Main Icon

باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 543

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ یْکَر ِبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَا اَكَلَ اَحَدٌ طَعَامًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ اَنْ يَاْ كُلَ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ وَ اِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يَاْ كُلُ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ.

عن المقدام بن معد یکر ب رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:ما اكل احد طعاما قط خيرا من ان يا كل من عمل يده و ان نبي الله داود عليه السلام كان يا كل من عمل يده.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنامقدام بن معدیکربرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی پاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’ کسی شخص نے اس سے بہتر کھانانہیں کھایاجس کواس نے اپنے ہاتھ سےکمایاہواوربیشکاللہ عَزَّ وَجَلَّکے نبی حضرت داؤدعَلَیْہِ السَّلَاماپنے ہاتھ سےکماکرکھاتے تھے۔‘‘

شرح حدیث

کسبِ حلال کی فضیلت:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا کہ اپنے ہاتھ سے کما کر رزقِ حلال کھانا انبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی سنتِ مبارکہ ہے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ اپنے ہاتھ سے کما کر کھانا نہایت ہی اہمیت اور فضیلت والا کام ہے۔کسب کی فضیلت پرمشتمل تین فرامینِ مصطفےٰصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپیش خدمت ہیں: (1) ’’گناہوں میں سے کچھ گناہ ایسے ہیں جن کو حصولِ رزق میں پہنچنے والا رنج وغم ہی مٹا سکتا ہے۔‘‘ (2)’’جس نے خود کو سوال سے بچانے، اپنے بال بچوں کے لیے بھاگ دوڑکرنے اور اپنے پڑوسی پر مہربانی کرنے کے لیے حلال مال طلب کیا وہاللہ عَزَّ وَجَلَّسے اس حال میں ملے گا کہ اس کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوگا۔‘‘(3) ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّپیشہ ور مؤمن کو پسند فرماتا ہے۔‘‘انبیائے کرام کے مختلف پیشے:کس نبی نے کیا پیشہ اختیار کیا؟ اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانتفسیرِنعیمی میں فرماتے ہیں کہ’’سب سے پہلے کپڑے بُننے کا کام حضرت آدمعَلَیْہِ السَّلَامنے کیا اوربعدمیں کھیتی باڑی کے کام میں مشغول رہے۔حضرت نوحعَلَیْہِ السَّلَامکاذریعہ ٔمعاش لکڑی کاتھا۔حضرت ادریسعَلَیْہِ السَّلَامدرزی کاکام کرتے تھے،حضرت ہوداورصالحعَلَیْہِمَا السَّلَامتجارت کرتے تھے،حضرت ابراہیمعَلَیْہِ السَّلَامکھیتی باڑی کرتے تھے،حضرت موسیٰعَلَیْہِ السَّلَامنے کچھ دن بکریاں چَرائیں،حضرت داؤدعَلَیْہِ السَّلَامزِرہ بناتے تھے،حضرت سلیمانعَلَیْہِ السَّلَاماتنے بڑے بادشاہ تھےپھر بھی درختوں کے پتوں سےپنکھے اور زنبیلیں(ٹوکریاں) وغیرہ بناکراپناگزربسرکرتے تھے،حضرت عیسٰیعَلَیْہِ السَّلَامنے کوئی پیشہ اختیارنہ فرمایابلکہ ہمیشہ سیرفرماتےاورفرمایاکرتےتھےکہ جس نے مجھے ناشتہ دیاہے وہی شام کاکھانابھی دےگا،اورسب سے پہلےحضرت آدمعَلَیْہِ السَّلَامنےچاندی سے روپیہ اورسونے سے اشرفیاں بنائیں۔‘‘کسب کرنا انبیائے کرام کی سنت ہے:دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ864صفحات پر مشتمل کتاب ’’فیضان فاروق اعظم‘‘ جلداول، ص72پر ہے:’’رزقِ حلال کمانا انبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی سنت مبارکہ ہے۔