہر غیر شرعی کام سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 931