- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- حدیث نمبر 540
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَاَنْ يَحْتَطِبَ اَحَدُكُمْ حُزْمَةً عَلَى ظَهْرِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ اَنْ يَسْاَلَ اَحَدًا فَيُعْطِيَهُ اَوْ يَمْنَعَهُ.
عن ابی هريرة رضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لان يحتطب احدكم حزمة على ظهره خير له من ان يسال احدا فيعطيه او يمنعه.
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولِ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:”تم میں سے کوئی شخص اپنی پیٹھ پرلکڑیوں کاگٹھا باندھ کرلائے تو یہ اُس کے لیے اِس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سےکچھ مانگے اور پھروہ اسےدیں یانہ دیں ۔‘‘
شرح حدیث
اپنےہاتھ سےکماناسوال کرنےسےبہترہے:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’حدیث پاک میں پہاڑکاذکراس لیے کیا گیاہےکہ باقی جگہوں کی بہ نسبت پہاڑسےلکڑیاں لانازیادہ مشکل ہوتاہے،لکڑیوں کاگٹھااپنی پیٹھ پرلائے یا جانورکی پیٹھ پراوراسےلاکربیچےتواللہ عَزَّ وَجَلَّاس کے ذریعےاس کی حاجت کوپورا فرمادےگا۔‘‘مانگنے سے مشقت برداشت کرنا بہتر ہے:علامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیاس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:’’لکڑیاں فروخت کرکے اپنی حاجت پوری کرے اور لوگوں سے مانگنے سے بچے تو یہ اس کے لیے بہت بہتر ہےکیونکہ اس طرح نفس ذلیل ہوتاہے اور مانگنے سے مشقت برداشت کرنا بہتر ہے،جب کوئی شخص اپنے لیے سوال کادروازہ کھولتاہےاللہ عَزَّ وَجَلَّاس پرمحتاجی کادروازہ کھول دیتا ہے۔‘‘بھیک مانگنےوالادوسروں کااحسان مندرہتاہے:شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’اس میں اس جانب اشارہ ہے کہ بندے کی آبرومحفوظ رکھنااللہ عَزَّ وَجَلَّکاکام ہے،بندےپراس کی نعمت اوراس کالطف واحسان ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّاسے مشقت میں ڈال کر ثواب آخرت عطا کرتا،کسب حلال کی ہمت دیتااوردستِ سوال دراز کرنے سے بچاتا ہے۔لوگوں سے مانگنے کی صورت میں اگر نہ دیں گے تو اس کی عزت وآبرو بھی گئی اورمحروم بھی رہااوراگر کچھ دیں گے تو اپنے ہاتھ سے کمانا اس سب سے بہتر ہے کہ ان کااحسان مندہوتا،ان کی غلامی اور ان کے احسان کاپھندا اپنے گلے میں ڈالتااورطمع وگداگری کی بُری عادت میں مبتلاہوتا۔‘‘بھیک مانگنا بہت بُرافعل ہے:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:’’خلاصہ یہ ہے کہ معمولی سے معمولی کام کرنا اور تھوڑے پیسوں کے لیے بہت سی مشقت کرنا بہتر ہے، اس سے عزت نہیں جاتی مگر بھیک مانگنا بُرا جس سے عزت جاتی رہتی ہے،برکت ہوتی نہیں۔اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ اگر کسی بڑے آدمی پر کوئی وقت پڑ جائے تو محنت مشقت کرنے میں شرم نہ کرے کیونکہ یہ سنتِ انبیاء ہے۔حضور ِانورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے معمولی سے معمولی کام بھی اپنے ہاتھ شریف سے کئے ہیں۔ بلکہ دیکھا یہ گیا ہے کہ بھکاری بھیک مانگنے میں بڑی محنتیں کرتے ہیں، اگر مزدوری کریں یا چھابڑی فروخت کریں تو ان پر محنت بھی کم پڑے اور آبرو (عزت)سے بھی کھائیں۔