- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- کتاب الحج
- حدیث نمبر 49
حج کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 49
کتاب الحج
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
’’ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَا أَیُّہَا النَّاسُ اِنَّ اللّٰہ کَتَبَ عَلَیْکُمُ الْحَجَّ فَقَامَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ أَفِی کُلِّ عَامٍ یَا رَسُولَ اللّٰہ قَالَ لَوْ قُلْتُہَا نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَعْمَلُوا بِہَا وَلَمْ تَسْتَطِیعُوا وَالْحَجُّ مَرَّۃٌ فَمَنْ زَادَ فَتَطَوُّعٌ‘‘۔
حدیث 2:
’’عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْیَتَعَجَّلْ‘‘۔
حدیث 3:
’’عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَابِعُوا بَیْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ فَإِنَّہُمَا یَنْفِیَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ کَمَا یَنْفِی الْکِیرُ خَبَثَ الْحَدِیدِ وَالذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ وَلَیْسَ لِلْحَجَّۃِ الْمَبْرُورَۃِ ثَوَابٌ إِلَّا الْجَنَّۃُ‘‘۔
حدیث 4:
’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ خَرَجَ حَاجًّا أَوْ غَازِیًا ثُمَّ مَاتَ فِی طَرِیْقِہِ کَتَبَ اللّٰہ لَہُ أَجْرَ الْغَازِیِّ وَالْحَاجِّ وَالْمُعْتَمِرِ‘‘۔
حدیث 5:
’’ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ عُمْرَۃ فِی رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّۃً‘‘۔
حدیث 6:
’’عَنْ أَبِی رَزِینٍ الْعُقَیْلِیِّ أَنَّہُ أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللّٰہ إِنَّ أَبِی شَیْخٌ کَبِیرٌ لَا یَسْتَطِیعُ الْحَجَّ وَلَا الْعُمْرَۃَوَلَا الظَّعْنَ قَالَ حُجَّ عَنْ أَبِیکَ وَاعْتَمِرْ‘‘۔ (ترمذی، ابوداود)
حدیث 7:
’’ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَتَی رَجُلٌ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أُخْتِی نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ وَإِنَّہَا مَاتَتْ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَوْ کَانَ عَلَیْہَا دَیْنٌ أَکُنْتَ قَاضِیَہُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاقْضِ دَیْنَ اللّٰہ فَہُوَ أَحَقُّ بِالْقَضَاء‘‘۔
حدیث 8:
’’ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تُسَافِرَنَّ امْرَأَۃٌ إِلَّا وَمَعَہَا مَحْرَمٌ ‘‘۔ (بخاری، مسلم)
حدیث 9:
’’ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ مَلَکَ زَادًا وَرَاحِلَۃً تُبَلِّغُہُ إِلَی بَیْتِ اللّٰہ وَلَمْ یَحُجَّ فَلاعَلَیْہِ أَنْ یَمُوتَ یَہُودِیًّا أَوْ نَصْرَانِیًّا وَذَلِکَ أَنَّ اللّٰہ تَعَالَی یَقُولُ: { وَ لِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْهِ سَبِیْلًاؕ-}(پارہ ۴، رکوع۱)۔ (ترمذی)
حدیث 1:
’’ عن ابن عباس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا ایہا الناس ان اللہ کتب علیکم الحج فقام الاقرع بن حابس افی کل عام یا رسول اللہ قال لو قلتہا نعم لوجبت ولو وجبت لم تعملوا بہا ولم تستطیعوا والحج مرۃ فمن زاد فتطوع‘‘۔
