Main Icon

باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1188

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ اَنْ يَاْمُرَهُمْ فِيْهِ بِعَزِيْمَةٍ فَيَقُوْلُ:مَنْ قَامَ رَمَضَانَ اِيْمَانًاوَاِحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّم مِنْ ذَنْبِهِ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال:كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يرغب في قيام رمضان من غير ان يامرهم فيه بعزيمة فيقول:من قام رمضان ايماناواحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقیامِ رمضان(یعنی تراویح) کی ترغیب دیتے تھے،تاکیداً اس کا حکم نہ دیتے اور فرماتے:”جس نے رمضان میں ایمان اور ثواب کی نیت سے قیام کیااس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیئےجاتے ہیں۔“

شرح حدیث

صغیرہ گناہوں کی معافی:مذکورہ اَحادیث میں قیامِ رمضان یعنی نمازِ تراویح کی فضیلت بیان کی گئی ہے، احادیث مبارکہ میں ایمان اور ثواب کی نیت سے قیامِ رمضان کرنے والے کے لئے فرمایا گیا کہ اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔”یعنی تراویح کی پابندی کی برکت سے سارے صغیرہ گناہ معاف ہوجائیں گے کیونکہ گناہ کبیرہ توبہ سے اور حقوقُ العباد حق والے کے معاف کرنے سے معاف ہوتے ہیں۔“ اور دوسری حدیث پاک میں فرمایا گیا کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقیامِ رمضان کی ترغیب دیتے تھے تاکیداً اس کا حکم ارشاد نہ فرماتے۔”یعنی (آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے) تراویح کوفرض یا واجب نہ قرار دیالہٰذا اس سے یہ لازم نہیں کہ یہ سُنَّتِ مُؤکَّدہ بھی نہ ہوں۔“تراویح کا حکم اور مسائل:بہارِشریعت میں ہے:تراویح مرد و عورت سب کے ليے بالاجماع سُنَّتِ مُؤکَّدہ ہے اس کا ترک جائز نہیں۔اس پر خلفائے راشدینرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمْنے مُداوَمت فرمائی اور نبیصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد ہے کہ میری سنت اور سنت خلفائے راشدین کو اپنے اوپر لازم سمجھواور خود حضور(صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم) نے بھی تراویح پڑھی اور اسے بہت پسند فرمایا۔ پھر اس اندیشہ سے کہ اُمَّت پر فرض نہ ہو جائے ترک فرمائی پھر فاروقِ اعظمرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُرمضان میں ایک رات مسجدکوتشریف لے گئے اور لوگوں کو مُتفرق طور پر نماز پڑھتے پایا کوئی تنہا پڑھ رہا ہے، کسی کے ساتھ کچھ لوگ پڑھ رہے ہیں۔یہ دیکھ کر ارشادفرمایا: میں مناسب جانتا ہوں کہ ان سب کو ایک امام کے ساتھ جمع کردوں تو بہتر ہو، سب کو ایک امام اُبَی بِن کعبرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکے ساتھ اکٹھا کر دیا، پھر دوسرے دن تشریف لے گئے ملاحظہ فرمایا کہ لوگ اپنے امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں۔فرمایا:’’نِعْمَتِ الْبِدْعَۃُ ھٰذِہ‘‘یہ اچھی بدعت ہے۔جمہور کا مذہب یہ ہے کہ تراویح کی بیس رکعتیں ہیں اور یہی احادیث سے ثابت،بیہقی نے بسند صحیح سائب بن یزیدرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت کی کہ لوگ فاروقِ اعظمرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکے زمانہ میں بیس رکعتیں پڑھا کرتے تھےاورعثمان وعلیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے عہد میں بھی یوہیں تھااورموطا میں یزید بن رومان سے روایت ہے کہ عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکے زمانہ میں لوگ رمضان ميں تیئس ۲۳ رکعتیں پڑھتے۔ بیہقی نے کہا اس میں تین رکعتیں وتر کی ہیں اور مولیٰ علیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے ایک شخص کو حکم فرمایا کہ رمضان میں لوگوں کو بیس ۲۰ رکعتیں پڑھائے۔نیز اس کے بیس رکعت ہونے میں یہ حکمت ہے کہ فرائض و واجبات کی اس سے تکمیل ہوتی ہے اور کل فرائض و واجب کی ہر روز بیس ۲۰ رکعتیں ہیں، لہٰذا مناسب کہ یہ بھی بیس ہوں کہ مکمل و مکمل برابر ہوں۔نمازِتراویح میں حاضر ہونے والے فرشتے:منقول ہے کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے عرش کے گرد”حَظِیْرَۃُ الْقُدْس“نامی ایک جگہ ہے جوکہ نور کی ہے، اس میں اتنے فرشتے ہیں کہ جن کی تعداداﷲ عَزَّ وَجَلَّہی جانتا ہے، وہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کرتے ہیں اور ایک لمحہ بھی غافل نہیں ہوتے، جب رمضان کی راتیں آتی ہیں تو وہ اپنے ربعَزَّ وَجَلَّسے زمین پر اترنے کی اجازت طلب کرتے ہیں اور آقائے دوجہاںصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اُمَّت کے سا تھ نمازِ تراویح میں حاضر ہوتے ہیں، اگر کوئی ان کو چھوئے یا وہ اس کو مَس کریں تووہ ایسا سعادت مند ہو جائے گا کہ اس کے بعد کبھی بدبخت نہ ہوگا۔ جب امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے یہ حدیث سنی تو ارشاد فرمایا: ہم اس فضل و اجر کے زیا دہ حق دار ہیں۔ چنانچہ آپرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے ماہِ رمضان میں لوگوں کو باجماعت نمازِ تراویح کا حکم فرمایا۔مدنی گلدستہ’’تراویح‘‘کے6حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذکورہ اور اُن کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تراویح ادا بھی فرمائی، اسے پسند بھی فرمایا اور صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو پڑھنے کا حکم بھی ارشاد فرمایا ہے ۔
(2) تراویح مرد و عورت سب کے ليے بالاجماع سُنَّتِ مُؤکَّدہ ہے اس کا ترک جائز نہیں۔
(3) ایمان اور ثواب کی نیت سے نمازتراویح پڑھنے والے کے پچھلے تمام صغیرہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔
(4) با جماعت نمازِ تراویح کا اہتمام حضرت سَیِّدُنا عمر فاروق
رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکے دور میں ہوا۔
(5) جمہور کے نزدیک تراویح کی بیس رکعتیں ہیں۔
(6) اصل تراویح سنتِ رسولُ
اﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے اور بیس رکعت پڑھنا، ہمیشہ پڑھنا، باجماعت پڑھنا سنتِ صحابہ ہے۔اﷲعَزَّوَجَلَّہمیں ماہِ رمضان میں پابندی کے ساتھ باجماعت نمازِتراویح ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1188