Main Icon

دُرود شریف - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 22

کتاب الصلوٰۃ

حدیث مبارکہ

حدیث 1:
’’ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّی عَلَیَّ صَلَاۃً وَاحِدَۃً صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ عَشْرَ صَلَوَاتٍ وَحُطَّتْ عَنْہُ عَشْرُ خَطِیءَاتٍ وَرُفِعَتْ لَہُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ‘‘ ۔
حدیث 2:
’’ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَوْلَی النَّاسِ بِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَکْثَرُہُمْ عَلَیَّ صَلَاۃً ‘‘۔
حدیث 3:
’’عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ قُلْتُ یَا رَسُولَ اللّٰہ إِنِّی أُکْثِرُ الصَّلَاۃَ عَلَیْکَ فَکَمْ أَجْعَلُ لَکَ مِنْ صَلَاتِی فَقَالَ مَا شِئْتَ قَالَ قُلْتُ الرُّبُعَ قَالَ مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَہُوَ خَیْرٌ لَّکَ قُلْتُ النِّصْفَ قَالَ مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَہُوَ خَیْرٌ لَّکََ قُلْتُ فَالثُّلُثَیْنِ قَالَ مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَہُوَ خَیْرٌ لَّکَ قُلْتُ أَجْعَلُ لَکَ صَلَاتِی کُلَّہَا قَالَ إِذًا یکْفِی ہَمَّکَ وَیُکَفَّرُلَکَ ذَنْبُکَ‘‘۔
حدیث 4:
’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ ذُکِرْتُ عِنْدَہُ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ‘‘ ۔
حدیث 5:
’’ عَنْ عَلِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْبَخِیلُ الَّذِی مَنْ ذُکِرْتُ عِنْدَہُ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ‘‘ ۔
حدیث 6:
’’ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ إِنَّ الدُّعَاء مَوْقُوفٌ بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَا یَصْعَدُ مِنْہُ شَیْئٌ حَتَّی تُصَلِّیَ عَلَی نَبِیِّکَ‘‘ ۔

حدیث 1:
’’ عن انس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من صلی علی صلاۃ واحدۃ صلی اللہ علیہ عشر صلوات وحطت عنہ عشر خطیءات ورفعت لہ عشر درجات‘‘ ۔
حدیث 2:
’’ عن ابن مسعود قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اولی الناس بی یوم القیامۃ اکثرہم علی صلاۃ ‘‘۔
حدیث 3:
’’عن ابی بن کعب قال قلت یا رسول اللہ إنی اکثر الصلاۃ علیک فکم اجعل لک من صلاتی فقال ما شئت قال قلت الربع قال ما شئت فإن زدت فہو خیر لک قلت النصف قال ما شئت فإن زدت فہو خیر لک قلت فالثلثین قال ما شئت فإن زدت فہو خیر لک قلت اجعل لک صلاتی کلہا قال إذا یکفی ہمک ویکفرلک ذنبک‘‘۔
حدیث 4:
’’عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رغم انف رجل ذکرت عندہ فلم یصل علی‘‘ ۔
حدیث 5:
’’ عن علی قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم البخیل الذی من ذکرت عندہ فلم یصل علی‘‘ ۔
حدیث 6:
’’ عن عمر بن الخطاب قال إن الدعاء موقوف بین السماء والارض لا یصعد منہ شیئ حتی تصلی علی نبیک‘‘ ۔

