- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- کتاب الزکاۃ
- حدیث نمبر 40
زکوٰۃ کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 40
کتاب الزکاۃ
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
’’عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنِ اسْتَفَادَ مَالًا فَلَا زَکَاۃَ فِیْہِ حَتَّی یَحُولَ عَلَیْہِ الْحَوْلُ‘‘۔
حدیث 2:
’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ صَاحِبِ ذَہَبٍ وَلَا فِضَّۃٍ لَا یُؤَدِّی مِنْہَا حَقَّہَا إِلَّا إِذَا کَانَ یَوْم الْقِیَامَۃِ صُفِّحَتْ لَہُ صَفَاءِحُ مِنْ نَارٍ فَأُحْمِیَ عَلَیْہَا فِی نَارِ جَہَنَّمَ فَیُکْوَی بِہَا جَنْبُہُ وَجَبِینُہُ وَظَہْرُہُ کُلَّمَا بَرَدَتْ أُعِیدَتْ لَہُ‘‘۔
حدیث 3:
’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ آتَاہُ اللّٰہ مَالًا فَلَمْ یُؤَدِّ زَکَاتَہُ مُثِّلَ لَہُ مَالُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شُجَاعًاأَقْرَع لَہُ زَبِیبَتَانِ یُطَوَّقُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ثُمَّ یَأْخُذُ بِلِہْزِمَتَیْہِ یَعْنِی بِشِدْقَیْہِ ثُمَّ یَقُولُ أَنَا مَالُکَ أَنَا کَنْزُکَ ثُمَّ تَلَا {وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِینَ یَبْخَلُونَ بِمَا اَتَاہُمُ اللّٰہ مِنْ فَضْلِہِ ہُوَ خَیْرًا لَہُمْ بَلْ ہُوَ شَرٌّ لَہُمْ سَیُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ}‘‘۔
حدیث 4:
’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَکُونُ کَنْزُ أَحَدِکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شُجَاعًا أَقْرَع یَفِرُّ مِنْہُ صَاحِبُہُ وَہُوَ یَطْلُبُہُ حَتَّی یُلْقِمَہُ أَصَابِعَہُ‘‘۔
حدیث 5:
’’ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ اِمْرَأَتَیْنِ أَتَتَا رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَفِی أَیْدِیَہُمَا سُوَارَانِ مِنْ ذَہَبٍ فَقَالَ لَہُمَا أَتُؤَدِّیَانِ زَکَاتَہُ قَالَتَا لَا فَقَالَ لَہُمَا رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَتُحِبَّانِ أَنْ یُسَوِّرَکُمَا اللّٰہ بِسُوَارَیْنِ مِنْ نَارٍ قَالَتَا لَا قَالَ فَأَدِّیَا زَکَاتَہُ‘‘۔ (
حدیث 6:
’’ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَأْمُرُنَا أَنْ نُخْرِجَ الصَّدَقَۃَ مِنَ الَّذِی نُعِدُّ لِلْبَیْعِ‘‘۔
حدیث 7:
’’عَنْ مُوسَی بْنِ طَلْحَۃَ قَالَ عِنْدَنَا کِتَابُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا أَمَرَہُ أَنْ یَأْخُذَ الصَّدَقَۃَ مِنَ الْحِنْطَۃِ وَالشَّعِیرِ وَالزَّبِیبِ وَالتَّمْرِ‘‘۔
حدیث 1:
’’عن ابن عمر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من استفاد مالا فلا زکاۃ فیہ حتی یحول علیہ الحول‘‘۔
حدیث 2:
’’عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما من صاحب ذہب ولا فضۃ لا یؤدی منہا حقہا إلا إذا کان یوم القیامۃ صفحت لہ صفاءح من نار فاحمی علیہا فی نار جہنم فیکوی بہا جنبہ وجبینہ وظہرہ کلما بردت اعیدت لہ‘‘۔
حدیث 3:
’’عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من آتاہ اللہ مالا فلم یؤد زکاتہ مثل لہ مالہ یوم القیامۃ شجاعااقرع لہ زبیبتان یطوقہ یوم القیامۃ ثم یاخذ بلہزمتیہ یعنی بشدقیہ ثم یقول انا مالک انا کنزک ثم تلا {ولا یحسبن الذین یبخلون بما اتاہم اللہ من فضلہ ہو خیرا لہم بل ہو شر لہم سیطوقون ما بخلوا بہ یوم القیامۃ}‘‘۔
حدیث 4:
’’عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یکون کنز احدکم یوم القیامۃ شجاعا اقرع یفر منہ صاحبہ وہو یطلبہ حتی یلقمہ اصابعہ‘‘۔
حدیث 5:
