- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- کتاب الجنائز
- حدیث نمبر 36
میت پر رونا - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 36
کتاب الجنائز
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
’’عَنْ عَبْدِ اللّٰہ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَلَا تَسْمَعُونَ إِنَّ اللّٰہ لَا یُعَذِّبُ بِدَمْعِ الْعَیْنِ وَلَا بِحُزْنِ الْقَلْبِ وَلَکِنْ یُعَذِّبُ بِہَذَا وَأَشَارَ إِلَی لِسَانِہِ أَوْ یَرْحَمُ وَإِنَّ الْمَیِّتَ لَیُعَذَّبُ بِبُکَاء أَہْلِہِ عَلَیْہِ‘‘
حدیث 2:
’’عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّہُ مَہْمَا کَانَ مِنْ الْعَیْنِ وَ مِنَ الْقَلْبِ فَمِنَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ وَمِنَ الرَّحْمَۃِ وَمَا کَانَ مِنَ الْیَدِ وَ مِنَ اللِّسَانِ فَمِنَ الشَّیْطَانِ ‘‘۔
حدیث 3:
’’عَنْ أَبِیْ مُوسَی الْأَشْعَرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا مَاتَ وَلَدُ الْعَبْدِ قَالَ اللّٰہ تَعَالَی لِمَلَاءِکَتِہِ قَبَضْتُمْ وَلَدَ عَبْدِی فَیَقُولُونَ نَعَمْ فَیَقُولُ قَبَضْتُمْ ثَمَرَۃَ فُؤَادِہِ فَیَقُولُونَ نَعَمْ فَیَقُولُ مَاذَا قَالَ عَبْدِی فَیَقُولُونَ حَمِدَکَ وَاسْتَرْجَعَ فَیَقُولُ اللّٰہ ابْنُوا لِعَبْدِی بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ وَسَمُّوہُ بَیْتَ الْحَمْدِ‘‘۔
حدیث 4:
’’عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمَیْنِ یُتَوَفَّی لَہُمَا ثَلَاثَۃٌ إِلَّا أَدْخَلَہُمَا اللّٰہ الْجَنَّۃَ بِفَضْلِ رَحْمَتِہِ إِیَّاہُمَا فَقَالُوا یَا رَسُولَ اللّٰہ أَوْ اثْنَانِ قَالَ أَوْ اثْنَانِ قَالُوا أَوْ وَاحِدٌ قَالَ أَوْ وَاحِدٌ ثُمَّ قَالَ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ إِنَّ السِّقْطَ لَیَجُرُّ أُمَّہُ بِسَرَرِہِ إِلَی الْجَنَّۃِ إِذَا احْتَسَبَتْہُ‘‘۔
حدیث 5:
’’ عَنْ عَبْدِ اللّٰہ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ لَمَّا جَاء نَعْیُ جَعْفَرٍ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِصْنَعُوا لِآلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا فَقَدْ أَتَاہُمْ مَا یَشْغَلُہُمْ‘‘۔
حدیث 1:
’’عن عبد اللہ بن عمر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الا تسمعون إن اللہ لا یعذب بدمع العین ولا بحزن القلب ولکن یعذب بہذا واشار إلی لسانہ او یرحم وإن المیت لیعذب ببکاء اہلہ علیہ‘‘
حدیث 2:
’’عن ابن عباس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إنہ مہما کان من العین و من القلب فمن اللہ عز وجل ومن الرحمۃ وما کان من الید و من اللسان فمن الشیطان ‘‘۔
حدیث 3:
’’عن ابی موسی الاشعری قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا مات ولد العبد قال اللہ تعالی لملاءکتہ قبضتم ولد عبدی فیقولون نعم فیقول قبضتم ثمرۃ فؤادہ فیقولون نعم فیقول ماذا قال عبدی فیقولون حمدک واسترجع فیقول اللہ ابنوا لعبدی بیتا فی الجنۃ وسموہ بیت الحمد‘‘۔
حدیث 4:
’’عن معاذ بن جبل قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما من مسلمین یتوفی لہما ثلاثۃ إلا ادخلہما اللہ الجنۃ بفضل رحمتہ إیاہما فقالوا یا رسول اللہ او اثنان قال او اثنان قالوا او واحد قال او واحد ثم قال والذی نفسی بیدہ إن السقط لیجر امہ بسررہ إلی الجنۃ إذا احتسبتہ‘‘۔