حدیث 2:
’’عن ابن عباس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من اراد الحج فلیتعجل‘‘۔
حدیث 3:
’’عن ابن مسعود قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تابعوا بین الحج والعمرۃ فإنہما ینفیان الفقر والذنوب کما ینفی الکیر خبث الحدید والذہب والفضۃ ولیس للحجۃ المبرورۃ ثواب إلا الجنۃ‘‘۔
حدیث 4:
’’عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من خرج حاجا او غازیا ثم مات فی طریقہ کتب اللہ لہ اجر الغازی والحاج والمعتمر‘‘۔
حدیث 5:
’’ عن ابن عباس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان عمرۃ فی رمضان تعدل حجۃ‘‘۔
حدیث 6:
’’عن ابی رزین العقیلی انہ اتی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال یا رسول اللہ إن ابی شیخ کبیر لا یستطیع الحج ولا العمرۃولا الظعن قال حج عن ابیک واعتمر‘‘۔ (ترمذی، ابوداود)
حدیث 7:
’’ عن ابن عباس قال اتی رجل النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال إن اختی نذرت ان تحج وإنہا ماتت فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم لو کان علیہا دین اکنت قاضیہ قال نعم قال فاقض دین اللہ فہو احق بالقضاء‘‘۔
حدیث 8:
’’ عن ابن عباس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا تسافرن امراۃ إلا ومعہا محرم ‘‘۔ (بخاری، مسلم)
حدیث 9:
’’ عن علی قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من ملک زادا وراحلۃ تبلغہ إلی بیت اللہ ولم یحج فلاعلیہ ان یموت یہودیا او نصرانیا وذلک ان اللہ تعالی یقول: { و لله على الناس حج البیت من استطاع الیه سبیلا-}(پارہ ۴، رکوع۱)۔ (ترمذی)
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث 1:حضرت ابن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمانے کہا کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ اے لوگو! خدا نے تم پر حج فرض کیا ہے ۔ اقرع بن حابسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کھڑے ہو کر عرض کیا یارسولاللّٰہ! کیا ہر سال حج فرض ہے ؟ فرمایا اگر میں ہاں کردوں تو ہر سال حج فرض ہوجائے اور اگر ہر سال فرض ہوجائے تو تم اسے ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ۔ اس لیے حج پوری زندگی میں صرف ایک مرتبہ فرض ہے اور جو شخص اس سے زیادہ کرے وہ نفل ہے ۔ (احمد ، نسائی، دارمی، مشکوۃ)ترجمہ حدیث 2:حضرت ابنِ عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما نے کہا کہ رسولِ کریمﷺنے فرمایا کہ جو شخص حج کا ارادہ کرے تو پھر جلد اس کو پورا کرے ۔ (ابوداود، دارمی)ترجمہ حدیث 3:حضرت ابن مسعودرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ نبی کریمﷺنے فرمایا کہ حج اور عمرہ کو یکے بعد دیگرے ادا کرو( یعنی قِران کا احرام باندھو یا بالفعل دونوں کو متصلاًکرو) اس لیے کہ یہ دونوں افلاس ا ور گناہوں کو اس طرح دور کردیتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے چاندی اور سونے کی میل کو دور کردیتی ہے ۔ اور حج مقبول کا بدلہ صرف جنت ہے ۔ (ترمذی، نسائی)ترجمہ حدیث 4:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا حضورﷺنے فرمایا کہ جو شخص حج یا عمرہ یا جہاد کے ارادہ سے نکلا اور پھر راستہ ہی میں مرگیا تواللّٰہتعالیٰ اس کے حق میں ہمیشہ کے لیے مجاہد، حاجی اور عمرہ کرنے والے کا ثواب لکھ دیتا ہے ۔ (بیہقی، مشکوۃ)ترجمہ حدیث 5:حضرت ابن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما نے کہا کہ رسولِ کریمعلیہ الصلاۃ والتسلیمنے فرمایا کہ رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے ۔ترجمہ حدیث 6:حضرت ابو رزین عقیلیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ وہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضرہوئے اور عرض کیا یارسولاللّٰہ! میرا بوڑھا باپ اتنا کمزور ہے کہ حج و عمرہ کی طاقت نہیں رکھتا اور نہ سواری پر سفر کرنے کی اس میں قوت ہے آپ نے فرمایا تو اپنے باپ کی طرف سے حج و عمرہ کرلے ۔ترجمہ حدیث 7:حضرت ابن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما نے فرمایا کہ حضورﷺکی خدمت میں ایک شخص نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ میری بہن نے حج کی نذر مانی تھی(اورنذرپوری کرنے سے پہلے )وہ مرگئی۔ آپ نے فرمایا اگر اس پر قرض ہوتا تو کیا اس کو ادا کرتا؟ اس نے عرض کیا ہاں، آپ نے فرمایا تو پھر خدائے تعالیٰ کا قرض بھی ادا کرکہ اس کا ادا کرنا زیادہ ضروری ہے ۔ (بخاری، مسلم)ترجمہ حدیث 8:حضرت ابن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما نے کہا کہ حضورﷺنے فرمایا کہ عورت بغیر محرم کے ہر گز سفر نہ کرے ( چاہے وہ حج ہی کا سفر کیوں نہ ہو)۔ترجمہ حدیث 9:حضرت علیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمعلیہ الصلاۃ والتسلیمنے فرمایا کہ جو شخص زادِ راہ اور بیتاللّٰہشریف تک پہنچادینے والی سواری کے مصارف کا مالک ہو اور پھر اس نے حج نہیں کیا تو اس کے یہودی یا نصرانی ہو کر مرنے میں کوئی فرق نہیں اور یہ اس لیے کہاللّٰہتعالیٰ نے فرمایا ہے ۔ {وَ لِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْهِ سَبِیْلًاؕ-} یعنی خدائے تعالیٰ کے لیے بیتاللّٰہکا حج کرنا لوگوں پر فرض ہے جب کہ حج کے تمام ضروری مصارف کا مالک ہو۔
شرح حدیث
شرح حدیث 1:معلوم ہوا کہ حضور اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّما حکام شرعیہ پر اختیار کلی رکھتے ہیں کہ اگر چاہتے تو ہر سال حج کرنا فرض فرمادیتے ۔انتباہ :(۱)… دکھاوے کے لیے حج کرنا اور مال حرام سے حج کو جانا حرام ہے ۔ ([1])(درمختار، رد المحتار، بہار شریعت، ج۶، ص ۷۱۹)
(۲)…حج کرنے کے لیے بھی تصویر اور فوٹو کھنچاناجائز نہیں خواہ حج فرض ہو یا نفل۔ اس لیے کہ گناہ سے بچنا کسی نیکی کے اکتساب سے اہم و اعظم ہے ۔
جیسا کہ فتاویٰ رضویہ جلد سوم ص: ۷۲۹ پر اشباہ سے ہے : ’’اِعْتِنَاءُ الشَّرْعِ بِالْمَنْہِیَّاتِ أَشَدُّ مِنْ اِعْتِنَاءِہِ بِالْمَأْمُورَاتِ‘‘۔ ([2])
(۳)…عورت کو مکہ شریف تک جانے میں تین روز یا زیادہ کا راستہ ہو تو اس کے ہمراہ شوہر یا محرم ہونا ضروری ہے خواہ وہ جوان عورت ہو یا بوڑھی۔ محرم سے مراد وہ مرد ہے کہ جس سے ہمیشہ کے لیے اس عورت کا نکاح حرام ہے ۔ خواہ نسبت کی وجہ سے نکاح حرام ہو جیسے باپ، بیٹا ، اور بھائی وغیرہ یا دودھ کے رشتہ سے نکاح کی حرمت ہو جیسے رضاعی بھائی باپ بیٹا وغیرہ یا سسرالی رشتہ سے حرمت آئی ہو جیسے خسر، شوہر کا بیٹا وغیرہ۔ ([3]) (بہار شریعت)
