- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- کتاب الصوم
- حدیث نمبر 47
اعتکاف کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 47
کتاب الصوم
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
’’عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَعْتَکِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّی تَوَفَّاہُ اللّٰہ ‘‘۔
حدیث 2:
’’ عَنْ أَنَسِ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَعْتَکِفُ فِی الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَلَمْ یَعْتَکِفْ عَامًا فَلَمَّا کَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ اعْتَکَفَ عِشْرِینَ ‘‘۔
حدیث 1:
’’عن عائشۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان یعتکف العشر الاواخر من رمضان حتی توفاہ اللہ ‘‘۔
حدیث 2:
’’ عن انس قال کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یعتکف فی العشر الاواخر من رمضان فلم یعتکف عاما فلما کان العام المقبل اعتکف عشرین ‘‘۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث 1:حضرت عائشہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہاسے روایت ہے کہ نبی کر یمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمرمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے یہاں تک کہ ( اسی طریقے پر) وصال فرمایا۔ (بخاری، مسلم)ترجمہ حدیث 2:حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ حضورﷺرمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے اور ایک سال اعتکاف نہیں فرمایا تو دوسرے سال بیس دن اعتکاف فرمایا۔ (ترمذی، ابوداود)
شرح حدیث
شرح حدیث 2:رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنا سنت مؤکدہ ہے ۔ جیسا کہ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں:
’’اعتکاف در ظاہر مذہب حنفیہ سنت مؤکدہ است از جہت مواظبت رسولِ خدا صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ برآں تا انکہ گذشت ازیں عالم‘‘ ۔ ([1])
یعنی ظاہر مذہب حنفیہ میں اعتکاف سنت موکدہ ہے اس لیے کہ حضورﷺہمیشہ اعتکاف فرمایا کرتے تھے ۔ یہاں تک کہ اس دنیا سے تشریف لے گئے ۔ (اشعۃ اللمعات، جلد دوم، ص ۱۱۸)انتباہ:(۱) …اعتکاف کی تین قسمیں ہیں:
’’واجب‘‘ کہ اعتکاف کی منّت مانی مثلاً یوں کہا کہ میرا بچہ تندرست ہوگیا تو میں تین دن اعتکاف کروں گا۔ تو بچہ کے تندرست ہونے پر روزہ کے ساتھ تین دن کا اعتکاف واجب ہوگا۔
’’سنت مؤکدہ‘‘ کہ بیسویں رمضان کو سورج ڈوبتے وقت اعتکاف کی نیت سے مسجد میں ہو اور تیسویں رمضان کو غروب کے بعد یا انتیس کو چاند ہونے کے بعد نکلے ۔ یہ اعتکاف سنت کفایہ ہے یعنی اگر سب لوگ ترک کریں تو سب سے مطالبہ ہوگا۔ اور ایک نے کرلیا تو سب بری الذمہ ہوگئے ۔
ان دونوں کے علاوہ جو اعتکاف کیا جائے وہ’’مستحب‘‘ ہے ۔
جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری جلد اول ص:۱۹۷ میں ہے :’’یَنْقَسِمُ إلَی وَاجِبٍ وَہُوَ الْمَنْذُورُ تَنْجِیزًا أَوْ تَعْلِیقًا وَإِلَی سُنَّۃٍ مُؤَکَّدَۃٍ وَہُوَ فِی الْعَشْرِ الْأَخِیرِ مِنْ رَمَضَانَ،وَإِلَی مُسْتَحَبٍّ وَہُوَ مَا سِوَاہُمَا ہَکَذَا فِی فَتْحِ الْقَدِیرِ‘‘۔ ([2])
(۲) …اعتکاف کرنے والا دنیوی بات نہ کرے ، قرآن مجید کی تلاوت کرے ۔ حدیث شریف پڑھے اور درود شریف کی کثرت کرے ۔ علم دین پڑھنے پڑھانے میں مشغول ہو۔ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاور دیگر انبیائے کرامعلیہم الصلوۃ والسلاماور اولیائے عظام کی سیرت کی کتابیں پڑھے ۔
جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری جلد اول مصری ص:۱۹۸میں ہے : ’’لَا یَتَکَلَّمَ إلَّا بِخَیْرٍ وَیُلَازِم التِّلاوَۃَ وَالْحَدِیثَ وَالْعِلْمَ وَتَدْرِیسَہُ وَسِیَرَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالْأَنْبِیَاءِ عَلَیْہِمْ السَّلَامُ،وَأَخْبَارَ الصَّالِحِینَ کَذَا فِی فَتْحِ الْقَدِیرِ‘‘ملخصاً۔ ([3])
(۳) …مستحب اعتکاف کی آسان صورت یہ ہے کہ جب بھی مسجد میں داخل ہوں تو دروازہ پر دخولِ مسجد کی نیت کے ساتھ اعتکاف کی بھی نیت کرلیں جب تک مسجد میں رہیں گے اعتکاف کا بھی ثواب ملے گا۔ نیت کے الفاط یہ ہیں:
’’بِسْمِ اللّٰہدَخَلْتُ وَعَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَنَوَیْتُ سُنَّۃَ الْاِعْتِکَافِ اَللَّھُمَّ افْتَحْ لِی أَبْوَابَ رَحْمَتِکَ‘‘ ۔
یعنیاللّٰہتعالیٰ کے مقدس نام کی برکت کے ساتھ میں داخل ہوا اور اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور میں نے سنت اعتکاف کی نیت کی۔ بارِ الہٰا! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ۔
------------------
∞[1] ’’اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب الصوم،باب الاعتکاف،ج۲،ص۱۲۵.[2] ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الصوم،الباب السابع فی الاعتکاف،ج۱،ص۲۱۱.[3] ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الصوم،الباب السابع فی الاعتکاف،ج۱،ص۲۱۲.
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 47