حدیث ترجمہ

ترجمہ حدیث 1:حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ جو شخص مجھ پر ایک بار درود بھیجے گا خدائے تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمت نازل فرمائے گا اورا س کے دس گناہوں کو معاف فرمائے گا۔ اور دس درجے بلند فرمائے گا۔ (نسائی)صَلَّی اللّٰہ عَلَی النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَآلِہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَوۃً وَّسَلَاماً عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہترجمہ حدیث 2:حضرت ابنِ مسعود ر ضیاللّٰہتعالیٰ عنہ نے کہا کہ حضورنے فرمایا کہ قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ میرے قریب وہ شخص ہوگا جس نے سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجا ہے ۔ (ترمذی)أَللَّہُمَّ صَلِّ عَلَی سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّعَلَی آلِ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَسَلِّمترجمہ حدیث 3:حضرت ابی بن کعبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ میں نے عرض کیا یارسولاللّٰہ! میں آپ پر کثرت سے درود پڑھنا چاہتا ہوں اب اس کے لیے اپنے اوراد و وظائف کے اوقات میں سے کتنا وقت مقرر کروں؟ فرمایا جتنا تم چاہو ؟ عرض کیا چوتھائی؟فرمایا جتناتم چاہو اور اگر زیادہ کرلو تو تمہارے لیے اور بہتر ہے ۔ میں نے عرض کیا نصف ؟ فرمایا جتنا تم چاہو اور اگر اس سے بھی زیادہ کرلو تو تمہارے لیے بہتر ہے ۔ میں نے عرض کیا دو تہائی؟ فرمایا جتنا تم چاہو اگر زیادہ کرلو تو تمہارے لیے اور بہتر ہے میں نے عرض کیا تو پھر سارا وقت درود ہی کے لیے مقرر کرلوں؟ فرمایا ایسا ہو تو وہ تمہارے سارے اُمور کے لیے کافی ہوگا اور تمہارا گناہ معاف کردیاجائے گا۔ (ترمذی)صَلَّی اللّٰہ عَلَی النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَآلِہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَوۃً وَّسَلَاماً عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہترجمہ حدیث 4:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے ۔ (ترمذی)أَللَّھُمَّ صَلِّ عَلَی سَیِّدِنَا و َمَوْلنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلَی آلِ سَیِّدَنَا وَمَوْلنَا مُحَمَّدٍ مَعْدنِ الْجُوْدِ وَالْکَرَمِ وَأَصْحَابِہ وَبَارِکَ وَسَلّمترجمہ حدیث 5:حضرت علی کرماللّٰہ تعالیٰ وجہہنے کہا کہ حضورنے فرمایا کہ اصل میں بخیل وہ شخص ہے جس کے سامنے میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے ۔ (ترمذی)صَلَّی اللّٰہ عَلَی النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَآلِہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَوۃً وَّسَلَاماً عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہترجمہ حدیث 6:حضرت عمر بن الخطابرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ دعا آسمان و زمین کے درمیان معلق رہتی ہے اس میں سے کچھ اوپر نہیں چڑھتا جب تک کہ تو اپنے نبی پر درود نہ بھیجے ۔ (ترمذی)أَللَّہُمَّ صَلِّ وَسَلِّمِ وَبَارِکْ عَلَی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وآلِہِ وَصَحْبِہِ أَجْمَعِینَ

شرح حدیث

انتباہ:(۱)… اکثر لوگ آج کل درود شریف کے بدلے صلعم ، عم ، ص ، ع لکھتے ہیں یہ ناجائز و حرام ہے ۔ اور اگر معاذاللّٰہاستخفافِ شان کا قصد ہو تو قطعا کفر ہے ۔ اسی طرح صحابہ کرام اور اولیائے عظامر ضی اللّٰہ تعالیٰ عنہمکے اسمائے مبارکہ کے ساتھرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی جگہ رض لکھنا مکروہ و باعث محرومی ہے ۔ ([1]) (فتاوی افریقہ ، بہار شریعت)
(۱)…جن کے نام محمد ، احمد، علی ، حسن، حسین وغیرہ ہوتے ہیں۔ بعض لوگ ان ناموں پر ص، ع بناتے ہیں یہ بھی ممنوع ہے ۔ اس لیے کہ اس جگہ تو یہ شخص مر اد ہے اس پر درود کا اشارہ کیا معنی؟
٭…٭…٭…٭
دُرود گنج عاشقاںصَلَّی اللّٰہ عَلَی النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَآلِہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَوۃً وَّسَلَاماً عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہجو شخص حضور اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے سچی محبت رکھے ، تمام جہان سے زیادہ حضور کی عظمت دل میں جمائے ، حضور کی شان گھٹانے والوں سے بیزار اور ان سے دوررہے ، وہ اگر اس درود شریف کو بعد نماز جمعہ مدینہ طیبہ کی طرف منہ کرکے دست بستہ کھڑے ہو کر سو بار پڑھے تو اس کے لیے بے شمار فائدے ہیں جن میں سے بعض یہاں درج کیے جاتے ہیں۔ اس درود شریف کے پڑھنے والے پر خدائے تعالیٰ تین ہزار رحمتیں نازل فرمائے گا۔ اس پر دو ہزار اپنا سلام بھیجے گا۔ پانچ ہزار نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں لکھے گا۔ اس کے مال میں ترقی دے گا۔ اس کی اولاد اور اولاد کی اولاد میں برکت رکھے گا۔ دشمنوں پر غلبہ دے گا۔ کسی دن خواب میں سرکار اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی زیارت سے مشرف ہوگا۔ ایمان پر خاتمہ ہوگا قیامت میں حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی شفاعت واجب ہوگیاللّٰہتعالیٰ اس سے ایسا راضی ہوگا کہ کبھی ناراض نہ ہوگا۔
------------------
∞[1] ’’فتاوی افریقہ‘‘، ص۵۰، ’’بہار ِ شریعت‘‘، ج۱، ص۵۳۴، ’’
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار‘‘،خطبۃ الکتاب،ج۱،ص۶.

ماخذ و مراجع

کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 22