Main Icon

باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 812

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي الْمَلِيْحِ عَنْ اَبِيْهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نَهٰى عَنْ جُلُودِ السِّبَاعِ. وَفِيْ رِوَايَةِ التِّرْمِذِي:نَهٰى عنْ جُلُودِ السِّبَاعِ اَنْ تُفْتَرَشَ.

عن ابي المليح عن ابيه رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن جلود السباع. وفي رواية الترمذي:نهى عن جلود السباع ان تفترش.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنااَبُو الْمَلِیحاپنے والد(اُسامہ بن عمیر)رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کرتے ہیں کہ حضورنبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے درندوں کی کھال(پر بیٹھنے)سے منع فرمایا۔ترمذی کی ایک روایت میں ہے :درندوں کی کھال نیچے بچھانے سے منع فرمایا۔

شرح حدیث

متکبرین کی سواریاں:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ احادیث میں ریشم کے کپڑے اور چیتے یعنی درندوں کی کھال کو سواری یعنی گھوڑے ،اونٹ وغیرہ کی پیٹھ پر رکھ کر اس پر سوار ہونے یا ان کو زمین پر بچھا کر ان پر بیٹھنے کی ممانعت کا ذکر ہے اس کی وجہِ ممانعت ذکر کرتے ہوئےعَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:”نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے درندوں کی کھال پر بیٹھنے سے منع فرمایا۔ ‘‘امامبیہقی رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:شاید ممانعت اس وجہ سے ہے کہ درندوں کی کھال میں دَبَاغَتْ ٹھیک طرح سے نہیں ہوتی اور کھال پر بال وغیرہ باقی رہ جاتے ہیں۔بعض حضرات نے کہا: ممانعت اس کھال کے بارے میں ہے جس کی دَبَاغَتْ ہی نہ ہوئی ہو یا یہ کہ یہ متکبرین اور اسراف کرنے والوں کی سواریاں ہیں(یعنی متکبر اور اسراف کرنے والے لوگ اپنی سواری پر درندوں کی کھال بچھا کر سوار ہوتے ہیں)اس وجہ سے منع ہے۔درندوں کی کھال پر بیٹھنے سے تکبر پیدا ہوتا ہے :مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: گھوڑے کی کاٹھی پر ریشمی گدیلہ یا چیتے کی کھال ڈال کر اس پر سوار نہ ہو،درندوں جانوروں کی کھالوں کو پہننے یا بچھانے سے دل میں تکبر پیدا ہوتا ہے جیسے ہرن کی کھال پر بیٹھنے یا اسے پہننے سے نامردی پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔بعض شارحین نےنَمَارکےمعنی کیے ہیں دھاری دار کمبل مگر یہ قوی نہیں کیونکہ دھاری دار کمبل بچھانا ممنوع نہیں۔بکری کی کھال پر بیٹھنا:دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1250صَفحات پرمشتمل کتاب’’بہارِ شریعت‘‘جلد اوّل ،صفحہ402 پرہے:’’درندے کی کھال اگرچِہ پکالی گئی ہو(یعنی دباغت کر کے اسے سکھا لیا گیا ہو ) نہ اس پر بیٹھنا چاہیے نہ نمازپڑھنی چاہیے کہ مزاج میں سختی اورتکبُّر پیدا ہوتا ہے،بکری (بکرا) اور مَینڈھے کی کھال پر بیٹھنے اور پہننے سے مِزاج میں نرمی اور اِنکسار پیدا ہوتا ہے۔‘‘اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّشیخِ طریقت،امیرِ اہلسنّت،بانئ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطاؔرقادری رضوی ضیائیدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہاپنے بیٹھنے کی جگہ پر عُمُوماًبکری کی خشک کی ہوئی کھال بچھانے کا اہتمام فرماتے ہیں بلکہ بیان کے دوران بھی اکثر اوقات آپ کی جگہ پربکری کی کھال بچھی ہوتی ہے ۔مدنی گلدستہ’’مدینہ ‘‘کے5حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) ریشم کے کپڑے اور درندوں کی کھال پر بیٹھنے سے منع کیا گیا ہے ۔
(2) درندوں کی کھال سواری پر رکھ کر یا زمین پر بچھا کر استعمال کرنے سے دل میں تکبر پیدا ہوتا ہے ، یہ متکبر اورفضول خرچ لوگوں کا طریقہ ہے ۔
(3) ہرن کی کھال پر بیٹھنے یا اسے پہننے سے نامردی پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
(4) بکری اور مینڈھے کی کھال پر بیٹھنے اور پہننے سے مزاج میں نرمی اور انکساری پیدا ہوتی ہے۔
(5) درندے کی کھال اگرچِہ دباغت کر کے سکھا لی گئی ہو نہ اس پر بیٹھنا چاہیے نہ نمازپڑھنی چاہیے کہ مزاج میں سختی اورتکبُّر پیدا ہوتا ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں درندے کی کھال اور ریشم پر بیٹھنے سے بچائے اور ہمیں نرم مزاجی و انکساری کی دولت نصیب فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 812