اس حدیث سے اشارۃً یہ معلوم ہوا کہ جنگل کے خودرُو درخت مباح ہیں ان پر جو قبضہ کرکے کاٹ لے وہ اس کا مالک ہوجائے گا جیسے جنگلی شکاریا عام کنوؤں کا پانی۔ کیونکہ اگر یہ لکڑی کاٹنے والا اس کا مالک نہ ہوتا تو اس کا بیچنا جائز کیونکر ہوتا اور حضور انورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّماس کام کو خیر کیوں فرماتے؟‘‘بقدرِ کفایت کمانا فرض ہے:صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدرُالطَّرِیْقَہحضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’اتنا کمانا فرض ہے جو اپنے لیے اور اہل و عیال کے لیے اور جن کا نفقہ اس کے ذمہ واجب ہے ان کے نفقہ کے لیے اورادائے دَین کے لیے کفایت کرسکے۔ اس کے بعد اسے اختیار ہے کہ اتنے ہی پر بس کرے یا اپنے اوراہل و عیال کے لیے کچھ پس ماندہ رکھنے (یعنی بچا کر رکھنے)کی بھی سعی و کوشش کرے۔ ماں باپ محتاج و تنگدست ہوں تو فرض ہے کہ کما کر انھیں بقدرِ کفایت دے۔‘‘ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:’’ آج کل ایک عام بلا یہ پھیلی ہوئی ہے کہ اچھے خاصے تندرست چاہیں تو کما کر اَوروں کو کھلائیں، مگر انہوں نے اپنے وجود کو بیکار قرار دے رکھا ہے، کون محنت کرے مصیبت جھیلے،بے مشقت جو مل جائے تو تکلیف کیوں برداشت کرے۔ ناجائز طور پر سوال کرتے اور بھیک مانگ کر پیٹ بھرتے ہیں اور بہتیرے ایسے ہیں کہ مزدوری تو مزدوری، چھوٹی موٹی تجارت کو ننگ و عار خیال کرتے اور بھیک مانگنا کہ حقیقۃً ایسوں کے لیے بے عزتی و بے غیرتی ہے مایہ ٔعزت جانتے ہیں اور بہتوں نے تو بھیک مانگنا اپنا پیشہ ہی بنا رکھا ہے، گھر میں ہزاروں روپے ہیں سود کا لین دین کرتے زَراعت وغیرہ کرتے ہیں مگر بھیک مانگنا نہیں چھوڑتے، اُن سے کہا جاتا ہے تو جواب دیتے ہیں کہ یہ ہمارا پیشہ ہے واہ صاحب واہ! کیا ہم اپنا پیشہ چھوڑ دیں۔ حالانکہ ایسوں کو سوال حرام ہے اور جسے اُن کی حالت معلوم ہو اُسے جائز نہیں کہ ان کو دے۔‘‘جو اپنے ہاتھ کی کمائی نہیں اسے صدقہ نہ کرو:حضرت سیِّدُنا علی بن بکارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَفَّاراور حضرت سیِّدُنا ابو اسحاق فزاریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِیجو کہ اولیاء و صالحین میں سے تھے، لکڑیاں کاٹ کر اس کی کمائی سے کھاتے تھے۔ ایک دن ان دونوں نے باہم اتفاق کیا کہ کل صبح پہاڑ پر چڑھنے اور لکڑیاں کاٹنے میں ایک دوسرے کی مددکریں گے۔حضرت سیِّدُنا علی بن بکاررَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہپہاڑ پر چڑھنے میں سبقت لے گئے اورلکڑیوں کاگٹھا بھی جمع کر لیالیکن جب ان کے رفیق نے ان کے پاس پہنچنے میں دیر کر دی تو وہ ان کو پہاڑمیں تلاش کرنے لگے۔ انہوں نے دیکھا کہ حضرت سیِّدُنا ابو اسحاقرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہچار زانو تشریف فرما ہیں اور ایک شیر کا سر ان کی گود میں ہے اور وہ خود اس شیر سےمکھیوں کودُورکررہےہیں۔حضرت سیِّدُناعلی بن بکاررَحْمَۃُ اللہ الغَفَّارنےاستفسارفرمایا:’’اے ابو اسحاق! یہ کیا ہے؟