Main Icon

باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 986

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا يَطْرُقُ اَهْلَهُ لَيْلًا وَكَانَ يَاْتِيْهِمْ غُدْوَةً اَوْعَشِيَّةً.

عن انس رضی اللہ عنہ قال:كان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم لا يطرق اهله ليلا وكان ياتيهم غدوة اوعشية.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا اَنسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہےکہ حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسفر سے واپسی پر اپنے اہل خانہ کے پاس رات کوتشریف نہ لاتے بلکہ صبح یا شام کو تشریف لاتے ۔

شرح حدیث

رات کوگھر آنے کی ممانعت کیوں ؟ارشاد الساری میں ہے:”اس ممانعت کی ایک وجہ تویہ ہےکہ رات کو اچانک آنے کی صورت میں بسا اوقات مسافر اپنی اہلیہ کو ایسی زیب وزینت میں نہیں پاتا جو عورتوں سے مطلوب ہوتی ہےاور یہ بات دونوں کے مابین نفرت کاباعث بن سکتی ہے۔دوسری وجہ یہ ہےکہ شریعت کو پردہ پوشی مطلوب ہے ہوسکتا ہے رات کو اچانک آنے کی صور ت میں وہ اہلِ خانہ کو کسی ناپسندیدہ حالت میں پائے اس لئے رات کو آنے سے منع فرمایا گیا ۔“مرآۃ المناجیح میں ہے:بغیر اِطلاع اچانک رات میں مسافر کا گھر پہنچنا گھر والوں کی تکلیف کا باعث ہوتا ہے اور اُس زمانہ میں خبر رسانی کے ذرائع بہت محدود تھے۔ اب تو خط،تار، ٹیلی فون وغیرہ سے خبر دی جاسکتی ہے۔حضور(صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کی مدینہ منورہ میں آمدیاصبح کے وقت ہوتی تھی یا بعدِ ظہر۔اطلا ع دے کررات کو گھرآنا:مرقاۃ المفاتیح میں ہے:’’مسافر کو رات کے وقت گھر آنے کی ممانعت اس وقت ہے جب طویل عرصہ کےبعد سفرسے لوٹا ہو۔ اگر کچھ دن کے بعد ہی واپس آگیا تو رات کو آنے کی ممانعت نہیں ۔ اسی طرح اگر کسی بڑے لشکر یاقافلے کے ساتھ سفر پر گیاجس کی آمد کی اطلاع اہلِ خانہ کے پاس پہنچ گئی ہوتو پھررات کوگھر آنے میں کوئی حرج نہیں۔مگر پھر بھی بہتر یہ ہے کہ دستک دے کر جواب ملنے پر گھرمیں جائے۔‘‘مدنی گلدستہ’’ عَرفات ‘‘کے5حروف کی نسبت سے اَحادیث مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) مسافر بغیر اطلاع رات کو گھر نہ آئے کہ اس سے اہلِ خانہ کو پریشانی ہوتی ہے ۔
(2) بہتر یہ ہے کہ اہلِ خانہ کو سفر سے واپسی کی اطلاع کردی جائے تاکہ انہیں تیاری کا موقع مل جائے اور گھر جاکر کسی ناپسندیدہ بات کاسامنا نہ کرنا پڑے ۔
(3) نبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ہر ہر سنت میں بے شمارحکمتیں اور دنیا وآخرت کی بھلائیاں ہیں۔ اس لئے بِلاتَرَدُّد سنتوں پر عمل کرنا چاہیے،شک یا مخالفت سے بہرصورت بچنا چاہیے ورنہ دنیا وآخرت تباہ ہوسکتی ہے۔
(4) شریعتِ اِسلامیہ کو مسلمانوں کی پردہ پوشی مطلوب ہے لہٰذا مسلمانوں کو ہر ایسے کام سے بچنا چاہیے جس سے کسی کے عیوب دوسروں پر ظاہر ہوتے ہوں ۔
(5) سفر سے واپسی صبح یا شام کو ہونی چاہیے کہ ہمارے پیارے آقا ،مدینے والے مصطفےٰ
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سفر سے واپسی بھی صبح یا شام کو ہوا کرتی تھی ۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں رات کو سفر سے واپس گھر آنے سےپہلے گھر والوں کو اطلاع کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 986