Main Icon

باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 695

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ ذَرٍّرَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لِيْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوْفِ شَيْئًا وَلَوْ اَنْ تَلْقَى اَخَاكَ بوَجْهٍ طَلْقٍ.

عن ابي ذررضي الله عنه قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم:لا تحقرن من المعروف شيئا ولو ان تلقى اخاك بوجه طلق.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُناابو ذَررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سےارشاد فرمایا:”کسی نیک کام کو ہرگزحقیرنہ جانو اگرچہ وہ تمہارا اپنے بھائی سے خَندہ پیشانی سے مِلنا ہی کیوں نہ ہو۔“

شرح حدیث

مؤمن کو خوش کرنے کی فضیلت:مُفَسِّرشہِیر مُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمدیارخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:’’صُوفیائے کِرام فرماتے ہیں کہ کوئی نیکی حقیر جان کر چھوڑ نہ دو کہ کبھی ایک گُھونٹ پانی جان بچا لیتا ہے اور کوئی گُناہ حقیر سمجھ کر کر نہ لو کہ کبھی چھوٹی چنگاری گھر پُھونک دیتی (یعنی جلا دیتی)ہے۔اِن کا مَاخَذ یہ حدیث ہے، مسلمان بھائی سے خوش ہو کر مِلنا، اُس کے دل کی خوشی کا باعِث ہے اور مُومِن کو خوش کرنا بھی عبادت ہے۔‘‘
میٹھے میٹھےاسلامی بھائیو! مبلغین اسلامی بھائیوں کوبَہت زیادہ مِلنسار اور بااَخلاق ہونا چاہیے،جو مُبلِّغ جتنا زیادہ خوش اَخلاق ہو گااورخَنْدہ پَیشانی سے مُسکرا کر ملِنے والا ہوگالوگ اُتنی ہی آسانی سے اِس کی طرف مائِل ہوں گے اور اُسے کسی پراِنْفِرادی کوشش کرنے میں دِقَّت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ۔اگر مِزاج میں غُصّہ ،چڑچڑا پَن اور بَد اَخلاقی ہوئی تو کا میابی مشکل ہے ،لہٰذا مبلغ کو چاہیے کہ اپنے اَخلاق دُرُست کرے اور جسے دعوتِ اِسلامی کے مَدَنی کاموں کی دُھن ہو اُس کے لیے ٹھنڈے مِزاج کا ہونا بَہت ضروری ہے کہ بے جا سختی کرنے سے بارہا کام بنتے بنتے بِگڑ جاتے ہیں۔حدیثِ مُبارَک میں مُسکر ا کر ملِنے کو صدقہ کہا گیا ہے اور مُسکرا کر ملِنے کی تو کیا بات ہے !مُسکرا کر مِلنا ،مُسکرا کر کسی کو سمجھانا عُموماً نیکی کی دَعوت کے مَدَنی کام کو نِہایت سَہْل اور آسان بنادیتا اور حیرت اَنگیز نَتائج کا سبب بنتا ہے ۔آپ کی معمولی سی مُسکراہٹ کسی کا دل جیت کر اُس کی گُناہوں بھری زندگی میں مَدَنی اِنْقِلاب بَرپا کرسکتی ہے اور ملِتے وقت بے رُخی اور لاپرواہی سے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے ہاتھ مِلانا کسی کا دل توڑ کر اس کو
مَعَاذَ اللّٰہگمراہی کے گہرے گڑھے میں گِرا سکتا ہے لہٰذا جب بھی کسی سے مِلیں،گُفتگو کریں اُس وقْت حتی الاِمکان مُسکراتے رہیے۔
شیخ طریقت امیراہلسنت مولاناابوبلال محمدالیاس عطارقادری رضوی
دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
قہقہے اور یاوہ گوئی میں تِرا نقصان ہے
بے ضرورت بولنے والا بڑا نادان ہے
بھاگتے ہیں سُن لے بد اَخلاق اِنساں سے سبھی
مُسکرا کر سب سے ملنا دِل سے کرنا عاجِزی
نوٹ:حدیث نمبر695کی مزید شرح کیلئے’’فیضانِ ریاض الصا لحین‘‘جلددوم، باب 13،حدیث نمبر 121اور اس کی شرح کا مطالعہ کیجئے۔
مدنی گلدستہ’’اسلام‘‘کے5حروف کی نسبت سے اَحادِیثِ مَذکورہ اور اُن کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) اچھی بات کہنا صدقہ ہےکہ جس طرح مال بطورِصدقہ دینے سے اگلے کا دل خوش ہوتا ہے اسی طرح اچھی بات کہنے سے بھی مخاطب کا دل خوش ہوتا ہے۔
(2) کوئی نیکی حقیر جان کرنہیں چھوڑنی چاہیےکہ کبھی ایک گُھونٹ پانی سے بھی جان بچ جاتی ہے۔
(3) کوئی گُناہ چھوٹا سمجھ کر بھی نہیں کرنا چاہیے کہ کبھی چھوٹی چنگاری بھی گھر جلا کر راکھ کردیتی ہے۔
(4) نیکی کی دعوت دینے والے کو مِلنسار اور بااَخلاق ہونا چاہیے،مِزاج میں غُصّہ،چڑچڑا پَن اور بَد اَخلاقی ہوئی تو نیکی کی دعوت کا پھل مِلنا مشکل ہے۔
(5) معمولی سی مُسکراہٹ بعض اَوقات کسی کا دِل جیت کر اُس کی گناہوں بھری زندگی میں مَدَنی اِنقِلاب بَرپا کردیتی ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں مسلمانوں کے ساتھ خندہ پیشانی سے ملنے کی توفیق عطا فرمائےاور خشک مزاجی سے بچائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 695