Main Icon

سفارش کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 247

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قِصَّةِ بَرِيْرَةَ وَزَوْجِهَا قَالَ: قَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ رَاجَعْتِهِ قَالَتْ: يَا رَسُوْلَ اللَّهِ تَاْمُرُنِيْ؟ قَالَ:اِنَّمَا اَشْفَعُ قَالَتْ:لَا حَاجَةَ لِيْ فِيْهِ.( )

عن ابن عباس رضي الله عنهما في قصة بريرة وزوجها قال: قال لها النبي صلى الله عليه وسلم لو راجعته قالت: يا رسول الله تامرني؟ قال:انما اشفع قالت:لا حاجة لي فيه.( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے حضرت سیدتنا بریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اور اُن کے شوہر کے واقعے کے بارے میں مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدتنا بریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے فرمایا : “ کاش تم اپنے سابقہ شوہر کی طرف رُجوع کرلیتیں۔ “ حضرت سیدتنا بریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے عرض کی : “ یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !کیا آپ مجھے حکم ارشاد فرما رہے ہیں؟ “ فرمایا : “ میں تو سفارش کر رہا ہوں۔ “ حضرت سیدتنا بریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے عرض کی : “ مجھے اُن کی ضرورت نہیں۔ “

شرح حدیث

حدیث پاک کا پس منظر:حضرت سیدتنا بریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اور آپ کے شوہر کا واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ حضرت سیدتنا بریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ایک انصاری کی باندی تھیں ، آپ کے شوہر کا نام مغیث تھا ، یہ بنی مطیع میں سے کسی کے غلام تھے ، مغیث شکل وصورت کےاعتبار سے خوبصورت نہ تھے۔ حضرت سیدتنا بریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو اُمّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے خرید کر آازاد کردیا ۔ یہ شرعی قاعدہ ہے کہ

جب کسی باندی کو آزاد کیا جاتا ہے تو اسے اختیار دے دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے شوہر جس کے نکاح میں وہ غلامی میں تھی اُسی کے نکاح میں رہے یا پھر اُسے چھوڑ دے ، اُسے خیارِ عتق کہتے ہیں۔ جب حضرت سیدتنا بریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکو خیارِ عتق ملا تو انہوں نے اپنے شوہر مغیث کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا ۔ جب اُن کے شوہر مغیث کو معلوم ہوا تو وہ بہت غمگین ہوئے۔ بعد ازاں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدتنا بریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے سفارش کی کہ وہ اپنے شوہر سے رجوع کرلیں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدتنا بریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے جو سفارش کی اُس کی حکمت بیان کرتے ہوئے مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’یعنی تمہارے لیے ثواب اور دِین و دُنیا کی بہتری اس میں ہے کہ تم نکاح فسخ نہ کرو اور اپنا حق فسخ استعمال نہ کرو۔ ‘‘( )
حدیث پاک سے حاصل ہونے والے فوائد:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں کہ اِس حدیث سے چند فوائد حاصل ہوئے : (1) حاکِم ، عالِم یا خلیفہ وقت کا رِیاعا کی ضرورت کے لیے سفارش کرنا جائز ہے۔ (2)حاکِم یا امام پر کوئی حرج نہیں کہ وہ فریقین میں سے جس فریق کا حق ثابت ہوچکا ہے اُس سے درخواست کرے کہ وہ اپنا حق وصول کرنے میں تاخیر کرے یا دوسرے فریق کے لیے اپنا حق چھوڑدے۔ (3) اگر کسی شخص سے ایسا کام کرنے کو کہا جائے جس کا کرنا اُس پر واجب نہیں تو اُس کے لیے جائز ہے کہ وہ سوال کرنے والے کو منع کردے خواہ درخواست گزار حاکِم ، عالِم یا کوئی اور مُعَزز ہستی ہوکیونکہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدتنا بریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو کچھ نہ کہا جب انہوں نے آپ کی سفارش کو قبول نہ کیا ۔ (4) (نکاح اور شادی وغیرہ کے معاملے میں)کسی مسلمان کو اُس کی بد صورتی ، بُرے اَخلاق یا کسی ایسی چیز کی وجہ سے طبعی طور پرناپسند کرنا جائز ہے جس سے عموماً لوگ نفرت کرتے ہیں ۔ ( )

رسولُ اللہ
کے حکم اور سفارش میں فرق ہے:مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک سے چند مسئلے معلوم ہوئے : (1)ایک یہ کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے کسی اُمَّتی کی شفاعت دوسرے اُمَّتی سے کرسکتے ہیں۔ (2) دوسرے یہ کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم اور سفارش میں فرق ہے۔ (3)تیسرے یہ کہ حکمِ رسول ماننا لازم ہے سفارشِ رسول ماننا واجب نہیں بلکہ اُمَّتی کو اختیار ہے جیسے نبی کی رائے کہ اِس کا بھی یہ ہی حکم ہے۔ ‘‘( )مدنی گلدستہ
’’شفاعت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)حاکِم اپنی رعایا کے لیے جائز سفارش کرسکتا ہے۔
(2)حاکِم کا فریقین میں سے ایک فریق سے دوسرے فریق کے لیے سفارش کرنا جائز ہے۔
(3)معزز ہستی کی طرف سے کی گئی سفارش کو قبول کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہے۔
(4)نکاح اور شادی وغیرہ کے معاملات میں کسی ظاہری عیب کی وجہ سے دوسرے کو پسند نہ کرنے کی شرعی طورپر ممانعت نہیں ہے۔
(5)حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم اور سفارش میں فرق ہے ، آپ کے حکم کی اِتباع کرنا اس پر عمل کرنا ضروری ہے جبکہ سفارش پر عمل کرنا مستحب ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کے حق میں فقط جائز سفارشات کرنے اور ناجائز سفارشات سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 247