حصولِ رزق کے لئے کوشش کی اہمیت کااندازہ اس سے کیاجاسکتاہے کہ حضرات انبیائے کرام اور رُسلِ عظامعَلَیْہِمُ السَّلَامبھی کسب یعنی حصولِ رزق کے لئے کوشش کیاکرتے تھے۔چنانچہ حضرت سیِّدُنا آدمصَفِیُّ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ السَّلَامگندم بوتے،اسے سیراب کرتے،اس کی کٹائی کرتے،اسے گاہتے، پھراسے پیستے ،پھراس کاآٹا گوندھ کر روٹی تیار فرماتے، یوں آپ کھیتی باڑی کاکام کرتے۔حضرت سیِّدُنا نوحنَجِیُّ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ السَّلَامبڑھئی کا کام کیا کرتے۔ حضرت سیِّدُناابراہیمخَلِیْلُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ السَّلَامکپڑے بُن کرگزارہ کرتے۔حضرت سیِّدُنا داؤدعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ السَّلَامزرہیں بناتے۔ حضرت سیِّدُناسلیمانعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ السَّلَامکھجورکے پتوں سے ٹوکریاں بنا کر فروخت کیا کرتے تھے اور ہمارے آقاومولیٰ رسولوں کے سالار ،باذنِ پروردگار،دوعالَم کے مالک ومختار،شہنشاہِ ابرار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنی بکریاں چرایاکرتے (اور تجارت کیا کرتے)تھے اوریہ تمام عالی رتبہ حضرات کسب کرکے ہی کھاتے تھے۔‘‘توہین آمیز الفاظ کی ممانعت:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:’’یعنی زکریاعَلَیْہِ السَّلَاملکڑی سازی کا کام کرتے تھے، اس کی آمدنی سے اپنا گزارہ کرتے تھے۔کسی نبی نے نبوت کو ذریعہ ٔمعاش نہ بنایا۔مرزا قادیانی پہلے ایک نہایت غریب آدمی تھا،جھوٹی نبوت کا ڈھونگ رچا کر نواب بن گیا، شاہانہ زندگی گزار گیا۔سارے سچے نبیوں نےاپنے ہاتھ کی کمائی سے زندگی گزاری۔حضراتِ انبیاءِکرام (عَلَیْہِمُ السَّلَام)نے اگرچہ لکڑی، لوہے، زنبیل سازی وغیرہ اختیار فرمائی مگر انہیں بڑھئی یا لوہار وغیرہ کہنا حرام ہے کہ یہ الفاظ توہین آمیز ہیں۔‘‘سیدنا داؤدعَلَیْہِ السَّلَامزرہ بناتے تھے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرت داؤدعَلٰی نَبِیِّنَاوَ عَلَیْہِ السَّلَام اللہ عَزَّ وَجَلَّکے برگزیدہ نبی ہیں آپ کو دنیاکی سلطنت وحکومت عطاکی گئی تھی اس کے باوجوداپنے ہاتھ سے ہی کماکرکھایاکرتےتھے۔چنانچہعَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:’’حضرت سیدنا داؤدعَلٰی نَبِیِّنَاوَ عَلَیْہِ السَّلَاماپنے دورِ خلافت میں اپنے کام کے حوالے سے لوگوں سے تَجَسُّس کیا کرتے اورجوشخص آپ کونہیں جانتا تھا اس سے پوچھتے تھےکہ داؤدکیسابادشاہ ہے؟اور لوگوں میں ان کی سیرت وکردارکس درجے کے ہیں؟ایک مرتبہاللہ عَزَّوَجَلَّنےانسانی صورت میں ایک فرشتہ ان کے پاس بھیجا توآپ نے اس سے بھی وہی سوالات کیے تو اس فرشتے نے کہا:’’داؤد ہیں توبہت اچھے آدمی، لیکن بیت المال سے کھاتے ہیں۔‘‘ جب آپ نے یہ سناتواللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں دعاکی:’’اے میرے پروردگار! مجھے بیت المال سے مُستغنی کردےاورمجھے کوئی ایسا ہنر سکھا دے جس سےمیں اپنی روزی کماسکوں۔‘‘اللہ عَزَّ وَجَلَّنےآپ کی دعاقبول فرمائی اورآپ کو زِرہ بنانے کا ہنرسکھا دیا۔کہا جاتاہے کہ آپ کے ہاتھوں میں لوہاموم اور گندھے ہوئے آٹے کی طرح نرم ہوجاتاتھا،آگ میں نرم کرنے اورہتھوڑے سے کوٹنےکی ضرورت پیش نہیں آتی تھی۔ آپ جیسے چاہتے اسی طرح لوہے کوہاتھ سے اِدھراُدھرکرکے زرہ بنالیتے تھےاورآپ ہرزرہ کو چارہزاردرہم میں فروخت کیا کرتے۔بعض علماء نے یہ بھی لکھاہےکہ آپ ہرروزایک زرہ بناتے اوراسے چھ ہزاردرہم میں فروخت کرتے،اس میں سے دو ہزاردرہم اپنی ذات اوراپنے اہل وعیال پرخرچ فرماتے اوربقیہ چارہزار درہم کوبنی اسرائیل کے فقراء ومساکین پر صدقہ کردیاکرتے تھے۔