(۴)…شوہر یا محرم جس کے ساتھ عورت سفر کرسکتی ہے اس کا عاقل بالغ غیر فاسق ہونا شرط ہے ۔ مجنون یا نابالغ یا فاسق کے ساتھ نہیں جاسکتی۔ ([4]) (عالمگیری، درمختار، بہار شریعت)
(۵)…عورت کو بغیر محرم یا شوہر کے حج کے لیے جانا حرام ہے اگر حج کرے گی تو ہوجائے گا مگر ہر قدم پرگناہ لکھا جائے گا۔ ([5])(فتاوی رضویہ، جلد چہارم، ص ۶۹۱)
بعض عورتیں بغیر محرم اپنے پیر یا کسی بوڑھے آدمی کے سا تھ حج کو جاتی ہیں یہ بھی ناجائز و حرام ہے ۔
(۶)…عورت کے ساتھ شوہر اور محرم نہ ہو تو اس پر واجب نہیں کہ حج کے جانے کے لیے نکاح کرے ۔ ([6])
(بہار شریعت)
(۷)… اگر حج کے مصارف کا مالک ہو اور احباب کے لیے تحفہ و تحائف لانے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تب بھی حج کو جانا فرض ہے ۔ اس کی وجہ سے حج نہ کرنا حرام ہے ۔ ([7])(بہار شریعت)
(۸)…سرکارِ اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے روضۂ انور کی حاضری اور بیتاللّٰہشریف نیز دیگر مقاماتِ مقدسہ کی زیارت کے بعد حاجیوں کو چاہیے تو یہ تھا کہ اپنے عزیز و اقارب میں مذہبی رنگ پیدا کرتے مگر افسوس کہ ایسا کرنے کے بجائے وہاں سے ریڈیو لا کر اپنے عزیز واقارب کو دیتے ہیں جس سے وہ اکثر اوقات گانا بجانا سن کر گناہ کماتے رہتے ہیں۔ اور ساتھ ہی ریڈیو لانے والے حاجی کا نامۂ اعمال بھی سیاہ ہوتا رہتا ہے ۔اَلْعِیَاذُ بِاللّٰہتَعَالَی قَالَ اللّٰہ تَعَالَی:{تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪-}(پارہ۶،رکوع۵)
(۸)…جس نے پاک مال، پاک کمائی، پاک نیت سے حج کیا اور اس میں لڑائی جھگڑا نیز ہر قسم کے گناہ ونافرمانی سے بچا پھر حج کے بعدفوراً مر گیا اتنی مہلت نہ ملی کہ جو حقوقاللّٰہیا حقوق العباد اس کے ذمے تھے انہیں ادا کرتا یا ادا کرنے کی فکر کرتا۔ تو حج قبول ہونے کی صورت میں امید قوی ہے کہاللّٰہتعالیٰ اپنے تمام حقوق کو معاف فرمادے اور حقوق العباد کو اپنے ذمۂ کرم پر لے کر حق والوں کو قیامت کے دن راضی کرے اور خصومت سے نجات بخشے ۔ ([8])(اعجب الامداد للامام احمدرضا)اور اگر حج کے بعد زندہ رہا اور حتی الامکان حقوق کا تدارک کرلیا یعنی سالہا ئے گزشتہ کی مابقی زکوۃ ادا کردی چھوٹی ہوئی نماز اور روزہ کی قضا کی، جس کا حق مار لیا تھا اس کو یا مرنے کے بعد اس کے وارثین کو دے دیا، جسے تکلیف پہنچائی تھی معاف کرالیا جو صاحب حق نہ رہا اس کی طرف سے صدقہ کردیا۔ اگر حقوقاللّٰہاور حقوق العباد میں سے ادا کرتے کرتے کچھ رہ گیا تو موت کے وقت اپنے مال میں سے ان کی ادائیگی کی وصیت کرگیا۔ خلاصہ یہ کہ حقوقاللّٰہاور حقوق العباد میں سے چھٹکارے کی ہر ممکن کوشش کی تو اس کے لیے بخشش کی اور زیادہ امید ہے ۔ ([9]) (اعجب الامداد)
ہاں اگر حج کے بعد قدرت ہونے کے باوجود ان امور سے غفلت برتی انہیں ادا نہ کیا تو یہ سب گناہ ازسرِ نو اس کے ذمہ ہوں گے اس لیے کہ حقوقاللّٰہو حقوق العباد تو باقی ہی تھے ان کی ادائیگی میں تاخیر کرنا پھر تازہ گناہ ہوا جس کے ازالہ کے لیے وہ حج کافی نہ ہوگا۔ اس لیے کہ حج گزرے گناہوں یعنی وقت پر نماز و روزہ وغیرہ ادا نہ کرنے کی تقصیر کو دھوتا ہے ۔ حج سے قضا شدہ نماز اور روزہ ہر گز نہیں معاف([10])ہوتے اور نہ آئندہ کے لیے پروانۂ آزادی ملتا ہے بلکہ مقبول([11])حج کی نشانی ہی یہ ہے کہ حاجی پہلے سے اچھا ہو کر واپس ہو۔ ([12])(اعجب الامداد)
