- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- کتاب الزکاۃ
- حدیث نمبر 43
بھیک مانگنا کیسا - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 43
کتاب الزکاۃ
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
’’عَنْ عَبْدِ اللّٰہ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا یَزَالُ الرَّجُلُ یَسْأَلُ النَّاسَ حَتَّی یَأْتِیَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَیْسَ فِی وَجْہِہِ مُضْغَۃُ لَحْمٍ۔
حدیث 2:
’’ عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَأَنْ یَأْخُذَ أَحَدُکُمْ حَبْلَہُ فَیَأْتِیَ بِحُزْمَۃِ الْحَطَبِ عَلَی ظَہْرِہِ فَیَبِیعَہَا فَیَکُفَّ اللّٰہ بِہَا وَجْہَہُ خَیْرٌ لَہُ مِنْ أَنْ یَسْأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْہُ أَوْ مَنَعُوہُ‘‘۔
حدیث 3:
’’ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ وَہُوَ یَذْکُرُ الصَّدَقَۃَ وَالتَّعَفُّفَ عَنِ الْمَسْأَلَۃِ۔ اَلْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌ مِنَ الْیَدِ السُّفْلَی وَالْیَدُ الْعُلْیَا ہِیَ الْمُنْفِقَۃُ وَالسُّفْلَی ہِیَ السَّاءِلَۃُ ‘‘۔
حدیث 4:
’’ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَسَاءِلُ کُدُوحٌ یَکْدَحُ بِہَا الرَّجُلُ وَجْہَہُ فَمَنْ شَاءَ أَبْقَی عَلَی وَجْہِہِ وَمَنْ شَاء تَرَکَہُ إِلَّا أَنْ یَسْأَلَ الرَّجُلُ ذَا سُلْطَانٍ أَوْ فِی أَمْرٍ لَا یَجِدُ مِنْہُ بُدًّا‘‘۔ (ابوداود، ترمذی)
حدیث 5:
’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَہُمْ تَکَثُّرًا فَإِنَّمَا یَسْأَلُ جَمْرًا فَلْیَسْتَقِلَّ أَوْ لِیَسْتَکْثِرْ‘‘۔
حدیث 1:
’’عن عبد اللہ بن عمر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما یزال الرجل یسال الناس حتی یاتی یوم القیامۃ لیس فی وجہہ مضغۃ لحم۔
حدیث 2:
’’ عن الزبیر بن العوام قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لان یاخذ احدکم حبلہ فیاتی بحزمۃ الحطب علی ظہرہ فیبیعہا فیکف اللہ بہا وجہہ خیر لہ من ان یسال الناس اعطوہ او منعوہ‘‘۔
حدیث 3:
’’ عن ابن عمر ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال وہو یذکر الصدقۃ والتعفف عن المسالۃ۔ الید العلیا خیر من الید السفلی والید العلیا ہی المنفقۃ والسفلی ہی الساءلۃ ‘‘۔
حدیث 4:
’’ عن سمرۃ بن جندب قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم المساءل کدوح یکدح بہا الرجل وجہہ فمن شاء ابقی علی وجہہ ومن شاء ترکہ إلا ان یسال الرجل ذا سلطان او فی امر لا یجد منہ بدا‘‘۔ (ابوداود، ترمذی)
حدیث 5:
’’عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من سال الناس اموالہم تکثرا فإنما یسال جمرا فلیستقل او لیستکثر‘‘۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث 1:حضرت عبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمانے کہا کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ آدمی ہمیشہ لوگوں سے بھیک مانگتا رہے گا یہاں تک کہ قیامت کے دن وہ اس حالت میں آئے گا کہ اس کے منہ پر گوشت کی بوٹی نہ ہوگی۔ یعنی نہایت بے آبرو ہو کر آئے گا۔ (بخاری، مسلم)ترجمہ حدیث 2:حضرت زبیر بن عوامرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورعلیہ الصلوۃو السلامنے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص اپنی رسی لے اور لکڑیوں کا ایک گٹھا پیٹھ پر لاد کر لائے اوران کو بیچے اوراللّٰہتعالیٰ بھیک مانگنے کی لذت سے اس کے چہرے کو بچائے تو یہ بہتر ہے اس بات سے کہ لوگوں سے بھیک مانگے ۔ اور وہ ا س کو دیں یا نہ دیں۔ (بخاری)ترجمہ حدیث 3:حضرت ابن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْممنبر پر تشریف فرما تھے ۔ صدقہ کا اور بھیک مانگنے سے بچنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے ۔ اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ۔ (بخاری، مسلم)ترجمہ حدیث 4:حضرت سمرہ بن جندبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ بھیک مانگنا ایک قسم کی خراش ہے کہ آدمی بھیک مانگ کر اپنے منہ کو نوچتا ہے تو جو چاہے اپنے منہ پر اس خراش کو نمایاں کرے اور جو چاہے اس سے اپنا چہرہ محفوظ رکھے ۔ ہاں اگر آدمی صاحبِ سلطنت سے اپنا حق مانگے یا ایسے امر میں سوال کرے کہ اس سے چارہ کا ر نہ ہو تو جائز ہے ۔ (ابوداود، ترمذی)ترجمہ حدیث 5:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورﷺنے فرمایا کہ جو شخص مال بڑھانے کے لیے لوگوں سے بھیک مانگتا ہے وہ گویا انگارہ مانگتا ہے توا س کو اختیار ہے کہ بہت مانگے یا کم مانگے ۔ (مسلم)
شرح حدیث
انتباہ :(۱)… آج کل بہت سے لوگوں نے بھیک مانگنا اپنا پیشہ بنالیا ہے ۔ گھر میں ہزاروں روپے ہیں۔ ہل بیل والے ہیں کھیتی کرتے ہیں مگر بھیک مانگنا نہیں چھوڑتے ۔ حالانکہ ایسے لوگوں کو بھیک مانگنا حرام ہے ۔ اور ان کو بھیک دینے والے گنہ گار ہوتے ہیں: ’’لِأَنَّ اللّٰہتَعَالَی قَالَ فِی الْقُرْآنِ الْمَجِیْدِ{لا تَعَاوَنُوا عَلَی الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِِِ}‘‘(پارہ۶،رکوع۵)۔
(۲)…ڈھول، ہارمونیم، سارنگی بجانے والوں اور گانے والوں کو بھیک دینا منع ہے ۔
اشعۃ اللمعات جلد دوم ص:۳۰ میں ہے : ’’بناید داد سائلے را کہ طبل زدہ برور ہامی گردد ومطرب راکہ از ہمہ افحش ست‘‘۔ ([1])
(۳)…آج کل اکثر لوگ اندھے ، لولے ، لنگڑے ، اپاہج کو بھیک نہیں دیتے اور گانے والی، جوان نامحرم عورتوں سے گانا سنتے اور انہیں بھیک دیتے ہیں یہ سخت ناجائز اور حرام ہے ۔
------------------
∞[1] ’’اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب الزکاۃ،باب من لا تحل لہ المسئلۃ ومن تحل لہ،ج۲،ص۳۱.
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 43