Main Icon

باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 930

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ہُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَنِ اتَّبَعَ جَنَازَةَ مُسْلِـمٍ اِيْمَانًا وَاِحْتِسَابًا وَكَانَ مَعَهُ حَتّٰى يُصَلّٰى عَلَيْهَا وَيُفْرَغَ مِنْ دَفْنِهَا فَاِنَّهُ يَرْجِعُ مِنَ الْاَجْرِ بِقِيْرَاطَيْنِ كُلُّ قِيْرَاطٍ مِثْلُ اُحُدٍ وَمَنْ صَلّٰى عَلَيْهَا ثُمَّ رَجَعَ قَبْلَ اَنْ تُدْفَنَ فَاِنَّهُ يَرْجِعُ بِقِيْرَاطٍ.

عن ابی ہريرة رضی اللہ عنہ ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:من اتبع جنازة مسلـم ايمانا واحتسابا وكان معه حتى يصلى عليها ويفرغ من دفنها فانه يرجع من الاجر بقيراطين كل قيراط مثل احد ومن صلى عليها ثم رجع قبل ان تدفن فانه يرجع بقيراط.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازہ کے ساتھ جائے اور اس کے ساتھ ہی رہے یہاں تک کہ اس کی نماز جنازہ پڑھ لے اور اس کی تدفین سے فارغ ہو جائے تو وہ دو قیراط ثواب کے ساتھ واپس لوٹے گا۔ہر قیراط اُحد پہاڑ کے برابر ہوگا اور جو صرف نماز جنازہ پڑھ کر میت کی تدفین سے پہلے واپس آگیا تو وہ ایک قیراط ثواب کے ساتھ لوٹے گا۔“

