Main Icon

باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1145

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:اَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ وَهَوَ فِي الْمَسْجِدِفَقَالَ:صَلِّ رَكْعَتَيْنِ.

عن جابر رضي الله عنه قال:اتيت النبي صلى الله عليه وسلم وهو في المسجدفقال:صل ركعتين.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناجابررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوا ۔آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسجد میں تشریف فرما تھے فرمایا:”دو رکعتیں پڑھ لو۔“

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ہم جب بھی مسجد میں داخل ہوں اور مکروہ وقت نہ ہو اور نہ ہی وقت میں تنگی ہو تو دو رکعت تحیۃ المسجد ادا کر لینی چاہیے مذکورہ دونوں احادیثِ مبارکہ میں تحیۃ المسجد پڑھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:یہ نفل تحیۃ المسجدہیں جومسجدمیں داخلے کے وقت پڑھے جاتے ہیں جب کہ وقتِ کراہت نہ ہو،لہٰذا فجر اور مغرب کے سواباقی نمازوں میں یہ نفل پڑھنا مستحب ہے۔خیال رہے کہ یہ حکم عام مسجدوں کے لیےہے، مسجدِحرام کے لیےبجائے ان نوافل کے طواف بہتر ہے اور یہ حکم غیرخطیب کے لئےہے،خطیب جمعہ کے دن مسجد میں آتے ہی خطبہ پڑھے گا۔تحیۃ المسجد کے بعض اَحکام :*جو شخص مسجد میں آئے اُسے دو رکعت نماز پڑھنا سنت ہے بلکہ بہتر یہ ہے کہ چار پڑھے۔
*ایسے وقت مسجد میں آیا جس میں نفل نماز مکروہ ہے مثلاً بعد طلوع فجر یا بعد نمازِ عصر (کہ عصر پڑھ چکا ہے اور اب مسجد میں آیا تو)وہ تحیۃ المسجد نہ پڑھے بلکہ تسبیح و تہلیل و درود شریف میں مشغول ہو حقِ مسجد ادا ہو جائے گا۔
*فرض یا سنت یا کوئی نماز مسجد میں پڑھ لی تحیۃ المسجد ادا ہوگئی اگرچہ تحیۃ المسجد کی نیت نہ کی ہو۔
* اس نماز کا حکم اس کے ليے ہے جو بہ نیتِ نماز نہ گیا بلکہ درس و ذکر وغیرہ کے ليے گیا ہو۔
*اگر فرض یا اقتدا کی نیت سے مسجد میں گیا تو یہی قائم مقام تحیۃ المسجد ہےبشرطیکہ داخل ہونے کے بعد ہی پڑھے اور اگر عرصہ کے بعد پڑھے گا تو تحیۃ المسجد پڑھے۔
*بہتر یہ ہے کہ بیٹھنے سے پہلے تحیۃ المسجد پڑھ لے اور بغیر پڑھے بیٹھ گیا توساقط نہ ہوئی اب پڑھے۔
*ہر روز ایک بار تحیۃ المسجد کافی ہے ہر بار ضرورت نہیں اور اگر کوئی شخص بے وضو مسجد میں گیا یا اور کوئی وجہ ہے کہ تحیۃ المسجد نہیں پڑھ سکتا تو چار بار
سُبْحَانَ اﷲ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَا اِلٰـہَ اِلَّا اﷲ وَاﷲ اَکْبَرْکہے۔ علامہ ابنِ کمال پاشا حنفیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:” معلوم ہوا کہ مسجد میں داخل ہونے کے بعد تحیۃ المسجد کی دو رکعتیں پڑھنا مستحب ہےاور تحیۃ المسجد کے سنت ہونے پر اجماع ہے۔تحیۃ المسجد پڑھے بغیر مسجد میں بیٹھ جانا مکروہِ تنزیہی ہے۔مسجدِ حرام میں داخل ہونے والا حاجی طوافِ قدوم سے ابتدا کرے گا اور یہی اس کے لئے تحیۃ المسجد ہےاور اس کے بعد طواف کی دورکعتیں پڑھے۔مسجدِ نبوی میں داخل ہونے والا پہلے تحیۃ المسجد ادا کرے پھر بارگاہِ رسالت میں سلام کے لئے حاضر ہو۔مدنی گلدستہ’’مُسْتَحَب‘‘کے5حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) جب بھی مسجد میں داخل ہوں اور مکروہ وقت نہ ہوتو دو رکعت تحیۃ المسجد ادا کر لینی چاہیے۔
(2) فرض یا سنت یا کوئی نماز مسجد میں داخل ہوتے پڑھ لی تو تحیۃ المسجد ادا ہوگئی اگرچہ تحیۃ المسجد کی نیت نہ کی ہو۔
(3) ہر روز ایک بار تحیۃ المسجد کافی ہے ہر بار ضرورت نہیں۔
(4) اگر کوئی شخص بے وضو مسجد میں گیا یا اور کوئی وجہ ہے کہ تحیۃ المسجد نہیں پڑھ سکتا تو وہ چار بار
سُبْحَانَ اﷲ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَا اِلٰـہَ اِلَّا اﷲ وَاﷲ اَکْبَرْکہے۔
(5) تحیۃ المسجد پڑھے بغیر مسجد میں بیٹھ جانا مکروہِ تنزیہی ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں تحیۃ المسجد کی نماز پابندی سے ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1145