- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 6
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- حدیث نمبر 930
باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 930
جلد 6
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ ہُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَنِ اتَّبَعَ جَنَازَةَ مُسْلِـمٍ اِيْمَانًا وَاِحْتِسَابًا وَكَانَ مَعَهُ حَتّٰى يُصَلّٰى عَلَيْهَا وَيُفْرَغَ مِنْ دَفْنِهَا فَاِنَّهُ يَرْجِعُ مِنَ الْاَجْرِ بِقِيْرَاطَيْنِ كُلُّ قِيْرَاطٍ مِثْلُ اُحُدٍ وَمَنْ صَلّٰى عَلَيْهَا ثُمَّ رَجَعَ قَبْلَ اَنْ تُدْفَنَ فَاِنَّهُ يَرْجِعُ بِقِيْرَاطٍ.
عن ابی ہريرة رضی اللہ عنہ ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:من اتبع جنازة مسلـم ايمانا واحتسابا وكان معه حتى يصلى عليها ويفرغ من دفنها فانه يرجع من الاجر بقيراطين كل قيراط مثل احد ومن صلى عليها ثم رجع قبل ان تدفن فانه يرجع بقيراط.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازہ کے ساتھ جائے اور اس کے ساتھ ہی رہے یہاں تک کہ اس کی نماز جنازہ پڑھ لے اور اس کی تدفین سے فارغ ہو جائے تو وہ دو قیراط ثواب کے ساتھ واپس لوٹے گا۔ہر قیراط اُحد پہاڑ کے برابر ہوگا اور جو صرف نماز جنازہ پڑھ کر میت کی تدفین سے پہلے واپس آگیا تو وہ ایک قیراط ثواب کے ساتھ لوٹے گا۔“
شرح حدیث
نیک اَعمال کا ثواب ملنےکی دو شرطیں:مذکورہ بالا دونوں حدیثوں کا مضمون تقریبًا ایک ہے اس لیے ان دونوں کی شرح ایک ساتھ بیان کی جارہی ہے۔ دوسری حدیث پاک میں دو باتوں کی صراحت ہے:پہلی یہ کہ جنازہ مسلمان کا ہو اوردوسری یہ کہ شرکت کرنے والا بھی مسلمان ہو اور ثواب کی نیت سے جنازہ میں شریک ہو تو پھر اُسے مذکورہ فضیلت حاصل ہوگی۔ جنازہ میں شریک ہونے والے کے لیے مسلمان ہونے اور ثواب کی نیت کی جو دو قیدیں بیان کی گئی ہیں، ان دو قیدوں سے دو فائدے حاصل ہوئے:ایک یہ کہ کافر کا میت کے ساتھ جانا ثواب کاباعث نہیں کیونکہ اعمال کا ثواب ایمان سے ملتا ہے۔دوسرے یہ کہ ریا کاری، قومی نظریئے، کسی مالدارکو خوش کرنے کے لیے ساتھ جانے پربھی کوئی ثواب نہیں جیساکہ آج عمومًا دیکھاجارہا ہے کہ غریب کے جنازے پر اُٹھانے والے بھی مشکل سے جمع ہوتے ہیں اور امیر کے جنازے پر اکثر خوشامدیوں کا ہجوم ہوتا ہے جو بغیر نماز جانے ہوئے بھی بے وضو ہی ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔
مذکورہ حدیث پاک میں بیان کیا گیا کہ جو شخص صرف نماز جنازہ میں شرکت کرے گا اُسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو نماز جنازہ کے ساتھ تدفین میں بھی شریک ہوگا اُسے دو قیراط کے برابر ثواب دیا جائے گا۔ مرآۃ المناجیح میں ہے:”عمومًا دینار کے بیسویں حصے کو قیراط کہا جاتا ہے مگر شام والے چالیسویں حصے کو، بعض اور علاقوں میں دینار کے چھٹے حصے کو قیراط کہتے ہیں۔ یہاں تجریدًا (دینار کے علاوہ)صرف حصہ مراد ہے نہ کہ دینار کا حصہ جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے یعنی صرف نماز جنازہ میں شرکت کرنے والا آدھا ثواب پاتاہے اور دفن میں بھی شرکت کرنے والا دُگنا۔“
علامہ سید محموداحمدرضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”حدیثِ ہٰذا میں قیراط سے جو مراد ہے وہ خود زبانِ نبوت نے بیان فرمادیا یعنی اُحد پہاڑ کے برابر ثواب، یہ محض ثواب کی زیادتی کی تمثیل ہے۔ اُحد، یہ مدینہ کے پہلو میں دو میل شمال کی طرف ایک پہاڑ ہے۔ جنازہ کے ساتھ شریک ہونا اور دفن تک وہاں رہنا اور نماز پڑھنا بڑے ثواب کا مُوجب (باعث)ہے، دو قیراط ثواب اُحد پہاڑ کے برابر ملتا ہے۔ حدیثِ ہٰذا میں یہ ثواب اس شخص کے لیے بیان ہوا ہے جو جنازہ کے ساتھ چلے، دفن تک وہاں رہے اور نماز بھی پڑھے اور اگر صرف نماز جنازہ کے ساتھ شرکت کرے تو ایک قیراط کا ثواب ہے۔“ولی سے اجازت لیے بغیر واپس نہ ہو:فقیہِ اعظم، حضرت علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”اس حدیث سے ثابت ہوا کہ افضل یہی ہے کہ جنازے کے پیچھے پیچھے چلے، اس لیے اس میںاِتَّبَعَکا لفظ وارد ہے،اِتَّبَعَکے معنی پیچھے پیچھے چلنے کے، یہی احناف کا مذہب ہے۔