’’ عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ ان امراتین اتتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفی ایدیہما سواران من ذہب فقال لہما اتؤدیان زکاتہ قالتا لا فقال لہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتحبان ان یسورکما اللہ بسوارین من نار قالتا لا قال فادیا زکاتہ‘‘۔ (
حدیث 6:
’’ عن سمرۃ بن جندب ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یامرنا ان نخرج الصدقۃ من الذی نعد للبیع‘‘۔
حدیث 7:
’’عن موسی بن طلحۃ قال عندنا کتاب معاذ بن جبل عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال إنما امرہ ان یاخذ الصدقۃ من الحنطۃ والشعیر والزبیب والتمر‘‘۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث 1:حضرت ابن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمانے کہا کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ جو شخص مال حاصل کرے تو اس پر اس وقت تک زکوۃ نہیں جب تک کہ اس پر ایک سال نہ گزر جائے ۔ (ترمذی)ترجمہ حدیث 2:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورﷺنے فرمایا کہ جو شخص سونے یا چاندی کے شرعی نصاب کا مالک ہو اور وہ اس کا حق یعنی زکاۃ نہ ادا کرے تو قیامت کے دن اس کے لیے اس سونے اور چاندی کی سلیں بنائی جائیں گی اور انہیں آگ میں تپایا جائے گا۔ پھر ان آتشیں سلوں سے اس کے پہلو ، پیشانی اور پیٹھ کو داغا جائے گا اور جب وہ ٹھنڈی ہو جائے گی تو پھر دوزخ کی آگ میں تپا کر داغا جائے گا اور ہمیشہ اسی طرح ہوتا رہے گا۔ (مسلم)ترجمہ حدیث 3:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ سرکارِ اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ جس شخص کو خدائے تعالیٰ نے مال عطا کیا تو اس نے اس کی زکوۃ نہیں ادا کی تو اس کے مال کو قیامت کے دن گنجے سانپ کی شکل میں تبدیل کردیا جائے گا جس کے سر پر دو چتیاں ہوں گی وہ سانپ اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا پھر وہ سانپ اس کی باچھیں پکڑے گا اور کہے گا کہ میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں اس کے بعد حضور نے (پارہ ۴ رکوع ۹ کی) آیت کریمہ تلاوت کیوَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِینَ إلخیعنی اور جو لوگ بخل کرتے ہیں اس چیز میں جسے خدائے تعالیٰ نے انہیں اپنے فضل سے عطا کی ( تو انجام کار) ہر گز اسے اپنے لیے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لیے برا ہے ، عنقریب وہ مال کہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگا۔ (بخاری)ترجمہ حدیث 4:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسول ِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ تمہارا خزانہ قیامت کے دن ایک گنجا سانپ بنے گا۔ اس کا مالک اس سے بھاگے گا اور وہ سانپ اس کو ڈھونڈتا پھرے گا۔ یہاں تک کہ اس کو پالے گا اور اس کی انگلیوں کو لقمہ بنائے گا۔ (احمد)ترجمہ حدیث 5:حضرت عمرو بن شعیبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمااپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ دو عورتیں حضورﷺکی خدمت میں حاضر ہوئیں اور ان کے ہاتھوں میں سونے کے دوکنگن تھے آپ نے ان سے پوچھا کیا تم ان کی زکوۃ دیتی ہو؟ انہوں نے عرض کیا نہیں آپ نے ان سے فرمایا کیا تم اس بات کو پسند کرتی ہو کہ خدائے تعالیٰ تم کو آگ کے دوکنگن پہنائے ؟ انہوں نے عرض کیا نہیں۔ آپ نے فرمایا تو پھر ان کی زکوۃ ادا کیا کرو۔ (ترمذی)ترجمہ حدیث 6:حضرت سمرہ بن جندبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورﷺہم کو حکم فرمایا کر تے تھے کہ ہم تجارت کے لیے تیار کی جانے والی چیزوں کی زکوۃ نکالا کریں۔ (ابو داود)ترجمہ حدیث 7:حضرت موسیٰ بن طلحہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ ہمارے پاس حضرت معاذ بن جبلرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکا وہ خط موجود ہے جسے حضور نے انہیں بھیجا تھا۔ روای نے کہا کہ حضور نے معاذ بن جبل کو حکم فرمایا تھا کہ وہ گیہوں، جو، انگور اور کھجور کی پیدوار میں(مسلمانوں سے ) زکوۃ وصول کریں۔ (شرح السنۃ، مشکوۃ)