حدیث 5:
’’ عن عبد اللہ بن جعفر قال لما جاء نعی جعفر قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم اصنعوا لآل جعفر طعاما فقد اتاہم ما یشغلہم‘‘۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث 1:حضرت عبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما نے کہا کہ رسول ِ کریمﷺنے فر مایا کہ خبردار ہو کر سن لو کہ آنکھ کے آنسو اور دل کے غم کے سبب خدائے تعالیٰ عذاب نہیں فرماتا۔ (اور زبان کی طرف اشارہ کرکے فرمایا) لیکن اس کے سبب عذاب یا رحم فرماتا ہے ۔ ا ور گھر والوں کے رونے کی وجہ سے میت پر عذاب ہوتا ہے ۔ ( جب کہ اس نے رونے کی وصیت کی ہو یا وہاں رونے کا رواج ہو اور اس نے منع نہ کیا ہو یا یہ مطلب ہے کہ ان کے رونے سے میت کو تکلیف ہوتی ہے )۔ (بخاری، مسلم)ترجمہ حدیث 2:حضرت ابن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما نے کہا کہ حضورﷺنے فرمایا کہ جو آنسو آنکھ سے ہو اور جو غم سے ہو تو وہاللّٰہتعالیٰ کی جانب سے ہے اور اس کی رحمت کا حصہ ہے اور غم کا جو اظہار ہاتھ اور زبان سے ہو وہ شیطان کی طرف سے ہے ۔ (مشکوۃ)ترجمہ حدیث 3:حضرت ابو موسی اشعریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمعلیہ الصلاۃ والتسلیمنے فرمایا کہ جب کسی مومن بندہ کا بیٹا مرجاتا ہے تو خدائے تعالیٰ ملائکہ سے فرما تا ہے کہ تم نے میرے بندہ کے بیٹے کی روح قبض کرلی تو وہ عرض کر تے ہیں ہاں، پھر خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم نے اس کے دل کے میوہ کو توڑ لیا۔ تو وہ عرض کرتے ہیں ہاں۔ پھر خدائے تعالیٰ فرماتا ہے (اس مصیبت پر)میرے بندہ نے کیا کہا ؟ تو فرشتے عرض کرتے ہیں کہ تیری تعریف کی اورإِنَّا ﷲِ وإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَپڑھا تو خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے اس بندہ کے لیے جنت میں ایک گھر بناؤ اور اس کا نام بیت الحمد رکھو۔ (احمد، ترمذی)ترجمہ حدیث 4:حضرت معاذ بن جبلرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورﷺنے فرمایا کہ جن دو مسلمان یعنی میاں بیوی کے تین بچے مرجائیں تو خدائے تعالیٰ ان دونوں کو اپنے فضل و رحمت سے جنت میں داخل فرمائے گا۔ صحابہ نے عرض کیا یارسولاللّٰہ!اگر دو بچے انتقال کرجائیں تو حضور نے فرمایا دو کا بھی یہی اجر ہے ۔ پھر صحابہ نے عرض کیا یارسولاللّٰہ! اور اگر ایک فوت ہوجائے تو حضور نے فرمایا ایک کا بھی یہی اجر ہے ۔ پھر فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے کہ خام حمل جو ساقط ہوجاتا ہے اپنی ماں کو’’ آنول‘‘کے ذریعہ جنت کی طرف کھینچے گا۔ جب کہ ماں ( اس تکلیف پر ) صبر اور ثواب کی طالب ہوئی ہو۔ (احمد، مشکوۃ)ترجمہ حدیث 5:حضرت عبداللّٰہبن جعفررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما نے فرمایا کہ جب حضرت جعفر کی شہادت کی خبر آئی تو نبی کریمعلیہ الصلاۃ والتسلیمنے فرمایا کہ جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو اس لیے کہ ان کو وہ مصیبت پہنچی ہے جو انہیں کھانا پکانے سے باز رکھے گی۔ (ترمذی، ابوداود، ابن ماجہ)
شرح حدیث
شرح حدیث 5:اس حدیث کے تحت حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں کہ:
’’دریں حدیث دلیل است بر آنکہ مستحب ست خویشاں وہمسائیگان ودوستان راتہیئہ طعام مراہل میت را‘‘۔ ([1])یعنی اس حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ رشتہ داروں ، پڑوسیوں اور دوستوں کو میت کے گھر پکا ہوا کھانا لانا مستحب ہے ۔ (اشعۃ اللمعات، جلد اول)انتباہ:(۱) …نوحہ یعنی میت کے اوصاف مبالغہ کے ساتھ بیان کرکے آواز سے رونا جس کو بَین کہتے ہیں۔ بالاجماع حرام ہے ۔ ([2])(بہار شریعت بحوالہ جوھرہ)
(۲) …گریبان پھاڑنا، منہ نوچنا ، بال کھولنا، سر پر مٹی ڈالنا ، ران پرہاتھ مارنا اور سینہ کوٹنا سب جاہلیت کے کام ہیں۔ ناجائز اور گناہ ہیں۔ ([3])(فتاوی عالمگیری، جلد اول مصری، ص ۱۵۷)
(۳) …آواز سے رونا منع ہے اور آواز بلند نہ ہو تو اس کی ممانعت نہیں۔ ([4])((بہارشریعت)
(۴) … تعزیت مسنون ہے اور اس کاوقت موت سے تین دن تک ہے اس کے بعد مکروہ ہے ، اور اگر کوئی موجود نہ تھا یا علم نہ تھا تو بعد میں حرج نہیں ۔ ([5])(بہار شریعت، بحوالہ ردالمحتار وغیرہ)
(۵) … تعزیت میں یہ کہے کہ خدائے تعالیٰ میت کی مغفرت فرمائے اور اس کو اپنی رحمت میں ڈھانکے اور تم کو صبر کی توفیق دے اور مصیبت پر ثواب عطا فرمائے ، یا اسی کے مثل دوسرے جملے کہے ۔
(۶) …میت کے گھر صرف پہلے دن کھانا بھیجنا سنت ہے اس کے بعد مکروہ ہے ۔ ([6])(بہار شریعت بحوالہ عالمگیری)
(۷) … میت کے گھر والے تیجہ کے دن یا اس کے بعد میت کے ایصالِ ثواب کے لیے فقراء اور مساکین کو کھانا کھلائیں تو بہتر ہے لیکن دوست احباب اور عام مسلمانوں کی دعوت کریں تو ناجائز و بدعت قبیحہ ہے کہ دعوت توخوشی کے وقت مشروع ہے نہ کہ غم کے وقت۔ فتاویٰ عالمگیری جلد اول مصری ص:۱۵۷میں ہے : ’’لَا یُبَاحُ اتِّخَاذُ الضِّیَافَۃِ عِنْدَ ثَلاثَۃِ أَیَّامٍ کَذَا فِی التَّتَارْخَانِیَّۃ‘‘۔ ([7])
اور ردالمحتار جلد اول ص: ۶۲۹اور فتح القدیر جلد دوم ص:۱۰۲میں ہے : ’’وَیُکْرَہُ اتِّخَاذُ الضِّیَافَۃِ مِنَ الطَّعَامِ مِنْ أَہْلِ الْمَیِّتِ لِأَنَّہُ شُرِعَ فِی السُّرُورِ لَا فِی الشُّرُورِ وَہِیَ بِدْعَۃٌ مُسْتَقْبَحَۃٌ‘‘۔ ([8])(۸) … تیجہ وغیرہ کا کھانا اکثر میت کے ترکہ سے کیا جاتا ہے اس میں یہ لحاظ ضروری ہے کہ ورثہ میں نابالغ نہ ہو ور نہ سخت حرام ہے لیکن بالغ اگر اپنے حصہ سے کرے تو حرج نہیں۔ ([9])(بہار شریعت بحوالہ خانیہ)
------------------
∞[1] ’’اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب الجنائز،باب البکاء علی المیت،الفصل الثانی،ج۱،ص۷۵۳.[2] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۱، ص ۸۵۴، ’’الجوہرۃ النیرۃ‘‘،کتاب الصلاۃ،باب الجنائز،ص۱۳۹.[3]الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الصلاۃ،مسائل فی التعزیۃ،ج۱،ص۱۶۷.[4] ’’بہار شر یعت‘‘، ج۱، ص ۸۵۵، ’’الجوہرۃ النیرۃ‘‘،کتاب الصلاۃ،باب الجنائز،ص۱۳۹.[5] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۱، ص ۸۵۲، ’’رد المحتار‘‘،کتاب الصلاۃ،مطلب فی کراھۃ إلخ،ج۳،ص۱۷۷.[6] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۱، ص ۸۵۴، ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الصلاۃ،ج۵،ص۳۴۴.[7] ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الصلاۃ،مسائل فی التعزیۃ،ج۱،ص۱۶۷.[8] ’’رد المحتار‘‘،کتاب الصلاۃ،باب صلاۃ الجنازۃ،ج۳،ص۱۷۵، ’’فتح القدیر‘‘،کتاب الصلاۃ،باب الجنائز،فصل فی الدفن،ج۲،ص۱۵۱.[9] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۱، ص ۸۵۳، ’’الفتاوی الخانیۃ‘‘،کتاب الحظر والاباحۃ،ج۴،ص۳۶۶.
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 36