امام شافعی(رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ) کے نزدیک آگے آگے چلنا بہتر ہے۔نیز یہ ثابت ہوا کہ صرف نماز جنازہ ہی پڑھ کر دفن میں شرکت کیے بغیر نہ آئے اور اگر کسی ضرورت سے واپس ہونے کی جلدی ہو تو ولی سے اجازت لے کر واپس ہو۔“ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: ”امام مالک (رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ) نے فرمایا کہ اجازت لیے بغیر واپس ہونا پسندیدہ بات نہیں مگر یہ کہ دفن میں دیر ہو، ہمارا مذہب بھی یہی ہے کہ بغیر اجازت واپس نہ ہو، اس لیے کہ جس طرح نمازجنازہ میت کا حق ہے اسی طرح دفن بھی حق ہے اور یہ اس سے اہم اور بہ نسبت اس کے کچھ محنت کا طالب ہے۔ اگر سب چھوڑ کر چلے جائیں تو دفن کون کرے گا۔“دو قیراط ثواب کب ملے گا؟عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَنِیفرماتے ہیں:”دو قیراط کے برابر ثواب حاصل کرنے کے لیے تین شرائط پر عمل کرنا ضروری ہے: (1) جنازہ کے ساتھ چلنا۔ (2) نماز جنازہ پڑھنا۔ (3) تدفین کے وقت موجود ہونا۔ اگر کوئی شخص جنازہ کے ساتھ چلا اور تدفین میں شریک ہوا لیکن نماز جنازہ نہیں پڑھی تو اُسے دو قیراط کا ثواب نہیں ملے گا۔ صرف نماز جنازہ پڑھنے سے ایک قیراط اجر ملتا ہے اور اگر اس کے بعد جنازہ کے ساتھ بھی جائے اور دفن کرنے تک حاضر رہے تو اُسے دوسرا قیراط بھی دیا جاتا ہے۔صحیح قول کے مطابق دفن کرنے سے مراد یہ ہے کہ قبر مکمل طورپر برابر اور ٹھیک ہوجائے۔ اس مقام پر ایک بات نہایت قابلِ توجہ ہے کہ دوسرا قیراط جو دفن کے وقت موجود ہونے سے ملتا ہے وہ جنازہ کے ساتھ چلنے اور پورے راستے جنازہ کے ساتھ رہنے پر موقوف ہے تو اگر کسی نے نماز جنازہ ادا کی اور پھر اکیلے ہی قبر پر چلا گیا اور وہاں انتظار کرتا رہا یہاں تک کہ جنازہ آگیا اور وہ تدفین میں شریک ہوا تو اُسے دوسرا قیراط نہیں ملے گا۔ اسی طرح اگر کوئی تدفین کے وقت حاضر رہا لیکن نماز جنازہ نہیں پڑھی یا صرف جنازہ کے ساتھ چلا اور نماز جنازہ نہیں پڑھی توحدیث پاک کے مطابق اُسے کوئی قیراط نہیں ملے گا لیکن اسے ثواب ضرور ملے گا اگرچہ قیراط جتنا نہیں۔“مدنی گلدستہجنت کے آٹھ دروازوں کی نسبت سے اَحادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے8 مدنی پھول
(1) نمازِجنازہ پڑھنے والے کو ایک قیراط کے برابر ثواب ملتا ہے اور جو جنازہ کے ساتھ بھی جائے اور تدفین کے وقت بھی موجود ہو اُسے دو قیراط کے برابر ثواب ملتا ہے۔
(2) حدیثِ پاک میں قیراط سے مراد اُحد پہاڑ ہے یعنی اُس شخص کے لیے اُحُد پہاڑ کے برابر ثواب ہے۔
(3) حدیثِ پاک میں بیان کردہ فضیلت اُس مسلمان کو حاصل ہوگی جو بہ نیتِ ثواب جنازہ میں شریک ہو۔
(4) کافر کا میت کے ساتھ جانا قابلِ ثواب نہیں کیونکہ اَعمال کے ثواب کے لیے ایمان شرط ہے، اِسی طرح ریاکاری یا کسی اور غرض سے جنازہ میں شریک ہونے والے کو بھی ثواب نہیں ملے گا۔
(5) اَحناف کے نزدیک جنازہ کے پیچھے پیچھے چلنا افضل ہے کیونکہ حدیث پاک میںاِتَّبَعَکا لفظ آیا ہے جس کا معنی ہے پیچھے چلنا۔
(6) نمازِ جنازہ میں شریک ہونے والے کو چاہیے کہ تدفین میں بھی شرکت کرے اگر کسی وجہ سے واپس جانا چاہے تو میت کے ولی سے اجازت لیے بغیر واپس نہ ہو بلکہ اُس سے اجازت لے کر لَوٹے۔
(7) جو شخص نمازِجنازہ پڑھنے کے بعد اکیلا ہی قبر پر آجائے اور وہاں انتظار کرے اور پھر جب جنازہ آجائے تو تدفین کے وقت موجود ہو تو ایسے شخص کو صِرف ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا ۔
(8) اگر کوئی شخص صِرف جنازہ کے ساتھ چلے یا صِرف تدفین کے وقت حاضِر ہو لیکن نمازِ جنازہ نہ پڑھے تو اُسے کسی قیراط کا ثواب نہیں ملے گا بلکہ قیراط سے کم ثواب ملے گا۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں نمازِجنازہ ادا کرنے، جنازہ کے ساتھ چلنے اور تدفین کے وقت حاضر ہوکر دو قیراط جتنا ثواب حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 930