‘‘ہاتھ سے کمانے کے 6فائدے:میٹھے میٹھےاسلامی بھائیو!مذکورہ اَحادیثِ پاک میں لوگوں کو ہاتھ سے کمانے کی ترغیب دلائی گئی ہےکیونکہ ہاتھ سےکمانے کے بہت سے فائدے ہیں۔چنانچہعَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِینے ہاتھ سے کمانےکے یہ چھ 6فوائد بیان فرمائے ہیں: ’’(1)اگر کوئی شخص کسی کے پاس اجیر (ملازم)ہے تو اسے اُجرت کے ذریعے سےنفع حاصل ہوگا۔(2)اگرخودتجارت کرتاہے تو خریدو فروخت کے ذریعے سے نفع حاصل ہوگا۔ (3)ہاتھ سے کمانے سے انسان کے عمل کا نفع دوسرے لوگوں تک بھی پہنچتاہے جیساکہ اگر کوئی شخص درزی ہے یا کھیتی باڑی کرتا ہے یا مالی ہے تو ان کاموں سے اسے بھی فائدہ ہوگا اور لوگوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ (4)اپنے ہاتھ سے کمانے والا شخص فضولیات اور لہو ولعب میں مبتلا ہونے سے بھی محفوظ رہتا ہے۔(5) اپنے ہاتھ سے کمائی کرنے سے انسان کا نفس کمزور ہوتا ہے اورنفس کی سرکشی میں کمی آتی ہے۔ (6)اپنے ہاتھ سے کمانے کی برکت سے انسان لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ذلت اور ان کے محتاج ہونے سے بے نیاز ہوجاتا ہے۔ہاتھ سے کمانے والے کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ یہ اعتقاد نہ رکھے کہ مجھے میری محنت و مشقت کی وجہ سے روزی مل رہی ہے بلکہ یہ اعتقاد رکھے کہ مجھے کریم و رَزَّاقاللہ عَزَّ وَجَلَّکے کرم سے رِزق مل رہا ہے۔‘‘محنت کرکےحلال روزی کمانا:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ’’ہاتھوں سے مراد پوری ذات ہے،ہاتھ سے کمائے يا پاؤں سے يا آنکھ يا زبان سے غرض یہ کہ اپنی قوّت سے حلال روزی کمائے۔ربّ تعالیٰ فرماتا ہے:( αفَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ ∞)(پ۲۵، الشوریٰ:۳۰) ترجمۂ کنزالایمان:’’جو تمہارے ہاتھوں نے کمايا ۔‘‘یہاں بھیاَیْدِییعنی ہاتھوں سے ذات ہی مراد ہے۔مقصد یہ ہے کہ دوسروں کی کمائی پر اپنا گزارہ نہ کرے خود محنت کرے۔‘‘مدنی گلدستہ’’رزقِ حلال‘‘کے7حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) اسلام میں کسبِ حلال کی بہت اہمیت اور فضیلت بیان فرمائی گئی ہے۔
(2) کسبِ حلال یعنی اپنے ہاتھ سے رزقِ حلال کمانا اور کوئی بھی حلال ذریعہ اور پیشہ اختیار کرنا انبیائے کرام
عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی سنت ہے۔
(3) رزقِ حلال کے لیےکوئی جائز پیشہ تجارت ، زراعت وغیرہ کو اختیار کیا جاسکتا ہے۔
(4) عموماً جو لوگ جیسا پیشہ اختیار کرتے ہیں انہیں ویسی ہی شناخت مل جاتی ہے لیکن انبیائے کرام
عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے لیے کسی بھی طرح کے توہین آمیزالفاظ بولنا شرعا ًممنوع ہے۔
(5) سَیِّدُنَاداؤد
عَلَیْہِ السَّلَامزرہ بنانےکاکام کیاکرتےتھےاورآپ کےہاتھوں میں لوہا موم اور گندھے ہوئےآٹے کی طرح نرم ہوجایاکرتاتھاجس سےآپ باآسانی زرہ بنالیتےتھے۔
(6) حضرت سَیِّدُنَا داود
عَلَیْہِ السَّلَامجوزرہ بناتے اسے بیچ کراپنی ذات اوراپنےاہل وعیال پربھی خرچ فرماتے اورفقراء ومساکین پرصدقہ بھی کیا کرتے۔
(7) اپنے ہاتھ سے کمانے والاجب اپنے کام میں مصروف رہتاہےتووہ بُری باتوں اورکھیل کودسے بھی بچا رہتاہے،نیزایساشخص لوگوں کے سامنے دستِ سوال دراز کرنےاوران کے سامنے جھکنے جیسی ذلت ورُسوائی سے بھی بچ جاتاہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں حلال رزق کمانے کی توفیق عطافرمائےاوردوسروں کے سامنے دستِ سوال درازکرنےسےمحفوظ فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 543