آج کل بہت سے حضرات برسہا برس حقوقاللّٰہیعنی نماز و روزہ اور زکاۃ وغیرہ نہیں ادا کر تے نیز حقوق العباد کی کچھ پروا نہیں کرتے ، کسی کا قتل کرتے ہیں، کسی کی زمین غصب کرلیتے ہیں۔ کسی کا مال چراتے ہیں کسی کا روپیہ لے لیتے ہیں اور کسی کو ستاتے ہیں ۔ پھر حج کر آتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا سب گناہ معاف ہوگیا نہ اب چھوٹی ہوئی قضا نمازیں پڑھنی ہیں نہ بندوں کے حقوق معاف کرانا ہے یہ ان کی سخت غلط فہمی ہے ۔
مولیٰ تعالیٰ مسلمانوں کو توفیق عطا فرمائے کہ وہ حقوقاللّٰہاور حقوق العباد کما حقہ ادا کریں ۔
’’آمِیْن بِجَاہِ حَبِیْبِہِ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ صَلَوَاتُ اللّٰہتَعَالَی وَسَلَامُہُ عَلَیْہِ وَعَلَیْھِمْ أَجْمَعِیْنَ‘‘
حاجیوں آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چکے ، کعبہ کا کعبہ دیکھو
------------------
∞[1] ’’بہار شریعت‘‘، ج ۱، ص۱۰۳۶، ’’الدر المختار ورد المحتار‘‘،مطلب فیمن حج بمال إلخ،ج۳،ص۵۱۹.[2] ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘،ج۸،ص۴۰۶.[3] ’’بہارِ شریعت‘‘ ، ج۱، ص۱۰۴۴.[4] ’’بہارِ شریعت‘‘ ، ج۱، ص۱۰۴۴، ’’الدر المختار‘‘،کتاب الحج،ج۳،ص۵۳۱۔ ۵۳۲.[5] ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘،ج۱۰،ص۷۰۶۔ ۷۰۷.[6] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۱، ص۱۰۴۵، ’’الجوھرۃ النیرۃ‘‘،کتاب الحج،ص۱۹۳.[7] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۱، ص۱۰۴۰، ’’رد المحتار‘‘،کتاب الحج،مطلب فیمن حج بمال إلخ،ج۳،ص۵۲۸.[8] ’’أعجب الإمداد فی مکفرات حقوق العباد‘‘،ص۲۷.[9] ’’أعجب الإمداد فی مکفرات حقوق العباد‘‘،ص۲۸.[10] ردالمحتار جلد دوم ص:۲۶۱ میں اس مسئلہ پر بحث کے بعد فرمایا کہ: ’’وَالْحَاصِلُ أَنَّ تَأْخِیرَ الدَّیْنِ وَغَیْرِہِ وَتَأْخِیر نَحْوِ الصَّلَاۃِ وَالزَّکَاۃِ مِنْ حُقُوقِہِ تَعَالَی فَیَسْقُطُ إثْمُ التَّأْخِیرِ فَقَطْ عَمَّا مَضَی دُونَ الْأَصْلِ وَدُونَ التَّأْخِیرِ الْمُسْتَقْبِلِ قَالَ فِی الْبَحْرِ فَلَیْسَ مَعْنَی التَّکْفِیرِ کَمَا یَتَوَہَّمُہُ کَثِیرٌ مِنَ النَّاسِ أَنَّ الدَّیْنَ یَسْقُطُ عَنْہُ وَکَذَا قَضَاءُ الصَّلاۃِ وَالصَّوْمِ وَالزَّکَاۃِ إذْ لَمْ یَقُلْ أَحَدٌ بِذَلِکَ‘‘پھر ص:۲۶۲ پر فرمایا’’وَالْحَاصِلُ کَمَا فِی الْبَحْرِ أَنَّ الْمَسْأَلَۃَ ظَنِّیَّۃٌ فَلا یُقْطَعُ بِتَکْفِیرِ الْحَجِّ لِلْکَبَاءِرِ مِنْ حُقُوقِہِ تَعَالَی فَضْلًا عَنْ حُقُوقِ الْعِبَادِ‘‘۔ (’’رد المحتار‘‘،کتاب الحج،مطلب فی تکفیر الحج الکبائر،ج۴،ص۵۸۔ ۵۹)[11] اشعۃ اللمعات جلد دوم ص :۳۰۲میں ہے :’’ α گفتہ اند نشان حج مبرور آن ست کہ بہتر از انکہ رفتہ است برگردد بیاید راغب در آخرت وزاہد در دینا وبمعاصی عود نہ کند‘‘ ∞۱۲منہ (’’اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب المناسک،الفصل الأول،ج۲،ص۳۲۰)[12] ’’أعجب الإمداد فی مکفرات حقوق العباد‘‘،ص۲۹.
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 49