شرح حدیث

نیک اَعمال کا ثواب ملنےکی دو شرطیں:مذکورہ بالا دونوں حدیثوں کا مضمون تقریبًا ایک ہے اس لیے ان دونوں کی شرح ایک ساتھ بیان کی جارہی ہے۔ دوسری حدیث پاک میں دو باتوں کی صراحت ہے:پہلی یہ کہ جنازہ مسلمان کا ہو اوردوسری یہ کہ شرکت کرنے والا بھی مسلمان ہو اور ثواب کی نیت سے جنازہ میں شریک ہو تو پھر اُسے مذکورہ فضیلت حاصل ہوگی۔ جنازہ میں شریک ہونے والے کے لیے مسلمان ہونے اور ثواب کی نیت کی جو دو قیدیں بیان کی گئی ہیں، ان دو قیدوں سے دو فائدے حاصل ہوئے:ایک یہ کہ کافر کا میت کے ساتھ جانا ثواب کاباعث نہیں کیونکہ اعمال کا ثواب ایمان سے ملتا ہے۔دوسرے یہ کہ ریا کاری، قومی نظریئے، کسی مالدارکو خوش کرنے کے لیے ساتھ جانے پربھی کوئی ثواب نہیں جیساکہ آج عمومًا دیکھاجارہا ہے کہ غریب کے جنازے پر اُٹھانے والے بھی مشکل سے جمع ہوتے ہیں اور امیر کے جنازے پر اکثر خوشامدیوں کا ہجوم ہوتا ہے جو بغیر نماز جانے ہوئے بھی بے وضو ہی ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔
مذکورہ حدیث پاک میں بیان کیا گیا کہ جو شخص صرف نماز جنازہ میں شرکت کرے گا اُسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو نماز جنازہ کے ساتھ تدفین میں بھی شریک ہوگا اُسے دو قیراط کے برابر ثواب دیا جائے گا۔ مرآۃ المناجیح میں ہے:”عمومًا دینار کے بیسویں حصے کو قیراط کہا جاتا ہے مگر شام والے چالیسویں حصے کو، بعض اور علاقوں میں دینار کے چھٹے حصے کو قیراط کہتے ہیں۔ یہاں تجریدًا (دینار کے علاوہ)صرف حصہ مراد ہے نہ کہ دینار کا حصہ جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے یعنی صرف نماز جنازہ میں شرکت کرنے والا آدھا ثواب پاتاہے اور دفن میں بھی شرکت کرنے والا دُگنا۔“
علامہ سید محموداحمدرضوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”حدیثِ ہٰذا میں قیراط سے جو مراد ہے وہ خود زبانِ نبوت نے بیان فرمادیا یعنی اُحد پہاڑ کے برابر ثواب، یہ محض ثواب کی زیادتی کی تمثیل ہے۔ اُحد، یہ مدینہ کے پہلو میں دو میل شمال کی طرف ایک پہاڑ ہے۔ جنازہ کے ساتھ شریک ہونا اور دفن تک وہاں رہنا اور نماز پڑھنا بڑے ثواب کا مُوجب (باعث)ہے، دو قیراط ثواب اُحد پہاڑ کے برابر ملتا ہے۔ حدیثِ ہٰذا میں یہ ثواب اس شخص کے لیے بیان ہوا ہے جو جنازہ کے ساتھ چلے، دفن تک وہاں رہے اور نماز بھی پڑھے اور اگر صرف نماز جنازہ کے ساتھ شرکت کرے تو ایک قیراط کا ثواب ہے۔“ولی سے اجازت لیے بغیر واپس نہ ہو:فقیہِ اعظم، حضرت علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”اس حدیث سے ثابت ہوا کہ افضل یہی ہے کہ جنازے کے پیچھے پیچھے چلے، اس لیے اس میںاِتَّبَعَکا لفظ وارد ہے،اِتَّبَعَکے معنی پیچھے پیچھے چلنے کے، یہی احناف کا مذہب ہے۔امام شافعی(رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ) کے نزدیک آگے آگے چلنا بہتر ہے۔نیز یہ ثابت ہوا کہ صرف نماز جنازہ ہی پڑھ کر دفن میں شرکت کیے بغیر نہ آئے اور اگر کسی ضرورت سے واپس ہونے کی جلدی ہو تو ولی سے اجازت لے کر واپس ہو۔“ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: ”امام مالک (رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ) نے فرمایا کہ اجازت لیے بغیر واپس ہونا پسندیدہ بات نہیں مگر یہ کہ دفن میں دیر ہو، ہمارا مذہب بھی یہی ہے کہ بغیر اجازت واپس نہ ہو، اس لیے کہ جس طرح نمازجنازہ میت کا حق ہے اسی طرح دفن بھی حق ہے اور یہ اس سے اہم اور بہ نسبت اس کے کچھ محنت کا طالب ہے۔ اگر سب چھوڑ کر چلے جائیں تو دفن کون کرے گا۔“دو قیراط ثواب کب ملے گا؟عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَنِیفرماتے ہیں:”دو قیراط کے برابر ثواب حاصل کرنے کے لیے تین شرائط پر عمل کرنا ضروری ہے: (1) جنازہ کے ساتھ چلنا۔ (2) نماز جنازہ پڑھنا۔ (3) تدفین کے وقت موجود ہونا۔ اگر کوئی شخص جنازہ کے ساتھ چلا اور تدفین میں شریک ہوا لیکن نماز جنازہ نہیں پڑھی تو اُسے دو قیراط کا ثواب نہیں ملے گا۔ صرف نماز جنازہ پڑھنے سے ایک قیراط اجر ملتا ہے اور اگر اس کے بعد جنازہ کے ساتھ بھی جائے اور دفن کرنے تک حاضر رہے تو اُسے دوسرا قیراط بھی دیا جاتا ہے۔صحیح قول کے مطابق دفن کرنے سے مراد یہ ہے کہ قبر مکمل طورپر برابر اور ٹھیک ہوجائے۔ اس مقام پر ایک بات نہایت قابلِ توجہ ہے کہ دوسرا قیراط جو دفن کے وقت موجود ہونے سے ملتا ہے وہ جنازہ کے ساتھ چلنے اور پورے راستے جنازہ کے ساتھ رہنے پر موقوف ہے تو اگر کسی نے نماز جنازہ ادا کی اور پھر اکیلے ہی قبر پر چلا گیا اور وہاں انتظار کرتا رہا یہاں تک کہ جنازہ آگیا اور وہ تدفین میں شریک ہوا تو اُسے دوسرا قیراط نہیں ملے گا۔ اسی طرح اگر کوئی تدفین کے وقت حاضر رہا لیکن نماز جنازہ نہیں پڑھی یا صرف جنازہ کے ساتھ چلا اور نماز جنازہ نہیں پڑھی توحدیث پاک کے مطابق اُسے کوئی قیراط نہیں ملے گا لیکن اسے ثواب ضرور ملے گا اگرچہ قیراط جتنا نہیں۔“مدنی گلدستہجنت کے آٹھ دروازوں کی نسبت سے اَحادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے8 مدنی پھول
(1) نمازِجنازہ پڑھنے والے کو ایک قیراط کے برابر ثواب ملتا ہے اور جو جنازہ کے ساتھ بھی جائے اور تدفین کے وقت بھی موجود ہو اُسے دو قیراط کے برابر ثواب ملتا ہے۔
(2) حدیثِ پاک میں قیراط سے مراد اُحد پہاڑ ہے یعنی اُس شخص کے لیے اُحُد پہاڑ کے برابر ثواب ہے۔
(3) حدیثِ پاک میں بیان کردہ فضیلت اُس مسلمان کو حاصل ہوگی جو بہ نیتِ ثواب جنازہ میں شریک ہو۔
(4) کافر کا میت کے ساتھ جانا قابلِ ثواب نہیں کیونکہ اَعمال کے ثواب کے لیے ایمان شرط ہے، اِسی طرح ریاکاری یا کسی اور غرض سے جنازہ میں شریک ہونے والے کو بھی ثواب نہیں ملے گا۔
(5) اَحناف کے نزدیک جنازہ کے پیچھے پیچھے چلنا افضل ہے کیونکہ حدیث پاک میں
اِتَّبَعَکا لفظ آیا ہے جس کا معنی ہے پیچھے چلنا۔
(6) نمازِ جنازہ میں شریک ہونے والے کو چاہیے کہ تدفین میں بھی شرکت کرے اگر کسی وجہ سے واپس جانا چاہے تو میت کے ولی سے اجازت لیے بغیر واپس نہ ہو بلکہ اُس سے اجازت لے کر لَوٹے۔
(7) جو شخص نمازِجنازہ پڑھنے کے بعد اکیلا ہی قبر پر آجائے اور وہاں انتظار کرے اور پھر جب جنازہ آجائے تو تدفین کے وقت موجود ہو تو ایسے شخص کو صِرف ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا ۔
(8) اگر کوئی شخص صِرف جنازہ کے ساتھ چلے یا صِرف تدفین کے وقت حاضِر ہو لیکن نمازِ جنازہ نہ پڑھے تو اُسے کسی قیراط کا ثواب نہیں ملے گا بلکہ قیراط سے کم ثواب ملے گا۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں نمازِجنازہ ادا کرنے، جنازہ کے ساتھ چلنے اور تدفین کے وقت حاضر ہوکر دو قیراط جتنا ثواب حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 930