شرح حدیث
انتباہ:(۱)… زکوۃ کے سلسلہ میں مالک ِ نصاب وہ شخص ہے جو ساڑھے باون تولے چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونے کا مالک ہو یا ان میں سے کسی ایک کی قیمت کے سامانِ تجارت کا مالک ہو اور مملوکہ چیزیں حاجت ِ اصلیہ سے زائد اور دین سے فارغ ہوں۔ ([1])
(۲)…زکوۃ کی ادائیگی میں تاخیر کرنے والا گنہگا ر مردود الشہادۃ ہے ۔ ([2])
اور فتاویٰ عالمگیری جلد اول مصری ص:۱۶۰ میں ہے : ’’تَجِبُ عَلَی الْفَوْرِ عِنْدَ تَمَامِ الْحَوْلِ حَتَّی یَأْثَمَ بِتَأْخِیرِہِ مِنْ غَیْرِ عُذْرٍ‘‘۔ ([3])
(۳)…زکوۃ کا روپیہ مردہ کی تجہیز و تکفین یا مسجد و مدرسہ کی تعمیر میں نہیں لگایا جاسکتا۔ جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری جلد اول مصری ص:۱۷۶میں ہے :’’لَا یَجُوزُ أَنْ یَبْنِیَ بِالزَّکَاۃِ الْمَسْجِدَ وَکَذَا الحجِّ وَکُلُّ مَا لَا تَمْلِیکَ فِیہِ وَلَا یَجُوزُ أَنْ یُکَفَّنَ بِہَا مَیِّتٌ وَلَا یُقْضَی بِہَا دَیْنُ الْمَیِّتِ کَذَا فِی التَّبْیِینِ ملخصاً‘‘۔ ([4])
(۴)…مالِ زکوۃ اگر مسجد اور مدرسہ وغیرہ کی تعمیر میں صَرف کرنا چاہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ کسی غریب آدمی کو دے دیں پھر وہ صرف کرے تو ثواب دونوں کو ملے گا۔ ([5])(رد المحتار، بہار شریعت)
(۵)…وہابیہ زمانہ کہ توہین خداو تنقیص شانِ رسالت کرتے ہیں جن کو اَکابر علمائے حرمین طیبین نے بالاتفاق کافر و مرتد فرمایا ہے اگرچہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہیں انہیں زکوۃ دینا حرام اور سخت حرام ہے اور اگر دی تو ہر گز ادا نہ ہوگی۔ ([6])(بہار شریعت)
(۶)…گیہوں ، جَو ، جوار ، باجرہ ، دھان اور ہرقسم کے غلّے ، السی، کسم ، اخروٹ ، بادام اور ہر قسم کے میوے ، روئی، پھول ، گنا ، خربز، تربز، کھیرا ، ککڑی ، بینگن اور ہر قسم کی ترکاریاں سب میں عشر واجب ہے ۔ تھوڑا پیدا ہو یا زیادہ ۔ ([7])(عالمگیر ی، بہار شریعت)
(۷)…جو کھیت بارش یا نہر نالے کے پانی سے سیراب کیا جائے ، اس میں عشر یعنی دسواں حصہ واجب ہے ۔ اور جس کی آب پاشی چرسے یا ڈول سے ہو اس میں نصف عشر یعنی پیدوار کا بیسواں حصہ واجب ہے ۔ اور اگر پانی خرید کر آب پاشی کی جب بھی بیسواں حصہ واجب ہے ([8])۔ (درمختار، ردالمحتار)
(۸)…جس چیز میں عُشر یا نصف عشر واجب ہوا اس میں کل پیداوار کا عشر یا نصف عشر دیا جائے گا۔ کھیتی کے اخراجات یعنی ہل، بیل حفاظت کرنے والے اور کام کرنے والوں کی اُجرت یا بیج وغیرہ کی قیمت ان میں سے کوئی خرچ بھی عشر میں منہا نہیں کیا جائے گا۔ ([9])(درمختار، بہارشریعت)
------------------
∞[1] مالک نصاب کی یہ تعریف صرف اموال باطنہ کے لحاظ سے ہے ۔ ۱۲منہ[2] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۱، ص ۸۷۴، ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الزکاۃ،ج۱،ص۱۷۰.[3] ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الزکاۃ،الباب الأول فی تفسیر الزکاۃ إلخ،ج۱،ص۱۷۰.[4] ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الزکاۃ،الباب السابع فی المصارف،ج۱،ص۱۸۸.[5] ’’بہارشریعت‘‘، ج۱، ص ۸۹۰، ’’رد المحتار‘‘،کتاب الزکاۃ،مطلب فی زکاۃ ثمن إلخ،ج۳،ص۲۲۷.[6] ’’بہارشریعت‘‘، ج۱، ص ۹۳۳.[7] ’’بہارشریعت‘‘، ج۱، ص ۹۱۸، ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الزکاۃ،الباب السادس فی زکاۃ الزرع والثمار،ج۱،ص۱۸۶.[8] کنویں اور ٹیوب ویل سے سیراب کرنے کا بھی یہی حکم ہے ۔ (تابش)۔ ’’الدر المختار ورد المحتار‘‘،کتاب الزکاۃ،باب العشر،ج۳،ص۳۱۶.[9] ’’بہارشریعت‘‘، ج۱، ص۹۱۸، ’’الدر المختار‘‘،کتاب الزکاۃ،باب العشر،ج۳،ص۳۱۷، .
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 40