Main Icon

باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1127

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَن ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ الله عَنْهُمَا اَنَّ النَّبيَّ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ كَانَ لَا يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَنْصَرِفَ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ في بَيْتِهِ.

عن ابن عمر رضي الله عنهما ان النبي صلی اﷲ علیہ و سلم كان لا يصلي بعد الجمعة حتى ينصرف فيصلي ركعتين في بيته.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابنِ عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاسےمروی ہےکہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنمازِ جمعہ کے بعد نماز نہ پڑھتے، ہاں! کاشانۂ اقدس میں جاکر دو رکعتیں ادا فرمایا کرتے۔“

شرح حدیث

جمعہ کے بعدکتنی رکعتیں سنت ہیں؟نمازِ جمعہ کے بعد کتنی رکعتیںسنّتِ مُؤ کَّدہہیں؟اس میں فقہائے کرامرَحِمَہُمُ اﷲ السَّلَامکا اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک چھ رکعتیں سنتِ موکدہ ہیں بعض کے نزدیک چار۔احوط ومختار یہ ہےکہ جمعہ کے بعد چھ رکعتیںسنتِ مُؤکَّدہہیں،البتہ چار رکعتوں کی دو سے زیادہ تاکید ہےاور جمعہ کی سنتیں اس ترتیب سے پڑھی جائیں گی:چار رکعت جمعہ کے فرضوں سے پہلے، چار بعد میں اور پھر دومزید ۔
چنانچہ امام اہلسنت،سرکارِ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانسے جب جمعہ کی سنتوں کی تعداد کے بارے میں سوال ہوا تو آپرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہنےجواباً ارشاد فرمایا:”دس سنتیں ہیں، چار پہلے چار بعداوردو بعد کو اور، بعدِ جمعہ چھ سنتیں ہوناہیحدیثًا و فِقہًا اَ ثْبَت و اَحْوَط مختار ہے اگر چہ چار کہ ہمارے ائمہ میںمُتَّفَق عَلَیْہہیں ان دو سےمُؤَکَّدتر ہیں۔“
مرآۃ المناجیح میں ہے:”بعدِ جمعہ چارسنتیں بالا تفاق مؤکدہ ہیں اور دو کے مؤکدہ ہونے میں اختلاف ہے۔تمام علما کا اِس پر اتفاق ہے کہ بعدِ جمعہ چار سنتیں پہلے پڑھےدو بعد میں تاکہ فرض اورسنتِ مؤکدہ میں فاصلہ ہوجائے۔حضور
صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَکے اَعمال مختلف رہے ہیں کبھی کسی طرح ادا فرمائیں کبھی کسی طرح، لہٰذاجائز ہرطرح ہیں صرف بہتر ہونے میں اختلاف ہے۔“مدنی گلدستہ’’اﷲ‘ ‘کے 4حروف کی نسبت سے مذکورہ احادیث اور ان کی وضاحت سے ملنے 4 مدنی پھول
(1) حضورنبی کریم،رَءُوْفٌ رَّحیم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنماز کے بعد خو د بھی سنتیں ادا فرماتے اور اپنے غلاموں کو بھی ان کی ادائیگی کا حکم ارشاد فرماتے۔
(2) جمعہ کے دن جمعہ کے فرضوں کے علاوہ بارہ رکعتیں مزید پڑھی جاتی ہیں۔جن میں سے فرضوں سے پہلے چار سنتیں، فرضوں کے بعدچار سنتیں، پھر دو سنتیں اور پھر دو نفل ۔
(3) جمعہ کی سنتیں اِس ترتیب سے پڑھی جائیں گی، چار رکعت جمعہ کے فرضوں سے قبل، پھر چار رکعت فرضوں کے بعد اور پھر دو رکعت ۔
(4) جمعہ کے بعد چار رکعت بالاتفاق سنت ہیں اور اَحوط ومختار یہ ہےکہ چھ رکعتیں ہیں،البتہ چاررکعت دوسے زیادہ مُؤکّدہ ہیں ۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں جمعۃ المبارک کی سنتیں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1127