- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 6
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- حدیث نمبر 809
حدیث مبارکہ
عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:نَهَانَا النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنْ نَشْرَبَ فِی اٰنِيَةِ الذَّهَبِ وَالفِضَّةِ وَاَنْ نَّاْ كُلَ فِيْهَاوعَنْ لُبْسِ الْحَرِيْرِ وَالدِّيْبَاجِ واَنْ نَجْلِسَ عَلَيْهِ.
عن حذيفة رضی اللہ عنہ قال:نهانا النبي صلى الله عليه وسلم ان نشرب فی انية الذهب والفضة وان نا كل فيهاوعن لبس الحرير والديباج وان نجلس عليه.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا حذیفہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے فرماتے ہیں کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں سونے چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے ، رِیشم ودِیباج کا لباس پہننے اور اس پر بیٹھنے سے منع فرمایا۔
شرح حدیث
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ دنیا میں اُمَّتِ محمدیہ کے مَردوں کے لئے ریشمی لباس پہننامنع ہے، جو دنیا میں بغیر عذرِ شرعی جان بوجھ کر ریشمی لباس پہنے گا وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گاا وروہاں اس کا کوئی حصہ نہ ہوگا۔ ریشمی لباس تکبر کی علامت ہے ،اس میں کفار اور عورتوں سے مشابہت ہے۔مَردوں کے لئے ریشمی لباس میں خرابیاں ہی خرابیاں ہیں جبکہ اس سے بچنے میں دنیا وآخرت کی بھلائیاں ہے اور جنت میں بطورِاِنعام ریشمی لباس ملنے کی بشارت ہے۔آخرت میں ریشمی لبا س سے محرومی:مرقاۃ المفاتیح میں ہے:”جس نےدنیا میں غیرمشروع ریشمی لباس پہنا وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا ۔ یا تو اس سے مراد یہ ہے کہ جودنیا میں ریشم کو حلال سمجھ کر پہنے گا وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا یایہ فرمان زجر وتوبیخ کے لئے ہےیا یہاں جنت میں داخل ہونے سے پہلے کی مدت مراد ہے کیونکہ اہلِ جنت کالباس تو ریشم کا ہوگا۔ امام جلال الدین سیوطی شافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں : اکثر نے یہ تاویل کی ہے کہ ریشمی لباس پہننے والا سابقین فائزین کے ساتھ جنت میں داخل نہ ہوگا۔
فیض القدیرمیں ہے :جس نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا کیونکہ اس نے ایسی چیز کےحصول میں جلدی کی جس کےبعدمیں ملنے کاوعدہ تھاجیسا کہ وارث اگراپنے مُورِث کوقتل کردے تو وہ میراث سے محروم ہو جاتاہے۔( اسی طرح اس نے دنیا میں ریشم استعمال کر کےآخرت میں اپنے لئے حرام کر لیا)فرمان باری تعالیٰ ہے:﴿اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَاۚ-﴾(پ۲۶، الاحقاف:۲۰)ترجمہ ٔکنزالایمان :’’تم اپنے حصّہ کی پاک چیزیں اپنی دنیا ہی کی زندگی میں فنا کرچکے اور انہیں بَرت چکے۔‘‘اس وعید کا تقاضا تو یہی ہے کہ اسے آخرت میں ریشمی لباس نصیب ہی نہ ہواور وہ جنت میں داخل نہ ہو مگرقرآنی آیات سے یہ بات ثابت ہے کہ توبہ سے وعید زائل ہوجاتی ہیں اسی طرح نیکیاں ،مصائب پر صبر،دعا، شفاعت اور ارحم الرحمین کا عفوو کرم بھی گناہوں کو مٹا دیتا ہے کیونکہ جو ربّ سزا دینے پر قادر ہے وہ معاف کرنے پر بھی قادر ہے ۔عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:ریشم کی ممانعت عاقل بالغ مردوں کے لئے ہے اورریشم سے مراد خالص ریشم ہے، اسی طرح وہ لباس بھی اس میں شامل ہے جو ریشم سے مرکب ہو،توجس مسلمان نےریشم کی حرمت معلوم ہونے کے باوجود،جان بوجھ کر بغیر کسی مجبوری کے ریشم پہنا اور بغیر توبہ کےمر گیا تو وہ آخرت میں اسے نہ پہن سکے گاوہ اس طرح کہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّریشم کی طلب اس کے دل سے نکا ل دے گا یہ نہیں کہ وہ طلب بھی کرے اور اسے نہ دی جائے کیونکہ یہ جنت کے اکرام کے منافی ہے کہ وہاں طلب کے باوجود کوئی چیز نہ ملے۔جنتیوں کا لباس:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: جو مسلمان ناجائز ریشم پہنے وہ اولًا ہی جنت میں نہ جاسکے گا کیونکہ ریشم کا لباس ہرجنتی کو ملے گا وہاں پہنچ کر، رب تعالیٰ فرماتاہے:﴿وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ(۲۳)﴾(پ۱۷،الحج:۲۳)(ترجمہ ٔکنزالایمان:اور وہاں ان کی پوشاک ریشم ہے۔)بعض صورتوں میں اور بعض ریشم مرد کو حلال ہیں ان کے پہننے پر سزا نہیں۔ خیال رہے کہ کیڑے کا ریشم مرد کو حرام ہے،دریائی ریشم یا سن سے بنا ہوا نقلی ریشم حلال ہے کہ وہ ریشم نہیں۔ریشم پہننے والے کا کوئی حصہ نہیں:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:دنیا میں ریشم پہننے والے کاجنت کی نعمتوں میں کوئی حصہ نہیں یاآخرت کے اعتقاد میں کوئی حصہ نہیں ۔یہ کنایہ ہے جنت میں عدمِ دخول سےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے اس فرمانِ عالی کی وجہ سے کہ”جنت میں اہل جنت کا لباس ریشم کاہوگا۔“بہرحال کافر کے حق میں تویہ وعیدظاہر ہےاورمومن کےلئے ڈانٹ ڈپٹ اور ڈرانا ہے۔ریشم کی ممانعت کی وُجوہات:مَردوں کےلئے ریشمی لبا س کی ممانعت کیوں ہے؟فقہائے کرام نے اس کی کئی وجوہات بیان کی ہیں: اسراف کی وجہ سے،تکبر کی وجہ سے، عورتوں یا کفار سے مشابہت کی وجہ سے جیسا کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمان ہےکہ” کفار کے لئے ریشمی لباس دنیا میں ہے اور ہمارے لئے آخرت میں ہو گا۔“ علامہ ابنِ عربیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِینے فرمایا: صحیح یہ ہے ریشمی لباس اسراف کی وجہ سے منع ہے ۔ حضرت سَیِّدُنَا شیخ زین الدینعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْمُبِیْننےفرمایا:(ممانعت کی وجہ اسراف نہیں کیونکہ)اسراف تومردوں اور عورتوں دونوں ہی کے لئےممنوع ہےبلکہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےمردوں کوریشم پہننے سے اس لئے منع فرمایا کہ ریشمی لباس عورتوں کی زینت ہےاورعورتوں کو بناؤ سنگھارا ورزینت کی اجازت دی گئی ہے جبکہ مردوں کو عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے اور ان مَردوں پر لعنت فرمائی گئی جو عورتوں سےمشابہت اختیار کرتے ہیں۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدریشم کے استعمال سے متعلق چند اہم مسا ئل:ریشم کے استعمال سے متعلق دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب بہار شریعت ،جلد سوم،حصہ 16،صفحہ 410تا415سے کچھ مسائل پیش خدمت ہیں:(1)ریشم کے کپڑے مرد کے لیے حرام ہیں، بدن اور کپڑوں کے درمیان کوئی دوسرا کپڑا حائل ہو یا نہ ہو، دونوں صورتوں میں حرام ہیں۔(2)مَردوں کے لئے ریشم کے بچھونے پر بیٹھنا ،لیٹنا اور اس کا تکیہ لگانا بھی ممنوع ہے اگرچہ پہننے میں بہ نسبت اس کے زیادہ برائی ہے مگر درمختار میں اسے مشہور کے خلاف بتایا ہےاور ظاہر یہی ہے کہ یہ جائز ہے۔ (3) مَردوں کے لئےریشم کا لحاف اوڑھنا جائز نہیں ہے کہ یہ بھی پہننے میں داخل ہے۔ ریشم کے پردے دروازوں پر لٹکانا مکروہ ہے۔(4)عورتوں کو ریشم پہننا جائز ہے اگرچہ خالص ریشم ہو اس میں سوت کی بالکل آمیزش نہ ہو۔(5)مردوں کے کپڑوں میں ریشم کی گوٹ چار انگل تک کی جائز ہے اس سے زیادہ ناجائز، یعنی اس کی چوڑائی چار انگل تک ہو، لمبائی کا شمار نہیں۔ اسی طرح اگر کپڑے کا کنارہ ریشم سے بُنا ہو جیسا کہ بعض عمامے یا چادروں یا تہبند کے کنارے اس طرح کے ہوتے ہیں، اس کا بھی یہی حکم ہے کہ اگر چار انگل تک کا کنارہ ہو تو جائز ہے ورنہ ناجائز۔ یعنی جبکہ اس کنارہ کی بناوٹ بھی ریشم کی ہو اور اگر سوت کی بناوٹ ہو تو چار انگل سے زیادہ بھی جائز ہے۔ (6)ریشم کی مچھر دانی مردوں کے لیے بھی جائز ہے، کیونکہ اس کا استعمال پہننے میں داخل نہیں۔(7)مردوں کے لئےریشم کے کپڑے میں تعویذ سی کر گلے میں لٹکانا یا بازو پر باندھنا ناجائز ہے کہ یہ پہننے میں داخل ہے۔ (8) مَردوں کے لئے ریشم کے مُصلّے پر نماز پڑھنا حرام نہیں مگر اس پر پڑھنا نہ چاہیے۔ (9)مکان کو ریشم، چاندی، سونے سے آراستہ کرنا مثلاً دیواروں، دروازوں پر ریشمی پردے لٹکانا اور جگہ جگہ قرینہ سے سونے چاندی کے ظروف و آلات رکھنا، جس سے مقصود محض آرائش و زیبائش ہو تو کراہت ہے اور اگرتکبروتفاخر سے ایسا کرتا ہے تو ناجائز ہے۔غالباً کراہت کی وجہ یہ ہوگی کہ ایسی چیزیں اگرچہ ابتداءًتکبر سے نہ ہوں، مگربالآخر عموماً ان سے تکبر پیدا ہوجایا کرتا ہے۔(10) مردوں کے لئےریشم کا رومال ناک وغیرہ پونچھنے یا وضو کے بعد ہاتھ منہ پونچھنے کے لیے جائز ہے یعنی جبکہ اس سے پونچھنے کا کام لے، رومال کی طرح اُسے نہ رکھے اور تکبر بھی مقصود نہ ہو۔(11)نابالغ لڑکوں کو بھی ریشم کے کپڑے پہنانا حرام ہے اور گناہ پہنانے والے پر ہے۔مزید تفصیل کیلئےبہار شریعت ،جلد سوم ،حصہ 16 ،”لباس کا بیان “مطالعہ فرمائیں۔مدنی گلدستہ’’ریشم نہ پہنو‘‘ کے10حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے10مدنی پھول
(1) اُمَّتِ محمدیہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مَردوں کے لئے ریشمی لباس پہننا ناجائز وحرام ہے ۔
(2) مردوں کے کپڑوں میں ریشم کی گوٹ چار انگل تک جائز ہے اس سے زیادہ ناجائز یعنی اس کی چوڑائی چار انگل تک ہو، لمبائی کا شمار نہیں ۔
(3) دنیا میں ریشمی لباس پہننے والے کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا ۔
(4) عورتوں کے لئے ریشمی لباس جائز ہے ممانعت صرف مردوں کے لئے ہے ۔
(5) جو چیز تکبر پیدا کرے اس کے استعمال سے بچنا چاہیے کہ تکبر بہت بڑی بُرائی ہے ۔
(6) مَردوں کو زنانی وضع اختیار کرنا ناجائز وگناہ ہےلہٰذا انہیں ہراس کام سےبچنا چاہیے جو عورتوں سے مشابہت کا باعث بنے ۔
(7) اگر بچوں کو کوئی ممنوع چیز استعمال کرائی گئی تو گناہ استعمال کرانے والے پر ہو گا۔
(8) عقلمندی کا تقاضا یہی ہے کہ ہراس کام سے بچاجائے جس کی وجہ سے انگلیاں اٹھتی ہوں ۔
(9) دنیا میں ممنوعاتِ شرعیہ کے اِرتکاب سے اُخروی نعمتوں میں کمی آجاتی ہے ۔
(10) جنتیوں کا لباس ریشم کا ہوگا۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں ریشم کا لباس پہننے اور ریشم کے غیر شرعی استعمال سے بچائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 809