‘‘فرمایا:’’شیر نے مجھ سے التجا کی تو مجھے اس پر ترس آگیا۔اب میں انتظارکررہا تھا کہ یہ بیدار ہواور میں آپ کے پاس جا سکوں۔‘‘حضرت سیِّدُنا علی بن بکاررَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہاُن کو اُسی حالت میں چھوڑ کر آگے چلے گئے۔اچانک انہوں نے چٹان پر ایک تھیلی دیکھی جس میں ایک ہزار دینار تھے۔اُس پر غبار اورمِٹی پڑی ہوئی تھی۔انہوں نے دل میں سوچا:’’میں اِس کو لے جاکر صدقہ کردوں گا۔‘‘چنانچہ پہاڑ سے اُترے تو ایک سیاہ فام غلام کے پاس سے گزر ہوا جو پاؤں سے معذورتھااورچہرے کے بل گرا ہواتھا اوراس کے چہرےکے قریب لکڑیوں کا ایک گٹھاپڑاہوا تھاجسے وہ بیچنا چاہتا تھا۔انہوں نے سوچاکہ:’’اس سونے کا حق دار اِس غلام سے زیادہ کون ہوسکتا ہے؟‘‘چنانچہ انہوں نے تھیلی سے دس دینار نکالے اور اُس کے پاس آکرکہا:’’یہ لیجئے اور اپنی حالت درست کرلیجئے۔‘‘غلام نے اپنا سر اٹھایااور کہا:’’اس سونے کو اس کی جگہ پر واپس رکھ دیں اور جو اپنے ہاتھ کی کمائی نہیں اسے صدقہ نہ کریں۔اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم!میں ایک سال سے اس چٹان پرپڑی ہوئی اس تھیلی کے پاس سے گزر رہا ہوں مگر مجھے یہ بھی معلوم نہ ہواکہ اس میں کیا ہے؟توآپ دنیا میں کیسے راغب ہو گئے اور جس کو لینا آپ کے لیے جائز نہ تھا اس کو کیسے لے لیا؟‘‘حضرت علی بن بکاررَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ :’’مجھے اس کی باتوں سے بڑی شرمندگی ہوئی اور میں نے جان لیا کہ یہ اولیاء کرامرَحِمَہُمُ اللہ تَعَالٰیمیں سے ہے۔ لہٰذا میں تھیلی کو اس کی جگہ پر رکھ کر واپس آیا تو وہ اپنی جگہ پر نہ تھا۔میں نے دریافت کیاتو بتایا گیاکہ یہ ہرہفتہ ایک مرتبہ لکڑیوں کا گٹھالے کرآتا ہے اور پھر اسے ایک درہم کے عوض فروخت کرتاہے اور اسی سے ہفتہ کے باقی ایام غذا حاصل کرتاہے اور کسی سے کوئی چیزنہیں لیتا۔‘‘مدنی گلدستہ’’کسبِ حلال‘‘ کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(4) ہرشخص کو چاہیے کہ محنت ومزدوری کرکےاپنے ہاتھ سےکمائےاوردوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچتا رہے کیونکہ جوشخص اپنےلئے سوال کا دروازہ کھولتا ہےتواللہ عَزَّ وَجَلَّاس کے لیے محتاجی کا دروازہ کھول دیتاہے۔
(5) بھیک مانگنےسےانسان کی عزت وآبروچلی جاتی ہے۔
(6) بلا ضرورت وبلا اجازتِ شرعی دوسروں کے آگے سوال کرنا منع ہے۔
(7) جوغنا کے باوجود لوگوں سے سوال کرتاہے وہ جہنم کے دہکتے پتھروں میں اضافہ کرتا ہے۔
(8) بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ دیکھنے میں بالکل ہٹے کٹے ہوتے ہیں، چاہیں تو اوروں کو کما کر کھلائیں مگر لوگوں کے سامنے دستِ سوال دراز کرتے نظر آتے ہیں، ایسے پیشہ ور بھکاریوں کا مانگنا بھی جائز نہیں ہے اور نہ ہی ان کو دینا جائز ہے۔
(9) اپنے ہاتھ سے کمایا ہوا حلال مال راہِ خدا میں صدقہ کرنا نہایت ہی اعلیٰ درجے کا تقویٰ ہے۔
(10) بزرگانِ دِینرَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِیْناپنے ہاتھ سے کما کر کھایا کرتے تھے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں رزقِ حلال کما کرکھانےکی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 540